قومی زبان

کس کی خواہش میں جل رہا ہے بدن

کس کی خواہش میں جل رہا ہے بدن موم جیسا پگھل رہا ہے بدن دھیرے دھیرے بدل رہے ہیں خیال رفتہ رفتہ بدل رہا ہے بدن دکھ کے کانٹوں پہ سو رہا ہوں میں غم کے شعلوں پہ جل رہا ہے بدن حسن پر نور سے لپٹنے کو پاگلوں سا مچل رہا ہے بدن سیج پہ کھل رہے ہیں وصل کے پھول رات پہ عطر مل رہا ہے بدن صبح ...

مزید پڑھیے

اس لیے ہر طرف اندھیرا ہے

اس لیے ہر طرف اندھیرا ہے اس علاقے کا چاند بوڑھا ہے اے خلاؤں میں چیخنے والے تو مری خامشی کا بیٹا ہے اے حسیں سبز جسم کے مالک یہ بتا پھول کب مہکتا ہے تم قمرؔ جس میں ڈوب جاتے ہو اس سمندر میں ایک رستہ ہے

مزید پڑھیے

اک دبے عکس کو اوکیرہ جائے

اک دبے عکس کو اوکیرہ جائے اس کے کاندھے پہ ہاتھ پھیرا جائے توڑ کر اب شناوری کے اصول رات بھر بستروں پہ تیرا جائے چند جسموں کو دھوپ میں رکھ کر آج پرچھائیوں کو گھیرا جائے اب مری دوڑنے کی خواہش ہے فرش پہ آگ کو بکھیرا جائے

مزید پڑھیے

شکاری نے رکھا ٹھکانہ بلند

شکاری نے رکھا ٹھکانہ بلند ہدف پست قامت نشانہ بلند یہاں ظلم کی ہیں کمندیں دراز کہاں تک کریں آشیانہ بلند ترے سامنے سر بہ سجدہ ہیں لوگ مرا نام ہے غائبانہ بلند سمجھ لیجئے تلخ گزرا ہے دن اگر ہے نوائے شبانہ بلند مجھے بولنے کی اجازت نہیں مری ذات نیچی زمانہ بلند بڑی تیز رفتار ہے ...

مزید پڑھیے

بے ثمر صحبتوں سے بہتر ہیں

بے ثمر صحبتوں سے بہتر ہیں رنجشیں الفتوں سے بہتر ہیں سانپ اچھے نہیں یقیناً نئیں پر مرے دوستوں سے بہتر ہیں حاصل عشق ہے یہ اک جملہ فاصلے قربتوں سے بہتر ہیں کارہائے ہوس میں ہیں مشغول مشغلے فرصتوں سے بہتر ہیں راستے راستی کے مت چھوڑو وادیاں پربتوں سے بہتر ہیں قفل بہتر نہیں ...

مزید پڑھیے

میں نے کچھ اشعار جوں ہی آئنے پر دم کیے

میں نے کچھ اشعار جوں ہی آئنے پر دم کیے عکس تیرا لا دکھایا اس نے سر کو خم کیے کی سماعت کی تواضع اس مدھر آواز سے رزق بینائی اسی پیکر کے زیر و بم کیے مہر ہونٹوں سے لگائی اس زمین حسن پر اپنے قبضے اس زمیں پر اور مستحکم کیے جان ڈالی تذکرۂ یار سے الفاظ میں سیدھے سادے شعر اس کے ذکر سے ...

مزید پڑھیے

کچھ ایسے چشم تمنا کو آزمایا گیا

کچھ ایسے چشم تمنا کو آزمایا گیا کسی بھی عکس کو پورا نہیں دکھایا گیا درون خواب دکھا کر کوئی حسیں پیکر ہمارے ہونٹوں کا مصرف ہمیں سجھایا گیا ادھورا چھوڑ دیا عشق اس لیے ہم نے ہمیں یہ کام مکمل نہیں سکھایا گیا پھر اس کے بعد اٹھیں گے فقط سر محشر گر آج بزم سے ان کی ہمیں اٹھایا گیا ...

مزید پڑھیے

اگر تم کو مجھ سے محبت نہ ہوتی

اگر تم کو مجھ سے محبت نہ ہوتی یہ سودا نہ ہوتا یہ وحشت نہ ہوتی جو حسن نظر کار فرما نہ ہوتا جہاں میں کوئی اچھی صورت نہ ہوتی بتوں سے اگر ہوتی خالی یہ دنیا خدا کی بھی کوئی حقیقت نہ ہوتی تیری یاد کے ساتھ آتے نہ آنسو اگر مجھ کو تجھ سے محبت نہ ہوتی جو ہوتا نہ میں کشتۂ عشق قیصرؔ یہ صورت ...

مزید پڑھیے

مجھ کو دیکھا نہ بات کی کوئی

مجھ کو دیکھا نہ بات کی کوئی یہ بھی آخر ادا ہوئی کوئی مسکرانا بھی کیا غضب ہے ترا جیسے بجلی چمک گئی کوئی کب سے ہوں زندگی کے صحرا میں چھاؤں اب تو ملے گھنی کوئی ایک شب اور دو ہوں ماہ تمام آئے پھر ایسی اک گھڑی کوئی دل کو چھونے سے جو رہے قاصر وہ بھی قیصرؔ ہے شاعری کوئی

مزید پڑھیے

بدلا مزاج حسن تو وہ رو بہ رو نہیں

بدلا مزاج حسن تو وہ رو بہ رو نہیں وہ عشوہ و ادا نہیں وہ گفتگو نہیں دل سے تجھے نکال کے کچھ مطمئن تو ہوں پھر بھی کہوں یہ کیسے تری جستجو نہیں خوشبو نہ جن کی پھیلے فضاؤں میں چار سو گلشن میں ایسے پھولوں کی کچھ آبرو نہیں جب سے نظام مے کدہ بدلا ہے دوستو وہ مے نہیں وہ جام نہیں وہ سبو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1871 سے 6203