یہ مرحلے بھی محبت کے باب میں آئے
یہ مرحلے بھی محبت کے باب میں آئے بچھڑ گئے تھے جو ہم سے وہ خواب میں آئے وہ جس کی راہ میں ہم نے بچھائے غنچہ و گل اسی مکان سے پتھر جواب میں آئے نہ جس کو دست حنائی کا تیرے لمس ملے کہاں سے بوئے وفا اس گلاب میں آئے تمہارے حسن نظر سے ہیں معتبر ہم بھی جو ہم کسی نگہ انتخاب میں آئے اگرچہ ...