قومی زبان

ہم کو اپنی زندگی میں درد کامل چاہئے

ہم کو اپنی زندگی میں درد کامل چاہئے ہر نفس اک شور نغمات سلاسل چاہئے زخم دل کا حال ہم کس کو سنائیں دوستو ایسی باتیں سننے والا ہم سا گھائل چاہئے کل وہی بن جائیں گے یارو ہمارے چارہ گر آج ہر لمحہ جنہیں اک رقص بسمل چاہئے جس میں رقصاں ہو خوشی وہ دل مبارک ہو تمہیں نازش درد و الم ہو ہم ...

مزید پڑھیے

ہر طرف کرب کے منظر ہیں جدھر جاتا ہوں

ہر طرف کرب کے منظر ہیں جدھر جاتا ہوں لمحہ لمحہ کبھی جیتا کبھی مر جاتا ہوں بد گماں ایسا ہوا ہوں میں فریبوں سے ترے سچ بھی جب سامنے آتا ہے تو ڈر جاتا ہوں انتقاماً یہ روش میں نے بھی اپنائی ہے جب مکرتا ہے کوئی میں بھی مکر جاتا ہوں دھوپ سہہ لینے کی عادت نے یہ جرأت بخشی سر پہ سورج کو ...

مزید پڑھیے

مہمان کی تواضع

قتیل شفائی نے ایم ۔اسلم سے اپنی اولین ملاقات کااحوال بیان کرتے ہوئے کہا۔ ’’کتنی عجیب بات ہے کہ میں اسلم صاحب کی کوٹھی میں ان سے ملنے گیا لیکن اس کے باوجود ان کا تازہ افسانہ سننے سے بال بال بچ گیا۔‘‘ ’’یہ ناممکن ہے ...!‘‘ احباب میں سے ایک نے بات کاٹتے ہوئے فوراًتردید ...

مزید پڑھیے

ابھی کہانی میں بچ نکلنے کے راستے ہیں

ابھی کہانی میں بچ نکلنے کے راستے ہیں ابھی تو گنتی کی دسترس میں یہ حادثے ہیں ہمارے ہاتھوں میں نا مرادی کی چابیاں ہیں ہم اپنے کمرے کو اک اذیت سے کھولتے ہیں یہ شب کو گلیوں میں کون پھرتا ہے سر جھکائے چراغ طاقوں میں کس کے حصے کا اونگھتے ہیں کسی طرح سے انہیں حقیقت میں کھینچ لائیں ہم ...

مزید پڑھیے

تاریکیوں میں دیکھتا ہوں روز خون خواب

تاریکیوں میں دیکھتا ہوں روز خون خواب شب کو سہارا دیتا شکستہ ستون خواب ہر آنکھ کے لیے نہیں ہوتی سکوں کی نیند ہر نیند کے لیے نہیں ہوتا سکون خواب اپنی خوشی میں کس کو بتاؤں کہ ان دنوں اک شخص آ کے ملتا ہے مجھ کو درون خواب پرواز دیکھتا تھا ہماری ستارہ ساز ہم کو گئے دنوں میں بہت تھا ...

مزید پڑھیے

اب ہجر نبھانے کی ترکیب الگ ہوگی

اب ہجر نبھانے کی ترکیب الگ ہوگی دکھ سارے وہی ہوں گے ترتیب الگ ہوگی ویسے تو زمانے میں لاکھوں ہی مثالیں ہیں ہم سولی چڑھیں گے جب تقریب الگ ہوگی کچھ یار کی بستی میں آنکھوں سے اجالے ہیں جگ مگ کو ستاروں کی تنصیب الگ ہوگی ہم خانہ بدوشوں نے بس اس لیے ہجرت کی سوچا تھا کہ گاؤں کی تہذیب ...

مزید پڑھیے

بے سبب ہنسنے مسکرانے سے

بے سبب ہنسنے مسکرانے سے رنج چھپ جائے گا زمانے سے وقت کی واپسی نہیں ہوتی گھڑی کی سوئیاں گھمانے سے آگہی کا مرض لگا ہم کو اک محبت کے کارخانے سے کتنے منظر بدل گئے ہیں دوست گھر کی دیوار کو گرانے سے ہم پہ واجب تھا احترام اس کا اس کو نسبت تھی اک گھرانے سے

مزید پڑھیے

خود اپنے مرکز و محور سے دور ہٹتے ہوئے

خود اپنے مرکز و محور سے دور ہٹتے ہوئے پہنچ چکا ہوں کہاں دائرے بدلتے ہوئے بجھے ہوؤں سے بھی ملتا ہے درس مایوسی ہماری سمت نہ دیکھیں چراغ جلتے ہوئے وہ خطہ خشک تھا تر ہوتے میں نے دیکھا ہے وہ آنکھ سرخ ہوئی پیرہن بدلتے ہوئے میں اس لیے بھی کھڑا تھا جھکا کے سر اپنا تو شرمسار نہ ہو بات ...

مزید پڑھیے

ایک دو تین نہیں سارے قبائل کر لے

ایک دو تین نہیں سارے قبائل کر لے کوئی منطق ہے ترے پاس جو قائل کر لے جرم ثابت ہے معافی تو نہیں ہو سکتی پیش کرنے ہیں اگر تو نے دلائل کر لے صف اول کا سپاہی ہوں سو مرنے سے رہا اب تو آیا ہے تو یوں کر مجھے گھائل کر لے قحط ہوں اور ترے شہر میں پڑ سکتا ہوں جتنے کر سکتا ہے مٹھی میں وسائل کر ...

مزید پڑھیے

جلیس کی دعوت اور لاہور سے واپسی

ابراہیم جلیس کراچی میں قیام پذیر تھے ۔ قتیل شفائی، احمد ندیم قاسمی کے علاوہ کچھ اور دوست جب کراچی تشریف لے جاتے تو جلیس ملتے ہی پوچھتے’’کب تک قیام ہے ؟‘‘اور جب ملاقاتی کہتا کہ فلاں تاریخ تک ہے تو فوراًجواب دیتے کہ اس دن تو میں آپ کی دعوت کرنا چاہتا تھا۔ دوچار دفعہ جب ایسا ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1836 سے 6203