قومی زبان

سوکھا سوکھا دریا کا دل ہوتا ہے

سوکھا سوکھا دریا کا دل ہوتا ہے پیاس بجھانا کتنا مشکل ہوتا ہے جس نے عشق کیا مجھ سے سب کو ٹوکے زیست نہیں یہ ذات میں شامل ہوتا ہے شام ہوا میں یاد تمہاری ہوتی ہے شام کو سینہ بوجھل بوجھل ہوتا ہے بارش تک بارش کو ٹالے رکھتا ہوں پانی میں پھر پانی شامل ہوتا ہے اس نے مجھ کو بول دیا ...

مزید پڑھیے

ذرا سا بے وفا سا ہو گیا ہوں (ردیف .. ا)

ذرا سا بے وفا سا ہو گیا ہوں تری صحبت کی یہ تاثیر ہے کیا کوئی پتا تلک ہلتا نہیں ہے ہوا کے پیر میں زنجیر ہے کیا تری نظروں سے بھی کیا خوف کھانا نظر تیری کوئی شمشیر ہے کیا ترے لکھے کو میں سچ مان بیٹھوں خدا کے ہاتھ کی تحریر ہے کیا

مزید پڑھیے

مسائل یہ بھی حل کر دیکھتا ہوں

مسائل یہ بھی حل کر دیکھتا ہوں کبھی خود سے نکل کر دیکھتا ہوں مرے دل تک کوئی آتا نہیں کیوں چلو چہرہ بدل کر دیکھتا ہوں کبھی گر خواب میں دیکھوں تجھے میں تو بستر سے اچھل کر دیکھتا ہوں سنا اک آگ سی تجھ میں ہے تو پھر کیا یہ طے کی جل کر دیکھتا ہوں تمہارے ساتھ کب تک چل سکوں گا چلو کچھ ...

مزید پڑھیے

ہے حسن کا اعجاز کہ اعجاز نظر کیا

ہے حسن کا اعجاز کہ اعجاز نظر کیا آنکھوں میں ہیں پوشیدہ ترے لعل و گہر کیا اشکوں کے ستارے کجی یادوں کے شرر ہیں اب ان کے سوا اور نہیں شام و سحر کیا پھر عرصۂ مہتاب ہے شب خوں کی کہانی کرنوں کی سنانیں ہیں کہ ہیں تار جگر کیا یہ رات یہ مہتاب یہ خوشبو یہ ترنم عکس غم جاناں بھی ہے تسکین ...

مزید پڑھیے

وہ ترا شہر ترے شہر کا ہر رنگ جدا یاد آیا

وہ ترا شہر ترے شہر کا ہر رنگ جدا یاد آیا آنکھ بند ہوتے ہی اک منظر تمثیل نما یاد آیا بے نیازانہ وہ دل داریٔ جاں پرسش غم کی کوشش آنکھ بھر آئی ہے جب جب ترا انداز وفا یاد آیا جب دل زار ہر اک چیز سے تھک ہار کے اکتا سا گیا ایک اک پل جو ترے ساتھ گزارا تھا بڑا یاد آیا صبح دم صحن وطن نغمۂ ...

مزید پڑھیے

ہمدم

زندگی بوجھ سہی بوجھ کا احساس نہ کر منزلیں دور سہی اس کا تردد بیکار جب قدم عزم سے اٹھیں گے تو رستہ طے ہے اور پھر راہ میں کانٹوں کے سوا نرمیٔ گل بھی تو موجود ہے سبزہ بھی ہے چلتے چلتے یوں ہی عادت بھی ہوئی جاتی ہے تھک گئے ہوں تو یہاں چھاؤں بھی سایہ بھی ہے گرمیٔ مہر ستاتی ہے مگر یوں بھی ...

مزید پڑھیے

انفرادیت

اوروں سے الگ دنیا سے جدا یکتائے زمانہ ہوں گویا آپ اپنی خودی کا مظہر ہوں نقاش ازل کا شہ پارہ جس سوچ میں ڈوبی رہتی ہوں سب لوگ اسے کیا جانیں غم اور خوشی کا پیمانہ اوروں سے ہے یکسر بیگانہ کچھ رنگ مرے محبوب نظر کچھ شعر مرے تسکین جگر کچھ راگ ہیں ایسے جو روح کے بربط پر بجتے ہیں خوابوں ...

مزید پڑھیے

اس بات کا دیکھو دھیان رہے

تم اکثر کہتے رہتے ہو پھولوں کا کیا ہے کچھ دیر میں مرجھا جاتے ہیں اور یہ راتیں چاندی سی دو دن کی کہانی ہے ان کی لمحوں میں بکھر کر رہ جاتی ہے موتی کی طرح شبنم کی لڑی میں اکثر سوچا کرتی ہوں کیا موسم گل ہی سب کچھ ہے اور خواب بہاراں کچھ بھی نہیں بلور سے ترشی مورت سے الگ کیا عکس نگاراں ...

مزید پڑھیے

انتظار

وہ لحن جو صدیوں صدیوں تک انسان کے دل کی دھڑکن تھا اس لحن کا جادو ٹوٹ گیا فردوس کے نغمے خواب الست عقبیٰ کی کہانی نقش کہن کہسار پہ بادل سرگرداں افلاک کے قیدی شمس و قمر تاریخ نوائے پارینہ مذہب کی روایت فرسودہ اخلاق کی قدریں چکنا چور تہذیب کے مندر بوسیدہ فطرت کا سہارا کیا ...

مزید پڑھیے

آخر شب کے مہمان

پھر رات کی لانبی پلکوں پر تخیل کے موتی ڈھلتے ہیں پھر وقت کا افسوں جاگا ہے خوشیوں کے خزانے لٹتے ہیں اور دل کے ضیافت خانے کے ہر گوشے میں شمعیں جلتی ہیں پھولوں سے سجی ہیں محرابیں خوشیوں کی دہکتی منقل سے تنویر کے ہالے بنتے ہیں خوابیدہ دریچے کھلتے ہیں دروازوں کے پردے ہلتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1818 سے 6203