قومی زبان

طے اپنی قید کی میعاد کرتے جائیں گے

طے اپنی قید کی میعاد کرتے جائیں گے اداس رت میں تجھے یاد کرتے جائیں گے ہم اس طرح سے بٹائیں گے ہاتھ دنیا کا کچھ ایک غم نئے ایجاد کرتے جائیں گے جگہ جگہ پے بکھریں گے ہم صدائیں اور خموش رات کو برباد کرتے جائیں گے ملا اشک و لہو کی نمی کو آپس میں سراب شہر میں آباد کرتے جائیں گے

مزید پڑھیے

خواب جو اچھے برے تھے

خواب جو اچھے برے تھے میرے اندر پل رہے تھے ایک چپی تم نے چاہی میں نے اپنے لب سیے تھے آزمائش وقت نے کی سب یقیں ٹوٹے پڑے تھے عمر بھر چل کر نہ پہنچے جانے کیسے مرحلے تھے نیند آنکھوں سے جدا تھی خواب میں بھی رت جگے تھے دن مہینے سال گزرے یوں تو ہم کل ہی ملے تھے لفظ تھے باہیں پسارے اور ...

مزید پڑھیے

سرد رشتوں کی برف پگھلی ہے

سرد رشتوں کی برف پگھلی ہے دھوپ مدت کے بعد نکلی ہے نیند آنکھوں سے یہ چرائے گی گشت پر یاد پھر سے نکلی ہے ہر نئی لہر میں نیا پانی وہ جو پچھلی تھی اب وہ اگلی ہے رنگ وہ ہی بھرے گی دونوں میں اپنی یادوں کی وہ جو تتلی ہے پھوٹ پانی میں پڑ گئی ہے کیا لہر دریا بنانے نکلی ہے میرے جینے کو بس ...

مزید پڑھیے

سفر میں ہی چھپی ان کی خوشی ہے

سفر میں ہی چھپی ان کی خوشی ہے مسافر کو مسافت بندگی ہے نظر سب آ رہا ہے صاف کالا اندھیروں میں بھی کتنی روشنی ہے پریشاں ہوں میں دن میں روشنی سے تو شب میں چاندنی پیچھے پڑی ہے اداسی ہے تو پھیکا رنگ لیکن یہ مجھ تصویر کا اک رنگ ہی ہے خطا اس میں نہیں ہے آئینے کی یہ ساری گرد چہروں پر جمی ...

مزید پڑھیے

پار اس دکھ درد کے دریا کو کر جائیں گے ہم

پار اس دکھ درد کے دریا کو کر جائیں گے ہم ہاں مگر اس پل تری نظروں میں مر جائیں گے ہم ہائے رے اس وصل کا یاد آنا جب کہتے تھے وہ چھوڑیئے گا ہاتھ اب جلدی سے گھر جائیں گے ہم دوڑنا زینے پہ وہ ایڑی میں موچ آنا تری اب تو ان یادوں کے بل پر ہی گزر جائیں گے ہم اک تجھے کھونے کا غم اور زندگی کے ...

مزید پڑھیے

انتظار کے دوش پر

دیوار سے لٹکائے افسردہ کھڑا ہے یوکیلپٹس کا درخت سوچ میں گم اب تک وہ سنہرے بال والی شوخ کرن آئی نہیں آتے ہی لپٹ جائے گی میرے جسم سے بیلوں کی طرح رات پگھلتی رہی ہے بوند بوند دم توڑتی ہیں آخری ساعتیں اے دل ناداں دل بے تاب ٹھہر بس کچھ ہی پل اور صبر کر اجالا ہونے بھر

مزید پڑھیے

صندل کی خوشبو اور سانپ

کوئی افعی ہے جو چندن کے پیڑ کی خوشبو سے مخمور ہو اٹھتا ہے اس کی شاخوں اس کے پتوں سے لپٹ کر نہ جانے کیا ڈھونڈتا رہتا ہے جیسے چاند کی تاک میں ہر دم چکور رہتا ہے جیسے چاند کی گھات میں کوئی میگھ کا کالا چور رہتا ہے اور پھر ایک پل ایسا بھی آتا ہے جب وہ چاند کو اپنی بانہوں میں بھر لیتا ...

مزید پڑھیے

ہجرت کی صلیب

ندامت کی کڑی دھوپ میں نہائے ہوئے زیست کے اس کڑے کوس پڑاؤ میں جہاں سیپیاں روشنی کے دخول کے لیے دریچے کھولا نہیں کرتیں سوچتا ہوں اس بھری دنیا میں تنہا کھڑا خاکستر حسرتوں کی انگلی تھامے کمہلائے ہوئے ارماں یوں بھی نکل سکتے تھے موتیوں کی چمک دمک کی چاہ میں در بہ در پھرے بغیر رشتوں کے ...

مزید پڑھیے

ہواؤں کے مقابل ہوں

ہواؤں کے مقابل ہوں چراغوں کی وہ محفل ہوں خدا جانے کہاں ہوں میں نہ باہر ہوں نہ شامل ہوں مرے کاندھے پہ وہ بکھرے ہیں موج اک وہ میں ساحل ہوں یہ چادر سلوٹیں تکیہ بتاتے ہیں میں غافل ہوں میں جو چاہوں وہ پا لوں پر ابھی خود ہی سے غافل ہوں یہاں سچ بے سہارا ہے سہارا دوں میں باطل ...

مزید پڑھیے

یوں ہی چلتے رہنے سے کیا ہوگا

یوں ہی چلتے رہنے سے کیا ہوگا اپنا کہنے کو بس اک رستا ہوگا صحرا جنگل دشت نہ ویرانا کوئی دیوانے کا گھر جانے کیسا ہوگا اس کو لگتا ہے کہ میں بالکل تنہا ہوں کس کے ساتھ مجھے اس نے دیکھا ہوگا اس کا ڈر میرے ڈر سے مل کر بولا ہم نہ ہوئے تو ان دونوں کا کیا ہوگا

مزید پڑھیے
صفحہ 1931 سے 6203