قومی زبان

تھی دھوپ تیز اس قدر بدن بھی جیسے جل گیا

تھی دھوپ تیز اس قدر بدن بھی جیسے جل گیا مگر بڑھا جو میرا قد تو آفتاب ڈھل گیا جب اس گلی میں جھوٹ کی سنیں فریب کاریاں تو اس گلی میں سچ سنا اور آگے میں نکل گیا جو میرا نام آ گیا وہ مسکرا کے رہ گیا رقیب کی خوشامدوں کا زور اس پہ چل گیا یہاں ہر ایک سمت ہیں لطافتیں نفاستیں کہیں یہ دل ...

مزید پڑھیے

ہم زمیں کا آتشیں ابھار دیکھتے رہے

ہم زمیں کا آتشیں ابھار دیکھتے رہے سہمے سہمے سے ہی بس غبار دیکھتے رہے شہرتیں، یہ دولتیں، یہ مسندیں، ملیں پہ ہم بے نیاز ہی رہے، ہزار دیکھتے رہے آخرش زمانہ ان کو چھوڑ آگے بڑھ گیا ہر قدم جو عزت و وقار دیکھتے رہے ان کو پھر اماں کہاں نصیب ہونی تھی، کہ جو ہر مقام سے رہ فرار دیکھتے ...

مزید پڑھیے

وہ جو عمر بھر میں کہی گئی سر شام ہجر لکھی گئی

وہ جو عمر بھر میں کہی گئی سر شام ہجر لکھی گئی وہی داستان وفا مری مرے ہونٹ کس لیے سی گئی ہوئے قید جرم وفا پہ بھی کہ حصار ظلم نصیب تھا مری فرد جرم عجیب ہے جو مرے لہو سے لکھی گئی یہ شعور زیست ہے ناصحو نہیں کام دیں گی نصیحتیں مرے شہر عشق تری بنا مری ذات سے ہی رکھی گئی نئے نام منظر‌‌ ...

مزید پڑھیے

یہ زمان و مکاں کا ستم بھی نیا

یہ زمان و مکاں کا ستم بھی نیا تیرا غم بھی نیا، میرا غم بھی نیا شوخیٔ حسن شہروں میں یوں الاماں ساتھ موسم کے بدلیں صنم بھی نیا مصلحت وقت کی بھیج دیتی ہے کیوں ہر مسرت کے ہمراہ رم بھی نیا کون لفظوں کو دیتا ہے معنی نئے اور مرے شعر کو پیچ و خم بھی نیا بد گمانی نے تبدیل محور کئے کعبہ ...

مزید پڑھیے

سوچ کو کیسی اڑانیں مل گئیں

سوچ کو کیسی اڑانیں مل گئیں آج تصویروں کو جانیں مل گئیں انگلیوں نے حرف سارے پڑھ لئے پتھروں کو بھی زبانیں مل گئیں منہ سے نکلے بول قیدی ہو گئے بے نشان لہروں کو تانیں مل گئیں ہونٹ جب مجبوریوں نے سی دئے ساری بستی کو زبانیں مل گئیں میں محبت کا سمندر تھا مجھے چاند نکلا تو اٹھانیں مل ...

مزید پڑھیے

ہر سلسلۂ غم سے شناسائی ہوئی ہے

ہر سلسلۂ غم سے شناسائی ہوئی ہے ہر موج تلاطم مری ٹھکرائی ہوئی ہے ظلمت نے کہیں چاک گریباں نہ کیا ہو افلاک پہ رنگین فضا چھائی ہوئی ہے بے باک نگاہی پہ جسے ناز بہت تھا وہ آنکھ ہمیں دیکھ کے شرمائی ہوئی ہے اک ہم کہ ہر افتاد پہ ہیں محو تبسم اک نبض حوادث ہے کہ تھرائی ہوئی ہے گلشن میں ...

مزید پڑھیے

مٹی کی تصویر ہے انساں لیکن ہے یہ حال میاں

مٹی کی تصویر ہے انساں لیکن ہے یہ حال میاں اس کے دل میں ارمانوں کا پھیلا ہے اک جال میاں جس کو دیکھو دم بھرتا ہے الفت پیار محبت کے باتوں کا دھنوان ہے لیکن دل کا ہے کنگال میاں وقت ہے ایسا فرزانوں کے پاؤں اکھڑے جاتے ہیں ایک نہ اک دن کام آئے گی دیوانوں کی چال میاں اتنی کڑی ہے دھوپ ...

مزید پڑھیے

وہاں تو روز ستارا نیا چمکتا ہے

وہاں تو روز ستارا نیا چمکتا ہے یہاں بس ایک ہی جگنو ہے جو سسکتا ہے اسے تو وقت نے خاموشیاں ہی بخشی ہیں جو اپنی راہ بدلتا ہے اور بھٹکتا ہے وہ ایک جھوٹ تھا جو روشنی میں آ پہنچا یہ ایک سچ ہے اندھیروں میں جو بھٹکتا ہے تو کس خیال میں کس سوچ میں ہے فکر نہ کر کہ میرا زخم ترا ظلم چھپ تو ...

مزید پڑھیے

اک شوخ کے ہونٹوں سے یہ جام تراشے ہیں

اک شوخ کے ہونٹوں سے یہ جام تراشے ہیں یہ جام تراشے ہیں انعام تراشے ہیں آئنے پہ کیوں اتنے برہم نظر آتے ہو جو شکلیں ملیں اس سے وہ نام تراشے ہیں مسجد ہو کر مندر ہو کچھ فرق نہیں لیکن خود ہم نے ہی نفرت کے اصنام تراشے ہیں تقسیم ہوں مجبوراً میں کتنے ہی خانوں میں دنیا نے مگر کیا کیا ...

مزید پڑھیے

جب بھی یہ گردن جھکا لی جائے گی

جب بھی یہ گردن جھکا لی جائے گی آپ کی ہر بات خالی جائے گی میری طرز دوستانہ کے خلاف کچھ نہ کچھ خامی نکالی جائے گی مفلسی کو اس سے کیا مطلب کہ کب عید آئے گی دیوالی جائے گی باندھئے مضمون سنجیدہ تو پھر آپ کی نازک خیالی جائے گی جب قسم سے مسئلے ہوتے ہیں طے اک قسم ہر بار کھا لی جائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1835 سے 6203