جھوٹ کی مقدار کم ہے اور سچائی بہت
جھوٹ کی مقدار کم ہے اور سچائی بہت صاف گوئی سے ہوئی ہے میری رسوائی بہت اپنی کم گوئی سے قد آور تو چھوٹے بن گئے بڑھ گئی لفاظ بونوں کی اب اونچائی بہت بے نیازانہ میں اپنی جستجو میں گم رہا یاد ان کی میرے دل میں آ کے شرمائی بہت تیرہ بختی نے اسیری میں نبھایا میرا ساتھ روزن زنداں سے یوں ...