اک دبے عکس کو اوکیرہ جائے
اک دبے عکس کو اوکیرہ جائے
اس کے کاندھے پہ ہاتھ پھیرا جائے
توڑ کر اب شناوری کے اصول
رات بھر بستروں پہ تیرا جائے
چند جسموں کو دھوپ میں رکھ کر
آج پرچھائیوں کو گھیرا جائے
اب مری دوڑنے کی خواہش ہے
فرش پہ آگ کو بکھیرا جائے