کسی کا ہاتھ دامن پر کسی کا سر گریباں میں
کسی کا ہاتھ دامن پر کسی کا سر گریباں میں یہ دیوانے بھی گل چھرے اڑاتے ہیں بیاباں میں سما کر رہ گیا ہر ان کا جلوہ قلب سوزاں میں کہاں سے اتنی وسعت آ گئی اس تنگ داماں میں سلیقہ خاک اڑانے کا بڑی مشکل سے آتا ہے بگولے سر پٹک کر رہ گئے آخر بیاباں میں ہنسی کلیوں کے لب پر ہے قبائے گل کے ...