اے خاک وطن تیرے پرستار تو سب ہیں
اے خاک وطن تیرے پرستار تو سب ہیں ہم ہی ہوئے کیوں خار گنہ گار تو سب ہیں ہم بھی ہیں کفن سر پہ اٹھائے ہوئے احساں جلدی تھی تمہیں ورنہ سر دار تو سب ہیں دیکھیں گے بنے شیشۂ جاں کس کا نشانہ پتھر لیے یوں درپئے آزار تو سب ہیں باہر نہ دھواں ہے نہ سلگنے کا نشاں ہے اندر سے بھڑکتے ہوئے انگار ...