بے ثمر صحبتوں سے بہتر ہیں
بے ثمر صحبتوں سے بہتر ہیں
رنجشیں الفتوں سے بہتر ہیں
سانپ اچھے نہیں یقیناً نئیں
پر مرے دوستوں سے بہتر ہیں
حاصل عشق ہے یہ اک جملہ
فاصلے قربتوں سے بہتر ہیں
کارہائے ہوس میں ہیں مشغول
مشغلے فرصتوں سے بہتر ہیں
راستے راستی کے مت چھوڑو
وادیاں پربتوں سے بہتر ہیں
قفل بہتر نہیں زبانوں پر
ہاں مگر غیبتوں سے بہتر ہیں
ہم ہیں بہتر کئی بلاؤں سے
وہ کئی آفتوں سے بہتر ہیں
آپ اور ہم میں فرق ہے اتنا
آپ کچھ نسبتوں سے بہتر ہیں
بد گمانوں سے دوریاں آسیؔ
خوا مخواہ حجتوں سے بہتر ہیں