سمٹ رہا ہے وفا کا آنچل حصار وحشت مچل رہا ہے
سمٹ رہا ہے وفا کا آنچل حصار وحشت مچل رہا ہے عجیب ان ہونیوں کے ڈر سے ہمارا سینا دہل رہا ہے یہ دشت کانٹوں سے پھل رہا ہے یہ کیسا پربت اچھل رہا ہے زمیں کہ بارود ہو چکی ہے فلک کہ شعلہ اگل رہا ہے یہ میرے اپنے یہ میرے شاعر جو رفتہ رفتہ گزر رہے ہیں خدا کی آنکھیں مچی ہوئی ہیں ندی کا پانی ...