تذکرے فہم و خرد کے تو یہاں ہوتے ہیں
تذکرے فہم و خرد کے تو یہاں ہوتے ہیں عقل کی حد سے مگر آگے گماں ہوتے ہیں چھوڑ جاتے ہیں کہیں پاس ترے اپنا وجود گھر پہنچ کر بھی تو ہم گھر میں کہاں ہوتے ہیں خواب و امید، گماں، اس کا تصور، چاہت تلخی زیست میں یہ راحت جاں ہوتے ہیں کس طرح عرض گزاری سے انہیں روکا ہے ایسے جذبے کہ جو چھپتے ...