قومی زبان

کوئی ثبوت نہ ہوگا تمہارے ہونے کا

کوئی ثبوت نہ ہوگا تمہارے ہونے کا نہ آیا فن جو قلم خون میں ڈبونے کا ہر ایک بات پہ بس قہقہے برستے ہیں یہ طرز کتنا نرالا ہے دل کے رونے کا شروع تم نے کیا تھا تمہیں بھگتنا ہے جو سلسلہ تھا غلط فہمیوں کو بونے کا شناخت ہو تو گئی اپنے اور پرائے کی نہیں ہے غم مجھے عمر عزیز کھونے کا رئیسؔ ...

مزید پڑھیے

بند ہے آج بھی ترسیل پہ راہ الفاظ

بند ہے آج بھی ترسیل پہ راہ الفاظ میں کہ مضمون ہوں پھر بھی ہوں تباہ الفاظ آج اوراق نوردی ہے مقدر لیکن کل مورخ مجھے ٹھہرائے گا شاہ الفاظ کاش مفہوم گزیدہ کوئی پتھر ہی ملے سنگ زاروں میں بھٹکتی ہے نگاہ الفاظ لوگ سمجھیں گے نہ جانیں گے مری بات مگر میرے سر آئے گا پھر بھی یہ گناہ ...

مزید پڑھیے

تمام شہر میں ہے عام کاروبار ہوس

تمام شہر میں ہے عام کاروبار ہوس کہ چہرے چہرے پہ چسپاں ہے اشتہار ہوس ابھی رگوں میں ہے تلخیٔ اعتبار ہوس بدن میں ٹوٹ رہا ہے ابھی خمار ہوس جو چل پڑے ہو تو انجام گمرہی سے ڈرو سپرد خاک نہ کر دے یہ رہ گزار ہوس ہوا ہے گرم نہ کمرے کی کھڑکیاں کھولو نہ جانے شہر میں ٹھہرے کہاں غبار ...

مزید پڑھیے

ورق ورق تجھے تحریر کرتا رہتا ہوں

ورق ورق تجھے تحریر کرتا رہتا ہوں میں زندگی تری تشہیر کرتا رہتا ہوں بہت عزیز ہے مجھ کو مسافتوں کی تھکن سفر کو پاؤں کی زنجیر کرتا رہتا ہوں مصوروں کو ہے زعم مصوری لیکن میں اپنی زیست کو تصویر کرتا رہتا ہوں میں سونپ دیتا ہوں ہر رات اپنے خوابوں کو ہر ایک صبح کو تعبیر کرتا رہتا ...

مزید پڑھیے

ہوا نمناک ہوتی جا رہی ہے

ہوا نمناک ہوتی جا رہی ہے حویلی خاک ہوتی جا رہی ہے دریچہ کھولتے ہی تھم گئی ہے ہوا چالاک ہوتی جا رہی ہے ہمارے حوصلوں کے آگے مشکل خس و خاشاک ہوتی جا رہی ہے لہو کے ہاتھ دھوئے جا رہے ہیں ندی ناپاک ہوتی جا رہی ہے نئی تہذیب سے یہ نسل نو اب بہت بیباک ہوتی جا رہی ہے سمندر تھام لے موجوں ...

مزید پڑھیے

سینہ ہے ایک یاس کا صحرا لیے ہوئے

سینہ ہے ایک یاس کا صحرا لیے ہوئے دل رنگ گلستان تمنا لئے ہوئے ہے آہ درد و سوز کی دنیا لیے ہوئے طوفان اشک خون ہے گریہ لئے ہوئے اک کشتۂ فراق کی تربت پہ نوحہ گر داغ جگر میں شمع تمنا لئے ہوئے میں اک طرف ہوں شکل خزاں پائمال یاس اک سمت وہ بہار کا جلوہ لئے ہوئے جانا سنبھل کے اے دل بیتاب ...

مزید پڑھیے

مسافر شب

سکوت شب کی ہے جلوہ فروشی ہے موجودات پر چھائی خموشی فضائے شام کو نیند آ رہی ہے مناظر پر سیاہی چھا رہی ہے ہے بدلا رنگ دن کے شور و شر کا ہوا تاریکیوں کا دور دورا رکا ہنگامہ ہائے دن کا محشر بڑھا شب کا سکوں بر دوش منظر ہے آخر روز روشن کی کہانی ہوئی تاریک برد آسمانی گیا راحت کدے میں مہر ...

مزید پڑھیے

خود کو دنیا میں جھونکنا ہے مجھے

خود کو دنیا میں جھونکنا ہے مجھے اور پھر خود میں لوٹنا ہے مجھے میں نے اس ضد میں کھو دیا سب کچھ کھو گیا تھا جو ڈھونڈھنا ہے مجھے تم نے سوچا نہ میرے بارے میں اپنے بارے میں سوچنا ہے مجھے لوگ باتیں بنانے لگتے ہیں آب آنکھوں میں روکنا ہے مجھے اس سے پہلے کہ پیاس مر جائے اک سمندر تو ...

مزید پڑھیے

کچھ ایسا بھی نہیں میرا اکیلے دل نہیں لگتا

کچھ ایسا بھی نہیں میرا اکیلے دل نہیں لگتا کوئی جب ساتھ ہوتا ہے سفر مشکل نہیں لگتا تمہارے ساتھ ہونے کا ملا یہ فائدہ مجھ کو تمہارے ساتھ ہوتا ہوں تو میں جاہل نہیں لگتا خدا کی بات کرتا ہے بنا ذکر محبت کے تو واعظ ہو گیا ہے پر ابھی فاضل نہیں لگتا تمہاری مسکراہٹ کے لیے جینا ضروری ...

مزید پڑھیے

نئے چراغ چراغاں تو خیر کیا دیں گے

نئے چراغ چراغاں تو خیر کیا دیں گے بہت ہوا تو کہیں آگ ہی لگا دیں گے اگر ہے عشق تو ہم ساتھ لے کے جائیں گے اگر ہے خواب تو وعدہ رہا بھلا دیں گے سنا رہیں ہیں یہ اخبار راگ درباری ہمارے قتل کو بھی حادثہ بتا دیں گے اداس رات بھی تارے سجا کے رکھتی ہے اسے ملیں گے تو کچھ ہم بھی مسکرا دیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1817 سے 6203