حسین اور اس پہ خودبیں وہ ستمگر یوں بھی ہے یوں بھی
حسین اور اس پہ خودبیں وہ ستمگر یوں بھی ہے یوں بھی نظارہ قبضۂ قدرت سے باہر یوں بھی ہے یوں بھی جو یہ بسمل حیا سے ہے تو وہ مجروح دیکھے سے نگاہ ناز اس قاتل کی خنجر یوں بھی ہے یوں بھی جبیں اس در پہ ہے وہ در ہے اونچا عرش اعظم سے بلند اوج ثریا سے مقدر یوں بھی ہے یوں بھی ادھر وہ مجھ سے ...