قومی زبان

زندگی کیوں اداس ہے اے دوست

زندگی کیوں اداس ہے اے دوست موت کیا آس پاس ہے اے دوست وہ بھی مصلوب ہو نہ جائے کہیں وہ بڑا حق شناس ہے اے دوست تھا جو غالبؔ شکن زمانے میں وہ یگانہؔ ہی یاسؔ ہے اے دوست یہ زمانہ بھی کیا قیامت ہے ہر طرف اک ہراس ہے اے دوست ہے جو ہر دل میں اک خودی کا سرور زندگی کی اساس ہے اے دوست دور رہ ...

مزید پڑھیے

میں اس مقام پہ ہوں جس کو لا مکاں کہئے

میں اس مقام پہ ہوں جس کو لا مکاں کہئے زمیں نہ کہئے اسے اور نہ آسماں کہئے فضائے دل نہ معطر ہو جس سے اے ہمدم نہ بوستاں اسے کہئے نہ گلستاں کہئے وصال یار میسر نہ ہو تو کیا غم ہے خیال یار تو ہے جس کو دل ستاں کہئے رفیق جتنے تھے اپنے وہ اٹھ گئے سارے ہے کون بزم میں اب جس کو راز داں ...

مزید پڑھیے

سنگ‌ بے قیمت تراشا اور جوہر کر دیا

سنگ‌ بے قیمت تراشا اور جوہر کر دیا شمع علم و آگہی سے دل منور کر دیا فکر و فن تہذیب و حکمت دی شعور و آگہی گم‌ شدان راہ کو گویا کہ رہبر کر دیا چشم فیض اور دست وہ پارس صفت جب چھو گئے مجھ کو مٹی سے اٹھایا اور فلک پر کر دیا دے جزا اللہ تو اس باغبان علم کو جس نے غنچوں کو کھلایا اور گل ...

مزید پڑھیے

آپ نگاہ مست سے پتھر کو آب کیجیے

آپ نگاہ مست سے پتھر کو آب کیجیے تھامیے آب ہاتھ میں اور شراب کیجیے کار وفا کا جب نہیں کوئی صلہ جناب عشق بندہ نیا تلاشیے میرا حساب کیجیے آ ہی گئے ہیں آپ تو اتنا کرم کہ دو قدم چل کے ہمارے ساتھ دل سب کے کباب کیجیے چائے میں مت ملائیے شکر کہ ہے ضرر رساں شامل مٹھاس واسطے اپنا لعاب ...

مزید پڑھیے

حسن والوں کا سر ساحل نظارہ ہے کہ نئیں

حسن والوں کا سر ساحل نظارہ ہے کہ نئیں ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہے کہ نئیں جب کہ ہم دونوں نے بانگ دل پہ آمنا کہا حال ہے اب جو ہمارا وہ تمہارا ہے کہ نئیں فائدے سے مجھ کو زیادہ فکر ہے نقصان کی مخلصی کے کام میں کوئی خسارہ ہے کہ نئیں میری صحت ہو گئی بہتر تمہارے عشق میں تم کو بھی ...

مزید پڑھیے

عاقل ہے با شعور ہے کافی ذہین بھی

عاقل ہے با شعور ہے کافی ذہین بھی اس پر ہے مستزاد وہ از حد حسین بھی بوسہ کسی بھی پھول کا ہم نے نہیں لیا رخسار منتظر رہے لب بھی جبین بھی گھر لے لیا ہے عین ترے گھر کے سامنے اور اک خرید لایا ہوں میں دوربین بھی سب کام ہو رہے ہیں عجیب اس قدر عجیب لکھنے سے پہلے سوچتے ہیں کاتبین بھی اک ...

مزید پڑھیے

چندا بھی بس رات میں اچھا لگتا ہے

چندا بھی بس رات میں اچھا لگتا ہے ہر بندہ اوقات میں اچھا لگتا ہے چہرہ لال گلابی سا ہو جاتا ہے وہ مجھ کو جذبات میں اچھا لگتا ہے مل کر چھیڑتے رہتے ہیں سب یار مجھے ذکر ترا ہر بات میں اچھا لگتا ہے سجتے ہیں اس شوخ بدن پر سارے رنگ ہر کنگن اس ہاتھ میں اچھا لگتا ہے اچھا لگتا ہے وہ جیسے ...

مزید پڑھیے

دشمن سے اتحاد کے چکر میں پڑ گیا

دشمن سے اتحاد کے چکر میں پڑ گیا ہر دوست اب مفاد کے چکر میں پڑ گیا تھوڑی جگہ ملی جو کسی کاخ حسن میں دل ساری جائداد کے چکر میں پڑ گیا کرتا رہا گریز جو اک عمر وصل سے اب لمس کے سواد کے چکر میں پڑ گیا اک حسن شاندار پہ کامل غزل کے بعد شاعر نئے مواد کے چکر میں پڑ گیا یکسانیت چھلکنے لگی ...

مزید پڑھیے

کسی حکیم نہ عطار سے شفا ہوگی

کسی حکیم نہ عطار سے شفا ہوگی وصال حسن طرح دار سے شفا ہوگی ہمارے سر میں ہے سودائے وحشت پیہم ہمیں جمال رخ یار سے شفا ہوگی اے تیغ چشم صنم کر جگر پہ ترچھا وار اگر ہوئی تو اسی وار سے شفا ہوگی نقاب رخ کو دم وصل الوداع کہیے مریض ہجر کو دیدار سے شفا ہوگی دوا سے بڑھ کے دوا ہے لبان سرخ کا ...

مزید پڑھیے

وقت رخصت مری ماں نے مرا ماتھا چوما

وقت رخصت مری ماں نے مرا ماتھا چوما منزلوں نے تبھی بڑھ کر مرا تلوا چوما دی مؤذن کو دوا نیند کی اور پھر کل شب ہم نے جی بھر کے تمہیں خواب میں دیکھا چوما جس طرح قیمتی شے کو کوئی مفلس دیکھے آنکھوں آنکھوں میں اسے ہم نے سراہا چوما ہم نے سوچا تھا کہ سیرابی میسر ہوگی تشنگی اور بڑھی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1872 سے 6203