قومی زبان

حسین اور اس پہ خودبیں وہ ستمگر یوں بھی ہے یوں بھی

حسین اور اس پہ خودبیں وہ ستمگر یوں بھی ہے یوں بھی نظارہ قبضۂ قدرت سے باہر یوں بھی ہے یوں بھی جو یہ بسمل حیا سے ہے تو وہ مجروح دیکھے سے نگاہ ناز اس قاتل کی خنجر یوں بھی ہے یوں بھی جبیں اس در پہ ہے وہ در ہے اونچا عرش اعظم سے بلند اوج ثریا سے مقدر یوں بھی ہے یوں بھی ادھر وہ مجھ سے ...

مزید پڑھیے

عمر تھوڑی ہے اور کام بہت

عمر تھوڑی ہے اور کام بہت زندگی بھی ہے تیز گام بہت آ تو پہنچے ہیں اپنی منزل پر ہاں مگر ہو گئی ہے شام بہت طائر دل کی سب نظر میں ہے یوں تو پھیلے ہوئے ہیں دام بہت عمر بھر کیف کم نہیں ہوتا پینے والے کو ایک جام بہت پینے والوں کا ظرف ہے درکار شیشہ ساقی صراحی جام بہت دور جمہور میں بھی ...

مزید پڑھیے

غضب ہے اک بت کافر ادا نے لوٹ لیا

غضب ہے اک بت کافر ادا نے لوٹ لیا کہ مجھ کو بندہ بنا کر خدا نے لوٹ لیا یہ کس کی بزم میں کم بخت لے گئیں نظریں نگاہ ناز نے مارا حیا نے لوٹ لیا جو دل کے پاس تھا سرمایۂ حواس و خرد نظر نے چھین لیا اور ادا نے لوٹ لیا وہ دل کہ جس کو بچایا تھا دیر و کعبہ سے تمہارے حسن ورا الوریٰ نے لوٹ ...

مزید پڑھیے

علاوہ جلوۂ معنی کے کل جہاں دیکھا

علاوہ جلوۂ معنی کے کل جہاں دیکھا جو چیز دیکھنے کی تھی اسے کہاں دیکھا چھپائے رکھا ہمیشہ نگاہ گلچیں سے نہ دیکھنے کی طرح سوئے آشیاں دیکھا یہ یاد ہے کہ ملاقات تو ہوئی تھی کہیں مگر یہ یاد نہیں ہے تمہیں کہاں دیکھا قفس میں نیند بھی کیسے فریب دیتی ہے کھلی جو آنکھ تو گلشن نہ آشیاں ...

مزید پڑھیے

لوگ پھرتے ہیں در بدر تنہا

لوگ پھرتے ہیں در بدر تنہا ہو گیا کیا ہر ایک گھر تنہا تو کسی آفتاب کی مانند وقت کی اوٹ سے ابھر تنہا راستہ غم کا کتنا نازک ہے اس طرف سے کبھی گزر تنہا کم سے کم ہو رہے ہیں اہل ہنر رہ نہ جائے کہیں ہنر تنہا روشنی سب کے کام آتی ہے شمع جلتی ہے رات بھر تنہا چھوڑ دے حوصلہ جو ساتھ اگر کٹ ...

مزید پڑھیے

پناہ ڈھونڈ رہا ہے ہر اک مکاں کی طرف

پناہ ڈھونڈ رہا ہے ہر اک مکاں کی طرف کہ بچہ دوڑ کے آتا ہے جیسے ماں کی طرف عمل سے آپ کے قدموں میں کہکشاں ہوگی یہ کیا کہ دیکھا کریں آپ کہکشاں کی طرف لہو سے سینچا ہوا گلستاں مٹے گا نہیں ہوائیں گرم چلیں لاکھ گلستاں کی طرف خبر یہ سب کو ہے پانی نہیں سراب ہے وہ مگر ہیں پھر بھی سبھی سعیٔ ...

مزید پڑھیے

پھر جلا کوئی آشیاں صاحب

پھر جلا کوئی آشیاں صاحب پھر فضا ہے دھواں دھواں صاحب ہے ضمیر ایک آئنے کی طرح دیکھیے اپنی خامیاں صاحب آپ کا ساتھ کیا ہوا ہے نصیب میرا رستہ ہے کہکشاں صاحب صرف آنکھوں سے بات ہوتی ہے عشق رکھتا نہیں زباں صاحب جب برائی کو اس نے بویا ہے کیسے کاٹے وہ نیکیاں صاحب پیڑ اب چھاؤں دے نہیں ...

مزید پڑھیے

آدمی وہ بھلا نہیں ہوتا

آدمی وہ بھلا نہیں ہوتا جس کا دل آئنہ نہیں ہوتا آدمی سے خطا تو ہوتی ہے آدمی دیوتا نہیں ہوتا راستے پھر نئے نکلتے ہیں جب کوئی رہنما نہیں ہوتا درد دل سے جدا نہیں ہوگا درد دل سے جدا نہیں ہوتا کچھ کمی ہے کہیں تو کوئی قمرؔ یہ چمن کیوں ہرا نہیں ہوتا

مزید پڑھیے

انسان کو انساں سے کچھ کام نہیں ہوتا

انسان کو انساں سے کچھ کام نہیں ہوتا دنیا میں محبت کا جب نام نہیں ہوتا یہ کیسی حقیقت ہے اے دوست محبت میں آغاز تو ہوتا ہے انجام نہیں ہوتا تم سے تو نہ کچھ ہوگا اے چارہ گرو جاؤ بیمار محبت کو آرام نہیں ہوتا یہ منزل آخر ہے آ جاؤ عیادت کو آ جانے سے ایسے میں الزام نہیں ہوتا لازم ہے ...

مزید پڑھیے

کیا زندگی ہے کوئی سزا سوچنا پڑا

کیا زندگی ہے کوئی سزا سوچنا پڑا کیوں مانگتے ہیں لوگ دعا سوچنا پڑا تیرا بدن یہ تیری جوانی ترا چلن کس کس کو لگ رہی ہے ہوا سوچنا پڑا سب کے بدن لباس سے باہر نکل نہ آئیں یہ ڈنک کون مار گیا سوچنا پڑا بے کس غریب پر کہ غریبی ہٹاؤ پر سرمایہ دار کس پہ ہنسا سوچنا پڑا کیا وہ ہے بےوقوف کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1875 سے 6203