کسی حکیم نہ عطار سے شفا ہوگی
کسی حکیم نہ عطار سے شفا ہوگی
وصال حسن طرح دار سے شفا ہوگی
ہمارے سر میں ہے سودائے وحشت پیہم
ہمیں جمال رخ یار سے شفا ہوگی
اے تیغ چشم صنم کر جگر پہ ترچھا وار
اگر ہوئی تو اسی وار سے شفا ہوگی
نقاب رخ کو دم وصل الوداع کہیے
مریض ہجر کو دیدار سے شفا ہوگی
دوا سے بڑھ کے دوا ہے لبان سرخ کا لمس
قتیل حسن کو ہتھیار سے شفا ہوگی
دکھایا جائے انہیں آئنہ برائے شفا
تو اپنے عکس شرر بار سے شفا ہوگی
پھر آزمائیں گے اک نسخۂ غلط آسیؔ
اگر نہ آپ کو اشعار سے شفا ہوگی