قومی زبان

بات کیسی بھی ہو انداز نیا دیتا تھا

بات کیسی بھی ہو انداز نیا دیتا تھا ایسے ہنستا تھا کہ وہ سب کو رلا دیتا تھا کوئی مایوس جو ملتا تو نہ رہتا بے آس رنگ چہرے پہ تبسم کا سجا دیتا تھا عمر بھر ریت پہ چلتا رہا لیکن وہ شخص تپتی راہوں پہ ہری گھاس بچھا دیتا تھا کوئی انجام محبت کی جو باتیں کرتا پھول کے چہرے پہ شبنم وہ دکھا ...

مزید پڑھیے

چلی آنا اگر تم تک مری آواز جا پہنچے

یہ روشن صبح یہ میٹھے سروں میں پنچھیوں کے گان کسی کمسن کی دستک سے اٹھی یہ نوپروں کی تان چٹک پھولوں کی رنگ و بو پہ اٹھلاتے ہوئے دالان ہنسیں ہیں پر تمہارے بن میرے جی کو نہیں بھاتے پھر اب کی بار ضائع ہو نہ جائے سردیوں کی دھوپ یہ صبح و شام پوجا ارچنا یہ مندروں کی دھوپ کسی دل میں طلوع ...

مزید پڑھیے

اول غزل عبادت کی

اول غزل عبادت کی اس کے بعد شرارت کی مجھ کو یاد رہا تو بھولا بات ہے یہ تو عادت کی اس سے مل کر اور بڑھی ہے پیاس بجھی نہ چاہت کی دن بھر دکھ کے پتھر کاٹے رات ملی نہ راحت کی مجھ کو بھولنے والے تو نے مجھ پہ بڑی عنایت کی

مزید پڑھیے

سردی گرمی برکھا تینوں ایک ساتھ ہی بستے ہیں

سردی گرمی برکھا تینوں ایک ساتھ ہی بستے ہیں تیرے بدن میں وہ جادو ہے سارے موسم رہتے ہیں تیرے میرے بیچ نہیں ہے خون کا رشتہ پھر بھی کیوں تیری آنکھ کے سارے آنسو میری آنکھ سے بہتے ہیں ایک زمانہ بیتا تیرے پیار کے جنگل سے نکلے یاد کے سانپ تو تنہائی میں آج بھی مجھ کو ڈستے ہیں وعدہ کر کے ...

مزید پڑھیے

اس کی پہلے سے تھی نظر شاید

اس کی پہلے سے تھی نظر شاید جس کی مجھ کو خبر نہ تھی شاید گونگا آنگن ہے بہری دیواریں یہ خرابہ ہے اپنا گھر شاید چل کے کچھ دور رک گئے ہیں وہ نہ ملا مجھ سا ہم سفر شاید ہجر کی رات اتنی لمبی ہے جیسے ہوگی نہ اب سحر شاید رنگ تیرا اڑا اڑا سا ہے لگ گئی ہے تجھے نظر شاید

مزید پڑھیے

دل دھڑکنے کا سبب کیا ہوگا

دل دھڑکنے کا سبب کیا ہوگا پھر تجھے خواب میں دیکھا ہوگا پھول کے چہرے یہ شبنم کیسی آسماں رات میں رویا ہوگا جس نے خوابوں میں سمندر دیکھے اس کی تقدیر میں صحرا ہوگا تجھ سے بچھڑا تو گماں ہوتا ہے جانے کیا میں نے گنوایا ہوگا

مزید پڑھیے

پھول سا اک کھلا ہے آنکھوں میں

پھول سا اک کھلا ہے آنکھوں میں کس کا چہرہ بسا ہے آنکھوں میں تم کو آنسو نظر نہیں آتا یاں سمندر چھپا ہے آنکھوں میں آ کے چہرے پہ جم گیا آنسو بن کے موتی رہا ہے آنکھوں میں اس کو دیکھا تو یوں ہوا محسوس اک چمن بھر لیا ہے آنکھوں میں نیند یوں اڑ گئی کہ لگتا ہے کوئی کانٹا چبھا ہے آنکھوں ...

مزید پڑھیے

رنج و غم سے جو بے خبر ہوتا

رنج و غم سے جو بے خبر ہوتا کاش ایسا بھی کوئی گھر ہوتا سنگ باری کا غم نہیں ہے مگر ایک پتھر کو ایک سر ہوتا اس بلندی سے گر کے رسوا ہوں اچھا ہوتا زمین پر ہوتا اس کی لاٹھی ہے بے صدا یارو کاش اس بات کا بھی ڈر ہوتا یہ ضلالت نہ جھیلنی پڑتی با ہنر سے جو بے ہنر ہوتا

مزید پڑھیے

بات کریں یوں منہ نہ کھولیں

بات کریں یوں منہ نہ کھولیں دل کی باتیں آنکھیں بولیں کیسے تنہا رات کٹے گی یادوں کی گٹھری ہی کھولیں بہت جئے اوروں کی خاطر اب تو کچھ اپنے بھی ہو لیں خوابوں کے کچھ بیج چنے ہیں آنکھوں کے کھیتوں میں بو لیں ہر لمحہ اک بوجھ لگے ہے جیسے بھی ڈھونا ہو ڈھو لیں

مزید پڑھیے

بچھڑے ہوئے لوگوں کو سینہ میں بسا رکھنا

بچھڑے ہوئے لوگوں کو سینہ میں بسا رکھنا اپنا تو مقدر ہے آنکھوں کو بجھا رکھنا سوچا نہیں کرتے ہیں بیتی ہوئی باتوں کو بہتے ہوئے اشکوں کو ہمت سے دبا رکھنا سونے سی کوئی صورت ابھرے گی چٹانوں پر سورج سے دوپہری بھر اک ربط بنا رکھنا شاید یہیں مل جائے وہ شخص جو بچھڑا ہے سنسان سے منظر کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1929 سے 6203