قومی زبان

چھوٹی سی برقعہ والی

وہ دیکھو جا رہی ہے چھوٹی سی برقع والی برقع لٹک رہا ہے دامن گھسٹ رہا ہے نیچے کا سارا حصہ مٹی میں اٹ رہا ہے یہ ڈھیلا ڈھالا برقع دب دب کے پھٹ رہا ہے ہر مرتبہ ہوا سے مقنع الٹ رہا ہے پر ڈالے جا رہی ہے چھوٹی سی برقع والی صورت سے سن میں بیگم سات آٹھ سال ہوں گی پردہ کی پر یہ بولو دل میں نہال ...

مزید پڑھیے

اس کو برسوں بعد تنہا جانے میں کیسا لگا

اس کو برسوں بعد تنہا جانے میں کیسا لگا مجھ کو تو وہ اجنبی کے ساتھ بھی اچھا لگا ایک مدت سے نہ دیکھا تھا اٹھا کر اس کا غم اس کا غم بھی گرد میں لپٹا ہوا تحفہ لگا تھی لکھائی بھی اسی کی دستخط بھی اس کے تھے کیوں خط ترک تعلق غیر کا لکھا لگا ساحلوں پر بن سکا اس سے نہ کچھ رشتہ مگر اس نے ...

مزید پڑھیے

درد اٹھ اٹھ کے یہ کہتا ہے رگ جاں کے قریب

درد اٹھ اٹھ کے یہ کہتا ہے رگ جاں کے قریب ابھی زنداں میں ہوں لیکن در زنداں کے قریب آگ جنگل بھری نیندوں میں لگانے والے تم بھی آنا نہ مرے خواب پریشاں کے قریب خشک آنکھوں میں ترے خواب بساؤں کیسے کوئی چشمہ بھی ضروری ہے بیاباں کے قریب سردیوں کی یہ خنک دھوپ بھی پگھلانے لگی جیسے بیٹھا ...

مزید پڑھیے

تھی قہر سادگی بھی سنورنے سے پیشتر

تھی قہر سادگی بھی سنورنے سے پیشتر شہ رگ پہ نیشتر تھا اترنے سے پیشتر پھرتا ہوں در بدر میں مگر مثل بوئے گل میرا بھی تھا مقام بکھرنے سے پیشتر بے اشک کیا ہوا کہ میں بے عکس ہو گیا آئینہ تھا یہ پانی اترنے سے پیشتر ہجرت سے پہلے ہجر کے تھے وسوسے مجھے ہر لمحہ حادثہ تھا گزرنے سے ...

مزید پڑھیے

مشکل میں رہا وہ بھی کہ تدبیر نہ تھا میں

مشکل میں رہا وہ بھی کہ تدبیر نہ تھا میں میں خواب تو تھا اس کا پہ تعبیر نہ تھا میں یوں بھی ہوا اس نے مجھے سجدوں سے نوازا بد بختی سے جس شخص کی تقدیر نہ تھا میں وہ چھوڑ گیا راہ میں یہ اس کی رضا تھی ویسے بھی کسی پاؤں میں زنجیر نہ تھا میں اس ذوق سخن نے کیا رسوائے زمانہ پہلے تو ترے راز ...

مزید پڑھیے

ماتھے پہ پڑی زلف گرہ گیر ہلا دی

ماتھے پہ پڑی زلف گرہ گیر ہلا دی کیوں تم نے دل خفتہ کی زنجیر ہلا دی ویسے تو مرے عشق کا ہر نقش حسیں تھا جب درد نے کھینچی تو یہ تصویر ہلا دی خط بھیج دیا کاٹ کے پیمان ملاقات یہ کون ہے جس نے تری تحریر ہلا دی یوں ہی نہ سمجھ اہل محبت کے جنوں کو کم بخت نے جب چاہا ہے تقدیر ہلا دی وہ زلزلہ ...

مزید پڑھیے

جوش پر آیا نہیں ہے رقص مستانہ ابھی

جوش پر آیا نہیں ہے رقص مستانہ ابھی رہنے دو گردش میں تھوڑی دیر پیمانہ ابھی جام خالی ہو کسی کا کوئی خم کے خم چڑھائے یار سمجھے ہی نہیں آداب مے خانہ ابھی اک ذرا پیر مغاں دے دے ہمیں بھی اختیار لا کے جوبن پر دکھا سکتے ہیں مے خانہ ابھی عشق کی فطرت نہ بدلی ہے نہ بدلے گی کبھی شمع روشن ...

مزید پڑھیے

جگر کے خون سے تزئین بال و پر کر دی

جگر کے خون سے تزئین بال و پر کر دی چمن اسیر نے یوں زندگی بسر کر دی حکایت غم دل یوں بھی مختصر ہی تھی تمہارے کہنے سے لو اور مختصر کر دی مری وفا کی کہانی سے کون واقف تھا تمہارے جور نے تشہیر در بدر کر دی قدم بڑھاؤ کہ منزل قریب ہے شاید تبھی تو راہ حریفوں نے تنگ تر کر دی یہ کس جہان ...

مزید پڑھیے

شہروں میں ناچتا ہوا جنگل ہے اور میں

شہروں میں ناچتا ہوا جنگل ہے اور میں صدیوں کے بعد بھی وہی قاتل ہے اور میں پاؤں کی گرد ہو چکیں کتنی مسافتیں اب بھی مگر وہ دورئ منزل ہے اور میں سمجھوں اب اور کیا تجھے کافر ادا نظام برسوں سے ایک وعدۂ باطل ہے اور میں پوچھو پسند تو ہے وہی چشم نیم باز ویسے ہر ایک گام پہ مقتل ہے اور ...

مزید پڑھیے

وہ تو حشر تھا مگر اس کی اب وہ شباہتیں بھی چلی گئیں

وہ تو حشر تھا مگر اس کی اب وہ شباہتیں بھی چلی گئیں جو رہیں تو شہر میں کیا رہیں کہ قیامتیں بھی چلی گئیں ترے دم سے تھیں سبھی رونقیں وہ حبیب تھے کہ رقیب تھے وہ قرابتیں تو گئی ہی تھیں وہ رقابتیں بھی چلی گئیں ترا قرب گرچہ تھا جاں گسل وہی قرب تھا مری زندگی ترے بعد مرگ و حیات کی وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1819 سے 6203