قومی زبان

کیوں جوئے رواں آ کے یوں آنکھوں میں کھڑی ہے

کیوں جوئے رواں آ کے یوں آنکھوں میں کھڑی ہے لگتا ہے پہاڑوں پہ کہیں برف پڑی ہے اے درد کبھی اٹھ بھی سہی تنگئ دل سے مدت سے در دل پہ کوئی یاد کھڑی ہے منزل کو چلے یا کسی مقتل کو چلے ہیں ہر راہ یوں لگتی ہے کہ زنجیر پڑی ہے یوں ہی تو نہیں بیٹھ گئے جھاڑ کے دامن محرومیٔ تقدیر سے امید بڑی ...

مزید پڑھیے

جب ایک گلعذار کی صحبت میں آ گیا

جب ایک گلعذار کی صحبت میں آ گیا عارض کا رنگ میری طبیعت میں آ گیا اپنی رضا سے جس نے مراسم بڑھائے تھے عرض طلب پہ وہ بھی نزاکت میں آ گیا جی کے ضرر کو کون اٹھاتا ہے آج کل اس دل کو داد دے کہ محبت میں آ گیا پھرتا ہوں دہر میں لیے یہ دوستی کا ہاتھ لگتا ہے میں بھی کوئے ملامت میں آ گیا بے ...

مزید پڑھیے

نہ تلافیاں ہی مانگیں نہ وفا نہ پیار مانگیں

نہ تلافیاں ہی مانگیں نہ وفا نہ پیار مانگیں چلو آج اس سے کھویا ہوا اعتبار مانگیں ترے شہر میں ہمیشہ یہی قلتیں سہی ہیں کبھی اس سے طوق مانگیں کبھی اس سے داد مانگیں ترے عہد میں نہ جینا ترے عہد میں نہ مرنا ہمیں اختیار ہو تو کوئی اختیار مانگیں تری بے رخی کے صدقے تری بے رخی نہیں ہے یہی ...

مزید پڑھیے

غم تو یہ بھی ہے کہ تقدیر بھی روئی برسوں

غم تو یہ بھی ہے کہ تقدیر بھی روئی برسوں ہائے وہ زلف گرہ گیر بھی روئی برسوں دل کسی ساعت گریاں کا نوشتہ جس کی ہوئی تفسیر تو تفسیر بھی روئی برسوں آب دیدہ بھی تھا میں نقش بہ دیوار بھی تھا مجھ کو دیکھو کہ یہ تصویر بھی روئی برسوں اس کو بھی کرنا پڑی دشت نوردی کیا کیا پاؤں پڑ کر مرے ...

مزید پڑھیے

جسم کا گھر ہی گرا ہے تو نہ جاں ٹھہرے گی

جسم کا گھر ہی گرا ہے تو نہ جاں ٹھہرے گی یاد آئی بھی کسی کی تو کہاں ٹھہرے گی تھک کے بیٹھا ہوں مگر زندگی بھاگی جائے میں چلا جاؤں گا تو عمر رواں ٹھہرے گی اس کے در سے جو اٹھے شہر سے پھر کیا مطلب کسی صحرا میں ہی اب نقل مکاں ٹھہرے گی بھول کر بھی نہ بھلانا اسے اے دل ورنہ یہ سبک دوشی بھی ...

مزید پڑھیے

پوچھو گے تو کھل جائے گی زخموں کی زباں اور

پوچھو گے تو کھل جائے گی زخموں کی زباں اور پرشش تو گزرتی ہے غم دل پہ گراں اور منظور جلانا ہے تو اک بار جلا دو یوں دل کے سلگنے سے تو اٹھتا ہے دھواں اور خاموشی نے رسوائی کے گل اور کھلائے دفنایا محبت کو تو ابھرے ہیں نشاں اور اس جیسا زمانے میں کوئی ایک تو ہوتا اس در سے اٹھیں اٹھ کے ...

مزید پڑھیے

یہ اتفاق تھا میں اس کا ہم زمانہ تھا

یہ اتفاق تھا میں اس کا ہم زمانہ تھا جو زندگی سے تعارف تھا غائبانہ تھا کہیں ملے تو کبھی عمر رفتہ سے پوچھوں کہاں ہے آج ترا جس سے دوستانہ تھا بنا کے اب مجھے ایندھن جلائے جاتا ہے یہی تھی شاخ کبھی جس پہ آشیانہ تھا کبھی جو زعم ہوا وقت رہ گیا پیچھے نظر اٹھائی تو دیکھا وہی زمانہ ...

مزید پڑھیے

گلوں کو چوم کر آئی صبا سی لگتی تھی

گلوں کو چوم کر آئی صبا سی لگتی تھی تھی اک نظر پہ معطر ہوا سی لگتی تھی میں زخم زخم تھا لیکن گلاب ہاتھوں میں بڑی تھی چوٹ تو لیکن ذرا سی لگتی تھی وہ ترش گو لب جاں بخش بھی تھا کیا کہئے کہ تلخ بات بھی اس کی دوا سی لگتی تھی ستم کو حسن ستم کر گیا وہی ورنہ یہی تھی زندگی لیکن سزا سی لگتی ...

مزید پڑھیے

اس نے پوچھا تو فقط درد کا افسانہ کھلا

اس نے پوچھا تو فقط درد کا افسانہ کھلا کسی صورت بھی نہ راز دل دیوانہ کھلا ہر نفس پائے جنوں کے لیے زنجیر گراں کو بہ کو پھرتا رہا پھر دل دیوانہ کھلا جل کے مرتے ہیں پہ اظہار کے شعلوں میں نہیں حادثوں یوں بھی ہوا شمع سے پروانہ کھلا ہجر کی رات ڈھلی صبح کے ساغر میں مگر نیند آئی نہ تری ...

مزید پڑھیے

کٹ گئے ہم تو حبیبوں سے اجازت لے کر

کٹ گئے ہم تو حبیبوں سے اجازت لے کر ہم سے ملتا ہے رقیبوں سے اجازت لے کر نہیں چارہ تو ہے تہذیب اسی میں اے جاں آج مر جائیں طبیبوں سے اجازت لے کر ہم تو مرتے رہے شمشاد قدوں پر اکثر کیا جئیں آج صلیبوں سے اجازت لے کر تم نے پوچھا تو عنایت ہے تمہاری ورنہ کون جاتا ہے غریبوں سے اجازت لے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1821 سے 6203