جو ممکن ہو تو سوز شمع پروانے میں رکھ دینا
جو ممکن ہو تو سوز شمع پروانے میں رکھ دینا اب اس افسانے کا عنوان افسانے میں رکھ دینا بڑی کافر کشش ایماں میں ہے اے عازم کعبہ نہ لے جانا دل اپنے ساتھ بت خانے میں رکھ دینا مرا دل بھی شراب عشق سے لبریز ہے ساقی یہ بوتل بھی اڑا کر کاگ میخانے میں رکھ دینا ابھی آئینۂ تصویر ابھی ہشیار ...