قومی زبان

کسی کا ہاتھ دامن پر کسی کا سر گریباں میں

کسی کا ہاتھ دامن پر کسی کا سر گریباں میں یہ دیوانے بھی گل چھرے اڑاتے ہیں بیاباں میں سما کر رہ گیا ہر ان کا جلوہ قلب سوزاں میں کہاں سے اتنی وسعت آ گئی اس تنگ داماں میں سلیقہ خاک اڑانے کا بڑی مشکل سے آتا ہے بگولے سر پٹک کر رہ گئے آخر بیاباں میں ہنسی کلیوں کے لب پر ہے قبائے گل کے ...

مزید پڑھیے

جب تری زلف سیہ فام سنورتی ہوگی

جب تری زلف سیہ فام سنورتی ہوگی کتنی دنیا ترے جلوؤں سے نکھرتی ہوگی آج تک بھی ترے جلووں کو نہ پہنچیں نظریں کب کوئی آنکھ ترے رخ پہ ٹھہرتی ہوگی کتنی گہرائیوں میں ڈوبتی ہوگی ہستی جب کوئی بات کسی دل میں اترتی ہوگی اے مرے دل یہ غریب الوطنی کیسی ہے کس کے پہلو میں تری رات گزرتی ...

مزید پڑھیے

بہت مشکل سہی لیکن بصد مشکل بھی دیکھیں گے

بہت مشکل سہی لیکن بصد مشکل بھی دیکھیں گے کہ انوار حقیقت طالبان دل بھی دیکھیں گے خدا توفیق دے ہم کو تو دل کو دل بھی دیکھیں گے انہیں آنکھوں سے ہم آسان ہر مشکل بھی دیکھیں گے نہ کامل ذوق نظارہ نہ شوق جادہ پیمائی اگر کامل طلب ہے تو مذاق دل بھی دیکھیں گے وہ کشتی آج جو ٹکرا رہی ہے موج ...

مزید پڑھیے

بس اب ہم سے دل شوریدہ سر دیکھا نہیں جاتا

بس اب ہم سے دل شوریدہ سر دیکھا نہیں جاتا یہ تڑپانا تڑپنا رات بھر دیکھا نہیں جاتا ہمیں ترکیب ہی نظارۂ رخ کی نہیں آتی کہ وہ ہیں دیکھنے کی شے مگر دیکھا نہیں جاتا خدا جرأت نہ دے مجھ کو کسی دن لب کشائی کی کہ مجھ سے نالۂ محروم اثر دیکھا نہیں جاتا خدا نے شرم رکھ لی ذوق نظارہ کی محفل ...

مزید پڑھیے

بہ آسانی کہیں شاداں دل ناشاد ہوتا ہے

بہ آسانی کہیں شاداں دل ناشاد ہوتا ہے بڑی بربادیوں کے بعد یہ آباد ہوتا ہے ٹھہر اے گردش دوراں وہ لب جنبش میں آتے ہیں سراپا گوش ہو کر سن کہ کیا ارشاد ہوتا ہے در ساقی سے آزاد دو عالم اٹھ نہیں سکتا قیود مذہب و ملت سے رند آزاد ہوتا ہے گزشتہ حال الفت کیا سنو گے کیا سناؤں گا یہ قصہ کچھ ...

مزید پڑھیے

اب اس کا اور کیا انجام ہوگا

اب اس کا اور کیا انجام ہوگا محبت کر کے جو بدنام ہوگا ابھی انساں ہے تشنہ کام الفت ابھی نام وفا بدنام ہوگا جو آغاز سحر کا ہے نظارہ وہی میرا چراغ شام ہوگا کلی پر رات بھر روئے گی شبنم تبسم موت کا پیغام ہوگا

مزید پڑھیے

آہ مضراب محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

آہ مضراب محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ساز آہوں کی عبادت کے سوا کچھ بھی نہیں زندگی پر جو کبھی تم نے عنایت کی تھی اب وہ توفیق عنایت کے سوا کچھ بھی نہیں اور حاصل ہو کوئی غم تو اجل کو سمجھیں زندگی راز حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں اور افسانۂ ماضی میں تو رکھا کیا ہے اب سکوں لفظ روایت کے سوا ...

مزید پڑھیے

جلوہ فروز دل میں ہے وہ گلعذار آج

جلوہ فروز دل میں ہے وہ گلعذار آج اف رے خزاں رسیدہ چمن کی بہار آج دونوں کو ہر طرف ہے ترا انتظار آج دل کو قرار ہے نہ نظر کو قرار آج دیکھیں تو چوم لیں دم آرائش آئینہ ان کو بھی اپنی شکل پہ آ جائے پیار آج لو انتہائے شوق نے دیوانہ کر دیا میں ہنس رہا ہوں صبح سے بے اختیار آج دل محو ...

مزید پڑھیے

مدعا دل کا کبھی لب آشنا ہوتا نہیں

مدعا دل کا کبھی لب آشنا ہوتا نہیں عشق کا مفہوم لفظوں میں ادا ہوتا نہیں حسن والوں کا کرم دل پر روا ہوتا نہیں یہ خبر ہوتی تو ان پر مبتلا ہوتا نہیں موت سے بد تر ہے تیرے آسرے پر زندگی کاش کوئی زندگی کا آسرا ہوتا نہیں آپ کے ہم راہ سب دامن کشاں ہونے لگے آج دل میں درد بھی کل سے سوا ہوتا ...

مزید پڑھیے

تیری بے رخی مری موت تھی ہوا التفات کبھی کبھی

تیری بے رخی مری موت تھی ہوا التفات کبھی کبھی ترے التفات کی خیر ہو کہ ملی حیات کبھی کبھی رہ آرزو میں کہیں کہیں مجھے روک دیتے ہیں حادثے غم عشق ہے مرا مستقل غم کائنات کبھی کبھی مری جنبش لب غم زدہ جو ترے مزاج پہ بار ہے مرے آنسوؤں کی زباں سے سن غم دل کی بات کبھی کبھی نہیں ایک حال ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1873 سے 6203