قومی زبان

جھوٹ کی مقدار کم ہے اور سچائی بہت

جھوٹ کی مقدار کم ہے اور سچائی بہت صاف گوئی سے ہوئی ہے میری رسوائی بہت اپنی کم گوئی سے قد آور تو چھوٹے بن گئے بڑھ گئی لفاظ بونوں کی اب اونچائی بہت بے نیازانہ میں اپنی جستجو میں گم رہا یاد ان کی میرے دل میں آ کے شرمائی بہت تیرہ بختی نے اسیری میں نبھایا میرا ساتھ روزن زنداں سے یوں ...

مزید پڑھیے

نفرت کے ساتھ پیار کی میٹھی ترنگ ہے

نفرت کے ساتھ پیار کی میٹھی ترنگ ہے مانجھا ہے کاٹ دار رنگیلی پتنگ ہے سورج کی اک کرن کو ترستا ہے لفظ لفظ میری غزل کے چہرے پہ راتوں کا رنگ ہے ذرے کی آب و تاب کا پیچیدہ کاروبار جس کی جھلک کو دیکھ کے سورج بھی تنگ ہے میرے خلوص کے لئے اس میں جگہ کہاں دل اس کا قبر کی طرح تاریک و تنگ ...

مزید پڑھیے

وادئ غم میں تیرے ساتھ ساتھ بھٹک رہا ہوں میں

وادئ غم میں تیرے ساتھ ساتھ بھٹک رہا ہوں میں تجھ کو مری تلاش ہے اور تجھے ڈھونڈتا ہوں میں ہنستا ہوں بولتا بھی ہوں روتا ہوں سوچتا بھی ہوں پورا مزاج آدمی سب کو دکھا رہا ہوں میں اتنا ہجوم آدمی ہے کہ حساب میں نہیں پھر بھی گلہ ہے آنکھ سے کچھ نہیں دیکھتا ہوں میں دیکھتا ہوں میں واقعات ...

مزید پڑھیے

تجھے چھو کر بھی مری روح میں شدت نہیں ہے

تجھے چھو کر بھی مری روح میں شدت نہیں ہے دل لگی سی ہے یہ دراصل محبت نہیں ہے اپنے اندر ہی گھٹا رہنے لگا ہوں اب تو تیرے غم میں ابھی رونے کی نزاکت نہیں ہے میرے جذبوں میں مری روح کی پاکیزگی ہے جو بھی لکھتا ہوں مجھے اس کی ملامت نہیں ہے در امکان کی دستک مجھے بھیجی گئی ہے میری قسمت میں ...

مزید پڑھیے

میں نے بھی سینہ ہوا دار بنا رکھا ہے

میں نے بھی سینہ ہوا دار بنا رکھا ہے آنکھ کو روزن دیوار بنا رکھا ہے پیڑ نے روٹھے ہوئے موسم گل کے غم میں شاخ کو دست عزا دار بنا رکھا ہے سنگ خواہش کبھی دریا کے حوالے نہ کیے پھینکنے کے لیے کہسار بنا رکھا ہے میں نے کاغذ کی زرہ جسم پہ پہنی ہوئی ہے اور قلم ہاتھ میں تلوار بنا رکھا ...

مزید پڑھیے

شکستہ گھر میں کوئی چیز بھی نہیں پوری

شکستہ گھر میں کوئی چیز بھی نہیں پوری کہیں ہوا تو کہیں روشنی نہیں پوری میں تجھ کو دیکھ تو سکتا ہوں چھو نہیں سکتا تو ہے مگر تری موجودگی نہیں پوری انا سنبھالتے دل کھو دیا ہے میں نے وہیں تمہارے سامنے سے واپسی نہیں پوری میں سوچتا ہوں کہ اب کوزہ گر بدل ہی لوں جو مل رہی ہے مجھے بہتری ...

مزید پڑھیے

حد محبت کی پار بھی کر لی

حد محبت کی پار بھی کر لی اور پھر خود پہ شاعری کر لی اس قناعت پسند سے مل کر میرے غصے نے خودکشی کر لی ہجر کا ایک پل بھی سہہ نہ سکا اس کے آفس میں نوکری کر لی نیند کو آنکھ پر لپیٹ لیا اور پھر رات کی گھڑی کر لی

مزید پڑھیے

ابھی تک آنکھ سے لپٹے ہوئے ہیں

ابھی تک آنکھ سے لپٹے ہوئے ہیں وہ ہنگامے جو ان دیکھے ہوئے ہیں تمہارے ہوش تو سالم ہیں لیکن ہمارے بال تو بکھرے ہوئے ہیں سفر کا وقت روشن ہو رہا ہے بدن پہ راستے ابھرے ہوئے ہیں بہادر اس تجسس میں ہیں غلطاں ہمارے سر کہاں رکھے ہوئے ہیں چراغو کس سے اتنا ڈر رہے ہو ہوا کے دانت تو ٹوٹے ...

مزید پڑھیے

آخرش درد یا دوا تھا میں

آخرش درد یا دوا تھا میں زندگی تو بتا کہ کیا تھا میں میں کبھی اک جگہ رکا ہی نہیں ایسا لگتا ہے کہ ہوا تھا میں ہاں مجھے خود کو زیر کرنا پڑا اپنے راستے میں آ رہا تھا میں اے قمرؔ اب مجھے بھی یاد نہیں آخری بار کب ہنسا تھا میں

مزید پڑھیے

بلند و پست کو ہموار کر کے آیا ہوں

بلند و پست کو ہموار کر کے آیا ہوں میں آسماں پہ زمیں سے اتر کے آیا ہوں ہزار جسم کے دریا تھے میری راہوں میں نہ جانے کتنے بھنور پار کر کے آیا ہوں وہ اک مذاق جسے لوگ عشق کہتے ہیں میں اس مذاق کا جرمانہ بھر کے آیا ہوں اب اس سے آگے خدا جانے کب بکھر جاؤں یہاں تلک تو بہت بن سنور کے آیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1870 سے 6203