قومی زبان

خود ہی روٹھے ہو تو پھر اس کا مداوا کیوں ہو

خود ہی روٹھے ہو تو پھر اس کا مداوا کیوں ہو ہم نہ کہتے تھے کہ ہاں رنجش بے جا کیوں ہو ہر بشر اپنی پریشاں نظری کے با وصف خود تماشا ہے تو پھر محو تماشا کیوں ہو دل کے بہلانے کو امید کرم رکھتے ہیں ورنہ یہ ہم بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہو دشت جو میری تمنا نہ کرے دشت نہیں خاک جس میں نہ ...

مزید پڑھیے

میان کار فن لفظوں کی قسمت جاگ اٹھتی ہے

میان کار فن لفظوں کی قسمت جاگ اٹھتی ہے غزل تخلیق کرتا ہوں محبت جاگ اٹھتی ہے بہت مسرور رہتا ہوں بہت چہرہ سجاتا ہوں مگر آئینے میں اک اور صورت جاگ اٹھتی ہے میں کتنی بار دنیا تج کے جا بیٹھا ہوں گوشے میں مگر ہر بار دنیا کی ضرورت جاگ اٹھتی ہے عجب دیکھا کرشمہ لفظ کی بازی گری کا ...

مزید پڑھیے

آئینے میں گھورنے والا ہے کون

آئینے میں گھورنے والا ہے کون اور اس کے سامنے والا ہے کون ہر قدم کرتا ہے جو میری نفی میرے اندر بولنے والا ہے کون میں اگر ہوں آسماں در آسماں یہ زمیں پر رینگنے والا ہے کون کس کے پیچھے دوڑتا رہتا ہوں میں آگے آگے بھاگنے والا ہے کون میں ہوں آتش دان سے چپکا ہوا برف و باراں ناچنے والا ...

مزید پڑھیے

کچھ تو ہیں پیکر پریشاں آذروں کے درمیاں

کچھ تو ہیں پیکر پریشاں آذروں کے درمیاں اور کچھ آزر پریشاں پتھروں کے درمیاں سب خبر ہوتے ہوئے پیر مغاں ہے بے خبر تشنگی کا غلغلہ ہے ساغروں کے درمیاں بھیڑ کی بے چہرگی میں ہیں کئی چہرے نہاں چند سر والے بھی ہیں ان بے سروں کے درمیاں آؤ سب اک روز مل بیٹھیں یہ سوچیں کیوں ہوئی اس قدر بے ...

مزید پڑھیے

دنیائے رنگ و بو سے کنارہ نہیں کیا

دنیائے رنگ و بو سے کنارہ نہیں کیا اچھا کیا جو ہم نے دکھاوا نہیں کیا ہم جسم کو بچا نہ سکے گرد سے مگر یہ تو کیا کہ روح کو میلا نہیں کیا اوروں پر اپنی ذات کی ترجیح تو بجا ہم نے کچھ اپنے ساتھ بھی اچھا نہیں کیا چپ چاپ باہر آ گئے رسہ کشی سے ہم ظاہر کسی پہ اپنا ارادہ نہیں کیا بس ڈوبتے ...

مزید پڑھیے

دھیان دستک پہ لگا رہتا ہے

دھیان دستک پہ لگا رہتا ہے اور دروازہ کھلا رہتا ہے کسی ملبے سے نہیں پر ہوتا میرے اندر جو خلا رہتا ہے کھینچتا ہے وہ لکیریں کیا کیا اور پھر ان میں گھرا رہتا ہے ہم کو خاموش نہ جانو صاحب اندر اک شور بپا رہتا ہے مجھ کو دے دیتا ہے گہرے پانی خود جزیروں پہ بسا رہتا ہے میری تنہائی کی ...

مزید پڑھیے

نقطۂ نو گریز

ی تک پڑھی ہوئی ساری کتابیں دیکھی ہوئی تمام دنیا بلکہ دنیائیں اندر سے باہر کے تمام تجربات ماضی کا حصہ ہیں تاریخ بن چکے ہیں یہاں سے آگے سفر نیا ہے بالکل نیا کاغذ کورا ہے بالکل کورا بلکہ تمام کاغذ کورے ہیں بالکل کورے تحریر منتظر ہے نقطۂ آغاز سے بلکہ موہوم ہے ہندسۂ یکم ہے بلکہ صفر ...

مزید پڑھیے

تیشہ بدست

کب سے ان پہاڑوں کے سینے چیر چیر کر ان کی رگیں کھوج کھوج کر لعل و جواہر نکال رہا ہوں ڈھیروں کے ڈھیر لگا رہا ہوں بظاہر بہت خوش ہوں کہ لعل و جواہر کے یہ انبار میں نے لگائے ہیں بہ باطن البتہ اداس ہوں کہ وہ لعل جس کی مجھے تلاش ہے ہنوز میری دسترس سے پرے ہے دراصل وہ پہاڑ ابھی تک میری آنکھ ...

مزید پڑھیے

آج بھی سوچا بہت

آج بھی سوچا بہت اور پھر رویا بہت میں کہیں بھی تھا نہیں آئنہ دیکھا بہت آدمی کمزور تھا زخم تھا گہرا بہت تھا وہ دریا دل مگر آپ نے مانگا بہت عیب بھی چھپ جائیں گے پاس ہے پیسہ بہت کیا پتہ کیوں آپ کو دیکھ کر دیکھا بہت بس یہی افسوس ہے کم لکھا بھوگا بہت

مزید پڑھیے

بوریا بستر اٹھا کرفیو لگا ہے

بوریا بستر اٹھا کرفیو لگا ہے مت کسی کو دے صدا کرفیو لگا ہے گھومتے ہیں صرف سناٹے گلی میں آدمی ہے لاپتہ کرفیو لگا ہے ایک صوبہ ایک جنگل ہو گیا ہے جل رہا ہے ہر ضلع کرفیو لگا ہے آگ کا دریا مکانوں تک نہ پہنچے ہو دکانوں کا بھلا کرفیو لگا ہے بھر گیا ہے پیٹ لاشوں سے سڑک کا ہو گئی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1942 سے 6203