قومی زبان

تذکرے فہم و خرد کے تو یہاں ہوتے ہیں

تذکرے فہم و خرد کے تو یہاں ہوتے ہیں عقل کی حد سے مگر آگے گماں ہوتے ہیں چھوڑ جاتے ہیں کہیں پاس ترے اپنا وجود گھر پہنچ کر بھی تو ہم گھر میں کہاں ہوتے ہیں خواب و امید، گماں، اس کا تصور، چاہت تلخی زیست میں یہ راحت جاں ہوتے ہیں کس طرح عرض گزاری سے انہیں روکا ہے ایسے جذبے کہ جو چھپتے ...

مزید پڑھیے

ڈگمگاتے کبھی قدموں کو سنبھلتے دیکھا

ڈگمگاتے کبھی قدموں کو سنبھلتے دیکھا راہ الفت پہ مگر لوگوں کو چلتے دیکھا نفرتیں مل گئیں معصوم دلوں میں اکثر چاہتوں کو دل سفاک میں پلتے دیکھا حوصلہ تھا کوئی مقصد یا سلیقہ، اس کو وقت کے تند تھپیڑوں میں سنبھلتے دیکھا جن کو پالا تھا بہاروں نے جہاں بھر کی، انہیں آزمائش کی کڑی دھوپ ...

مزید پڑھیے

دریائے محبت میں موجیں ہیں نہ دھارا ہے

دریائے محبت میں موجیں ہیں نہ دھارا ہے یوں شوق مراتب نے پستی میں اتارا ہے اس شہر تغافل میں ہم کس کو کہیں اپنا وہ شہر جو دنیا میں کہنے کو ہمارا ہے آنکھوں میں کبھی تھے اب، ہاتھوں میں ہیں بچوں کے سورج ہے کہ چندا ہے، جگنو ہے کہ تارا ہے وہ حسن مجسم جب گزرا ہے چمن سے تب خود اپنا سراپا ...

مزید پڑھیے

گلیاں ہیں بہت سی ابھی دیوار کے آگے

گلیاں ہیں بہت سی ابھی دیوار کے آگے سنسار ملیں گے تجھے سنسار کے آگے معنی کی نئی شرحیں تھیں ہر بات میں اس کی اقرار سے پہلے کبھی انکار کے آگے تقدیر جسے کہتے ہیں دنیا کے مفکر زردار کے پیچھے ہے تو نادار کے آگے ان کو بھی سمجھنا ہے ابھی صاحب ادراک ہوتے ہیں حقائق بھی تو اخبار کے ...

مزید پڑھیے

جب اپنے وعدوں سے ان کو مکر ہی جانا تھا

جب اپنے وعدوں سے ان کو مکر ہی جانا تھا ہمیں بھی ساری حدوں سے گزر ہی جانا تھا لہو کی تاب سے روشن تھا کاروان حیات فریب دینے سے بہتر تو مر ہی جانا تھا نہ رکھ سکے سر سودائے عشق کی توقیر بلند رکھتے خوشی سے جو سر ہی جانا تھا لہو کی آگ اسیری میں سرد ہو کے رہی اسی لیے ہمیں زنداں سے گھر ہی ...

مزید پڑھیے

آئے تھے کیوں صحرا میں جگنو بن کر

آئے تھے کیوں صحرا میں جگنو بن کر تپتی لو میں ہلکی سی خوشبو بن کر چلنا، رکنا دونوں میں بربادی ہے دشت وفا میں آئے تو ہو آہو بن کر کچھ تو عجب ہے ورنہ آج کی دنیا میں رہتا کون ہے کس کا اب بازو بن کر آئینہ خانہ دل کا تب مسمار ہوا آئی حقیقت سامنے جب جادو بن کر سارا زمانہ سر آنکھوں پر ...

مزید پڑھیے

ان کی پیشانی پہ دیکھا تو کئی بل نکلے

ان کی پیشانی پہ دیکھا تو کئی بل نکلے دوستو تم ہی بتاؤ کہ کوئی حل نکلے باغباں تھا ترا الزام یہاں چوری کا پھول نکلے نہ یہاں سے نہ یہاں پھل نکلے گاؤں گاؤں بھرے تالاب تھی اتنی بارش اور بن برسے مرے گاؤں سے بادل نکلے عزتیں لوٹ کے جو قتل کیا کرتے تھے جب وہ پکڑے گئے دیکھا نرے پاگل ...

مزید پڑھیے

دنیا میں اب کسی سے کدورت نہیں مجھے

دنیا میں اب کسی سے کدورت نہیں مجھے یعنی کہ دشمنوں سے بھی نفرت نہیں مجھے ہو جائے زندگی میں جو میرا تمہارا ساتھ پھر چاہئے کسی کی رفاقت نہیں مجھے جو ساتھ دے نہ پائیں غریبوں کا وقت پر دنیا میں ایسے لوگوں سے نسبت نہیں مجھے میں تیری جستجو میں سنورتا چلا گیا اب زندگی میں کوئی بھی ...

مزید پڑھیے

پھینکا ہے جس نے جال ستاروں کے آس پاس

پھینکا ہے جس نے جال ستاروں کے آس پاس وہ بھی بھٹک رہا ہے سہاروں کے آس پاس اپنی دکان آپ کہاں تک بچائیں گے شعلے پنپ رہے ہیں شراروں کے آس پاس جملے دھلے دھلے ہوں تو یہ مان لیجئے دشمن چھپے ہیں راہ گزاروں کے آس پاس موتی نکالنا ہے تو گہرے میں آئیے چھینٹے اڑائیے نہ کناروں کے آس پاس اب ...

مزید پڑھیے

آج گلشن میں یہ افواہ اڑا دی جائے

آج گلشن میں یہ افواہ اڑا دی جائے زندگی کی سبھی خوشیوں کو ہوا دی جائے بادۂ انس یوں تقسیم گرا دی جائے کوئی باقی نہ رہے سب کو پلا دی جائے پرچم اب ظلم کا لہراتے ہیں ہر سو ظالم آپ بتلائیے کس کس کو سزا دی جائے لوگ جیبوں میں چھپے سانپ لیے پھرتے ہیں قریہ قریہ یہ خبر سب کو سنا دی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1834 سے 6203