قومی زبان

اے خاک وطن تیرے پرستار تو سب ہیں

اے خاک وطن تیرے پرستار تو سب ہیں ہم ہی ہوئے کیوں خار گنہ گار تو سب ہیں ہم بھی ہیں کفن سر پہ اٹھائے ہوئے احساں جلدی تھی تمہیں ورنہ سر دار تو سب ہیں دیکھیں گے بنے شیشۂ جاں کس کا نشانہ پتھر لیے یوں درپئے آزار تو سب ہیں باہر نہ دھواں ہے نہ سلگنے کا نشاں ہے اندر سے بھڑکتے ہوئے انگار ...

مزید پڑھیے

یہ جو رہ رہ کے دھواں اٹھتا ہے

یہ جو رہ رہ کے دھواں اٹھتا ہے آگ بھی ہوگی جہاں اٹھتا ہے دل کے پہلو میں بھی اک دل ہے ضرور ایک سے غم یہ کہاں اٹھتا ہے آ ہی جائیں گے سیاسی گدھ بھی شہر میں امن و اماں اٹھتا ہے اے خدا اب کہاں جائیں گے صنم پردۂ کعبۂ جاں اٹھتا ہے بال چاندی سے ہیں پھر بھی اکثر دل پہ اک نقش جواں اٹھتا ...

مزید پڑھیے

غم چھیڑتا ہے ساز رگ جاں کبھی کبھی

غم چھیڑتا ہے ساز رگ جاں کبھی کبھی ہوتی ہے کائنات غزل خواں کبھی کبھی ہم نے دیئے ہیں عشق کو تیور نئے نئے ان سے بھی ہو گئے ہیں گریزاں کبھی کبھی اے دولت سکوں کے طلبگار دیکھنا شبنم سے جل گیا ہے گلستاں کبھی کبھی ہم بے کسوں کی بزم میں آئے گا اور کون آ بیٹھتی ہے گردش دوراں کبھی ...

مزید پڑھیے

طلب کی آگ کسی شعلہ رو سے روشن ہے

طلب کی آگ کسی شعلہ رو سے روشن ہے خیال ہو کہ نظر آرزو سے روشن ہے جنم جنم کے اندھیروں کو دے رہا ہے شکست وہ اک چراغ کہ اپنے لہو سے روشن ہے کہیں ہجوم حوادث میں کھو کے رہ جاتا جمال یار مری جستجو سے روشن ہے یہ تابش لب لعلیں یہ شعلۂ آواز تمام بزم تری گفتگو سے روشن ہے وصال یار تو ممکن ...

مزید پڑھیے

وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعد

وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعد سحر تھی شام سے پہلے سحر ہے شام کے بعد ہر انقلاب مبارک ہر انقلاب عذاب شکست جام سے پہلے شکست جام کے بعد مجھی پہ اتنی توجہ مجھی سے اتنا گریز مرے سلام سے پہلے مرے سلام کے بعد چراغ بزم ستم ہیں ہمارا حال نہ پوچھ جلے تھے شام سے پہلے بجھے ہیں شام کے ...

مزید پڑھیے

ہستی کو اپنی شعلہ بداماں کریں گے ہم

ہستی کو اپنی شعلہ بداماں کریں گے ہم زنداں میں بھی گئے تو چراغاں کریں گے ہم برہم ہوں بجلیاں کہ ہوائیں خلاف ہوں کچھ بھی ہو اہتمام گلستاں کریں گے ہم دامن کی کیا بساط گریباں ہے چیز کیا نذر بہار نقد دل و جاں کریں گے ہم ظلمت سے بے کراں تو اجالے بھی کم نہیں ہر داغ دل کو آج فروزاں کریں ...

مزید پڑھیے

آنکھ ان کی نہیں دریچہ ہے

آنکھ ان کی نہیں دریچہ ہے اس دریچے میں خود کو دیکھا ہے دل پہ نشتر چلا کے پوچھتے ہیں حال دل اب جناب کیسا ہے بھوکا سب کو اٹھاتا وہ لیکن بھوکا ہرگز نہیں سلاتا ہے دوست ہی تذکرہ نہیں کرتے دشمنوں میں بھی میرا چرچا ہے وہ غریبوں کو دان کیا کرتا دھرم ایمان جس کا پیسہ ہے میری فطرت سے وہ ...

مزید پڑھیے

کی خطا پر بجا کیا میں نے

کی خطا پر بجا کیا میں نے تجھ کو جلوہ نما کیا میں نے خود کو ایسے فنا کیا میں نے فرض اپنا ادا کیا میں نے میری دیوانگی بھی دین تری کب کسی سے گلہ کیا میں نے بانٹ دی جائیداد بچوں میں سوچتا ہوں یہ کیا کیا میں نے راہ کانٹوں بھری تھی منزل کی عزم سے راستہ کیا میں نے ایک تو جو بھلائے ...

مزید پڑھیے

گمنام کیا کرو گے چلو ہم ہی کھو گئے

گمنام کیا کرو گے چلو ہم ہی کھو گئے اوڑھے کفن وفا کا سکوں پا کے سو گئے سناٹا ہوتا آیا ہے جن کی صداؤں پر خاموش کرنے والے ہی خاموش ہو گئے نظریں تلاش کرتی ہیں محفل میں اب انہیں محفل کو سونی چھوڑ کے محفل سے جو گئے والد جو لوٹ آئے تو کھانے کو لائیں گے بچے اس انتظار میں بھوکے ہی سو ...

مزید پڑھیے

جب سے تم آ گئے فسانے میں

جب سے تم آ گئے فسانے میں تذکرہ ہے مرا زمانے میں آنکھ دل روح منتظر ہے تری دیر کیوں ہو رہی ہے آنے میں نور و خوشبو سے گھر ہوا معمور آ گئے تم غریب خانے میں بھول جاؤ کہا فقط اس نے عمر لگ جائے گی بھلانے میں برق تو دور ہی سے چمکی تھی لگ گئی آگ آشیانے میں ایک ادنیٰ خوشی بھی مل نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1876 سے 6203