قومی زبان

دل کی باتیں ہیں یہ بوجھل نہ بناؤں اس کو

دل کی باتیں ہیں یہ بوجھل نہ بناؤں اس کو مصلحت یہ ہے کہ کچھ بھی نہ بتاؤں اس کو شہر میں جا کے کہوں کس سے برا حال اپنا کوئی اپنا ہو تو احوال سناؤں اس کو آ بسیں دل میں بھی روزی کی تمنائیں اب اب کہاں جاؤں کہ دنیا سے چھپاؤں اس کو ہر گلی کوچۂ قاتل ہے دل ایذا طلب کوئی مشکل ہو تو آسان ...

مزید پڑھیے

شہر میں بن کے محبت کا گداگر مانگوں

شہر میں بن کے محبت کا گداگر مانگوں مجھ کو مانگے سے ملے وہ تو میں در در مانگوں دہر کی دار پہ جھولوں بھی تو کیسے جھولوں غم دنیا بھی ترے قد کے برابر مانگوں اک طرف دل کہ ترے غم سے ابھرتا ہی نہیں اک طرف میں کہ تری دید کا گوہر مانگوں تیری یادوں کی اڑانیں بھی بہت خوب مگر دل یہ کہتا ہے ...

مزید پڑھیے

تجھ کو دیکھا تو مری آنکھ نے دیکھا مجھ میں

تجھ کو دیکھا تو مری آنکھ نے دیکھا مجھ میں جھلملاتا ہے کوئی پہلے ہی تجھ سا مجھ میں ایک گرتے ہوئے ایواں کا بھروسا کیا ہے بس اسی خوف سے وہ شخص نہ ٹھہرا مجھ میں اتنا گہرا تھا کہ گہرائی مجھے لے ڈوبی سب کناروں پہ رہے کوئی نہ اترا مجھ میں بیٹھ جاتا ہے تھکا درد یہاں آ کے کبھی یاد کیا ہے ...

مزید پڑھیے

چارہ سازی کا طلب گار لگے ہے وہ بھی

چارہ سازی کا طلب گار لگے ہے وہ بھی اک مسیحا ہے سو بیمار لگے ہے وہ بھی جس کی خاطر لی زمانے کی عداوت ہم نے اب زمانے کا طرف دار لگے ہے وہ بھی اب رگ جاں کو بچاؤں تو بچاؤں کیسے سانس چلتی ہے تو تلوار لگے ہے وہ بھی کس طرح منزلیں طے ہوں گی بدن کی اے دل اس سے ملتا ہوں تو دیوار لگے ہے وہ ...

مزید پڑھیے

احساس بے زباں کی لطافت اسی میں تھی

احساس بے زباں کی لطافت اسی میں تھی میں نے کہا نہ کچھ کہ محبت اسی میں تھی یہ شہر جس میں نام کمانا محال تھا ہم گفتگوئے شہر تھے شہرت اسی میں تھی ویسے تو دل کے ٹوٹنے کا کچھ نہیں ملال لیکن ترے جمال کی صورت اسی میں تھی اچھا ہوا کہ دیکھنے آیا نہ وہ ہمیں چہرے پہ پت جھڑوں کی بھی عزت اسی ...

مزید پڑھیے

کم کبھی راہ کے آزار تو ہوتے ہوں گے

کم کبھی راہ کے آزار تو ہوتے ہوں گے آبلہ پائی کہیں خار تو ہوتے ہوں گے مجھ سے یہ سوچ کے وہ میرا پتا پوچھے تھا تنگ دستوں کے بھی گھر بار تو ہوتے ہوں گے اس سے بچھڑا میں اندھیروں کا مکیں ہوں ورنہ کوئی گھر ہو در و دیوار تو ہوتے ہوں گے وہ جہاں بھی ہو اسے دیکھ کے اس شہر کے لوگ کو بہ کو نقش ...

مزید پڑھیے

نقش دیوار شکستہ ہی کہیں ہو مجھ میں

نقش دیوار شکستہ ہی کہیں ہو مجھ میں درد ہو یاد ہو کوئی تو مکیں ہو مجھ میں اک جزیرہ ہوں تہ خون تمنا کب سے پاؤں رکھنے کے لیے کچھ تو زمیں ہو مجھ میں خون باقی ہے تو پھر زخم سے باہر آئے رنگ دکھلائے جو اک بوند یقیں ہو مجھ میں میں ترے غم کی امانت کو سنبھالے رکھوں سانس کوئی تو مگر میرا ...

مزید پڑھیے

تھا بھلانا جنہیں پھر بھی وہی غم یاد آئے

تھا بھلانا جنہیں پھر بھی وہی غم یاد آئے ہم ملے بھی تو زمانے کے ستم یاد آئے کار دنیا میں نہ شبنم ہے نہ عنبر نہ گلاب دہر دیکھا تو تری زلف کے خم یاد آئے یاد کر کے تمہیں رونے کا زمانہ بھی گیا آج رویا ہوں تو سمجھا ہوں کہ تم یاد آئے بھر کے جھیلوں کو چلا جاتا ہے ساون جیسے اس طرح یاد ہے ...

مزید پڑھیے

یہ حادثہ ہے مگر اس طرف ہوا بھی نہیں

یہ حادثہ ہے مگر اس طرف ہوا بھی نہیں جدا ہوا بھی تو اس سے جو جانتا بھی نہیں کبھی تو سوچ تجھے کتنا سوچتا ہوگا وہ غم زدہ جو تری سمت دیکھتا بھی نہیں یہ دل نے روٹھ کے کن مشکلوں میں ڈال دیا اسی کو چاہنا اور اس سے بولنا بھی نہیں ہمیں تو نیند میں سپنوں کی بھی مناہی ہے دریچے بند بھی رکھنے ...

مزید پڑھیے

زندگی اپنی ہوئی یار کی فطرت کی طرح

زندگی اپنی ہوئی یار کی فطرت کی طرح ہم بھی کل ہوں کہ نہ ہوں اس کی عنایت کی طرح وقت ہم کو یہ برے دن نہ دکھاتا اے کاش ہم بھی اٹھ جاتے زمانے سے محبت کی طرح ہم تو ہر لمحے کو دیتے رہے سانسوں کا حساب ہم پہ ٹوٹا ہے ہر اک لمحہ قیامت کی طرح گل کھلائے گا یہ مقتول لہو دھرتی پر کسی رخسار پہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1820 سے 6203