قومی زبان

جو ممکن ہو تو سوز شمع پروانے میں رکھ دینا

جو ممکن ہو تو سوز شمع پروانے میں رکھ دینا اب اس افسانے کا عنوان افسانے میں رکھ دینا بڑی کافر کشش ایماں میں ہے اے عازم کعبہ نہ لے جانا دل اپنے ساتھ بت خانے میں رکھ دینا مرا دل بھی شراب عشق سے لبریز ہے ساقی یہ بوتل بھی اڑا کر کاگ میخانے میں رکھ دینا ابھی آئینۂ تصویر ابھی ہشیار ...

مزید پڑھیے

فریاد نہیں اشک نہیں آہ نہیں ہے

فریاد نہیں اشک نہیں آہ نہیں ہے اے عشق ترا کوئی ہوا خواہ نہیں ہے گو درد تمنا کو بڑھاتا ہے ترا ذکر دل پھر بھی ترے نام سے آگاہ نہیں ہے اے حسن یقیں دیر و حرم کی ہے فضا تنگ اس در سے پلٹنے کی کوئی راہ نہیں ہے یہ کس نے اڑائی کہ مجھے عشق ہے تم سے ہاں تم کو یقیں آئے تو افواہ نہیں ہے آسائش ...

مزید پڑھیے

ہر نفس تازہ مصیبت عمر بھر دیکھا کیے

ہر نفس تازہ مصیبت عمر بھر دیکھا کیے دیکھنے کی شے نہ تھی دنیا مگر دیکھا کیے جس قیامت سے ڈراتا بھی ہے ڈرتا بھی ہے شیخ ٹھوکروں میں آپ کی شام و سحر دیکھا کیے تم تو آسودہ شب وعدہ تھے خواب ناز میں شب سے لے کر صبح تک ہم سوئے در دیکھا کیے برہمی ان کی عدو کے ظلم گردوں کے ستم یہ تو دیکھو ...

مزید پڑھیے

ہر طبیعت کو جہاں پیار بھری خو کہیے

ہر طبیعت کو جہاں پیار بھری خو کہیے کون سے پھول کو اس باغ کی خوشبو کہیے دور تک بھی کوئی صحرا ہے نہ گلشن نہ قیام رہبر شوق کو آگاہ من و تو کہیے ہم ابھی دل میں تجھے ڈھونڈنے سے قاصر ہیں یہ الگ بات کہ جلوے ترے ہر سو کہیے آج کی رات کسی بات کا شکوہ کیوں ہو آپ کہیے کبھی تم کہیے کبھی تو ...

مزید پڑھیے

تم نے کیوں ہنس کے مجھے ایک نظر دیکھ لیا

تم نے کیوں ہنس کے مجھے ایک نظر دیکھ لیا آج کیا آ گئی جی میں جو ادھر دیکھ لیا ہم کس امید پہ آئندہ کوئی آہ کریں ہم نے کس آہ کو ممنون اثر دیکھ لیا کروٹیں لیتے ہوئے تم بھی تصور میں ملے تم کو بھی زینت آغوش نظر دیکھ لیا تیرے بیمار کو کیوں دیکھنے آئے تھے طبیب پیار کی آنکھ سے تو نے نہ ...

مزید پڑھیے

ہیں وقت کے محکوم تو بہکیں گے قدم اور

ہیں وقت کے محکوم تو بہکیں گے قدم اور بدلے ہوئے حالات میں کھو جائیں گے ہم اور افسانۂ اندوہ میں یکساں ہے ہر اک شخص اس دور پر آشوب میں تم اور نہ ہم اور لے جاتے ہیں بت خانے سے دل اپنا جلا کر رکھ لیں گے نئی شمع سر طاق حرم اور ہر شخص تھا خاموش مرے بعد ازل میں پوچھا جو گیا ہے کوئی ...

مزید پڑھیے

چلو یہ بھی اپنا ہی جرم ہے یہ گناہ بھی مرے سر گئے

چلو یہ بھی اپنا ہی جرم ہے یہ گناہ بھی مرے سر گئے میں نہ چل سکا تو ٹھہر گیا وہ گزر سکے تو گزر گئے وہی ساعتیں ہیں فروغ جاں مری راہ شوق میں آج بھی مری منزلوں کے نصیب جب ترے نقش پا سے سنور گئے وہی مرحلے مری یاد ہیں وحی مشغلے مرا خواب ہیں شب و روز جب ترے گیسوؤں ترے عارضوں میں ٹھہر ...

مزید پڑھیے

متاع فکر نشاط عمل فروغ حیات

متاع فکر نشاط عمل فروغ حیات تمہارا درد تمہاری یہ آخری سوغات حریف سارا زمانہ رقیب سارا جہاں چرا نہ لے کوئی ڈرتا ہوں اس کا رنگ ثبات کہاں چھپاؤں اسے کس طرح بچاؤں اسے چراغ ایک ہوا تیز اور اندھیری رات فراغ جسم کا دل کا سکوں نظر کا قرار تمہارے درد کے دشمن ہیں یہ سبھی حالات میں اس ...

مزید پڑھیے

مرنے کی کوئی راہ نہ جینے کا سبب ہے

مرنے کی کوئی راہ نہ جینے کا سبب ہے جینا بھی یہاں قہر ہے مرنا بھی غضب ہے آ جاؤ یہ کوچہ بھی رہ گیسو و لب ہے زنجیر بھی خنجر پہ لہو بھی یہاں سب ہے سنتے ہوئے جگ بیت گیا قصۂ جمہور اب اس کو حقیقت بھی بنا ڈالیے تب ہے یہ آج فضا میں جو گھٹن ہے جو امس ہے کہتے ہیں یہ طوفاں کے لیے حسن طلب ...

مزید پڑھیے

یہ سناٹا تو دم توڑے ہر اک آواز آنے دو

یہ سناٹا تو دم توڑے ہر اک آواز آنے دو نہ کچھ آئے تو آواز شکست ساز آنے دو صدائے نغمۂ گل ہے بصد انداز آنے دو فضائے خیمۂ جاں میں چمن کا راز آنے دو یہ طائر اونگھتے رہتے ہیں بیٹھے سبز گنبد پر اگر چگ لیں کہیں سے ہمت پرواز آنے دو وہ در جو بند تھا صدیوں سے حبس دم کے ماروں پر وہی در ہاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1874 سے 6203