قومی زبان

سمٹ رہا ہے وفا کا آنچل حصار وحشت مچل رہا ہے

سمٹ رہا ہے وفا کا آنچل حصار وحشت مچل رہا ہے عجیب ان ہونیوں کے ڈر سے ہمارا سینا دہل رہا ہے یہ دشت کانٹوں سے پھل رہا ہے یہ کیسا پربت اچھل رہا ہے زمیں کہ بارود ہو چکی ہے فلک کہ شعلہ اگل رہا ہے یہ میرے اپنے یہ میرے شاعر جو رفتہ رفتہ گزر رہے ہیں خدا کی آنکھیں مچی ہوئی ہیں ندی کا پانی ...

مزید پڑھیے

شہر وحشت مری تنہائی مجھے واپس کر

شہر وحشت مری تنہائی مجھے واپس کر ہاں تجھی سے کہا ہرجائی مجھے واپس کر میری بجھتی ہوئی آنکھوں کا سبب ہے تو ہی مجھ کو چھو کر مری بینائی مجھے واپس کر میری پیشانی پہ رکھے ہوئے بوسے اپنے پونچھ لے جا مری دانائی مجھے واپس کر تیری نفرت ترے خنجر ہوں مبارک تجھ کو میں مسیحا تھا مسیحائی ...

مزید پڑھیے

نازکی ہائے اس کے ہونٹوں کی

نازکی ہائے اس کے ہونٹوں کی میرؔ کے شعر سے بھی نازک تھی عمر کے راستے میں آ بھٹکی ایک خواہش ابھی جو بچی تھی اس کی سب سے حسین کاریگری ایک تم اور تمہارا شیدائی رات کے دو بجے ستاروں کی جانے کیوں آنکھ لگتے لگتے رہی کل ہمیں زندگی سے شکوہ تھا اور اب موت سے شکایت سی موت کے آخری فرشتے ...

مزید پڑھیے

یعنی اس بے وفا ستمگر کی یاد آنے سے کچھ نہیں ہوتا

یعنی اس بے وفا ستمگر کی یاد آنے سے کچھ نہیں ہوتا شام ہجراں اداس ہے لوگو گھر جلانے سے کچھ نہیں ہوتا شاہزادی ہماری قسمت میں ہر نفس ٹوٹ کر بکھرنا ہے تیری چارہ گریٔ الفت کو آزمانے سے کچھ نہیں ہوتا بارہا تجھ کو بھول جانے کی کوششیں کر کے دیکھ جانا ہے یاد رکھنا فضول ہے جس کو بھول جانے ...

مزید پڑھیے

موسم کی مار وقت کا کوڑا ہے میری سمت

موسم کی مار وقت کا کوڑا ہے میری سمت اب جو بھی جس طرح بھی ہے اچھا ہے میری سمت سوچوں تو سو ملال مجھے سانس سانس پر دیکھوں تو ایک آگ کا دریا ہے میری سمت دریا کے پکشپات پہ اب کیا کہیں کہ جو اتھلا ہے تیری سمت تو گہرا ہے میری سمت ایسی اداس رات کہ کاٹے نہیں کٹے بام و افق پہ چھایا اندھیرا ...

مزید پڑھیے

جتنا مخول آج مری زندگی کو ہے

جتنا مخول آج مری زندگی کو ہے شاید ہی اس زمانہ میں ہوتا کسی کو ہے آگے کا کچھ پتا نہیں اس وقت تو انہیں اتنی ہے رسم و راہ کہ ہوتی کسی کو ہے ہم سے تو پوچھنے کا سبب کچھ نہیں تو کیا جتنا ہے جوش وصل سو اتنا اسی کو ہے دنیا بہت عجیب ہے انساں کو کیا کہیں ہوتا کسی کا اور وہ روتا کسی کو ...

مزید پڑھیے

یہ شام غم گزار مرے ساتھ ساتھ چل

یہ شام غم گزار مرے ساتھ ساتھ چل اے پنچھیوں کی ڈار مرے ساتھ ساتھ چل تنہا سفر طویل ہے میں اوب جاؤں گا اے سر پھری بیار مرے ساتھ ساتھ چل سورج کے آس پاس بسائیں گے اک نگر ان بادلوں کے پار مرے ساتھ ساتھ چل اس زندگی کی دھوپ میں کر شکر جو ملیں کچھ پیڑ سایہ دار مرے ساتھ ساتھ چل پھر اس کی ...

مزید پڑھیے

ایسا جینا بھی کیا ہے مر مر کے

ایسا جینا بھی کیا ہے مر مر کے وہ جہاں بھی رہے رہے ڈر کے اب کسی طرح دل نہیں لگتا گھر میں سب کچھ تو ہے سوا گھر کے سانس کا بوجھ اب نہیں اٹھتا جسم خالی ہے دھڑ بنا سر کے اس کو جانے کی کتنی جلدی تھی بات ساری کہی پہ کم کر کے جلوہ دیکھا لہو کا اس نے جب ہوش ہی اڑ گئے تھے خنجر کے ریت و ساحل ...

مزید پڑھیے

جان یہ انتظار کیسا ہے

جان یہ انتظار کیسا ہے ہجر میں بھی قرار کیسا ہے تیری باتوں کا زخم ہے اب تک دیکھ تیرا شکار کیسا ہے دل کی دھڑکن سنی تو وہ بولے یہ کھنکتا ستار کیسا ہے نبض نے لوٹتے ہی پوچھا تھا سونے دل کا دیار کیسا ہے میرے آنسو اسے تسلی دیں مجھ کو یہ اس سے پیار کیسا ہے مجھ میں ہمت نہیں لگاؤں دل اور ...

مزید پڑھیے

شب ڈھلی اتر گیا پھر عشق کا نشہ مرا

شب ڈھلی اتر گیا پھر عشق کا نشہ مرا کیا ہوا وہ دیر تک اسی کو ڈھونڈھنا مرا الجھنیں تمام عمر ذات میں رہیں مرے کاش میرے ہاتھ پھر لگے کوئی سرا مرا مجھ سے وہ سکون مانگتا ہے یہ بھی دن ہے ایک جو تمام عمر ہی بنا رہا خدا مرا زندگی جو جی گئی اداسیوں سے تھی بھری یہ پیرہن بھی تھا غموں کے تھان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1930 سے 6203