قومی زبان

یہ مرحلے بھی محبت کے باب میں آئے

یہ مرحلے بھی محبت کے باب میں آئے بچھڑ گئے تھے جو ہم سے وہ خواب میں آئے وہ جس کی راہ میں ہم نے بچھائے غنچہ و گل اسی مکان سے پتھر جواب میں آئے نہ جس کو دست حنائی کا تیرے لمس ملے کہاں سے بوئے وفا اس گلاب میں آئے تمہارے حسن نظر سے ہیں معتبر ہم بھی جو ہم کسی نگہ انتخاب میں آئے اگرچہ ...

مزید پڑھیے

بے خودی ہے حسرتوں کی بھیڑ چھٹ جانے کے بعد

بے خودی ہے حسرتوں کی بھیڑ چھٹ جانے کے بعد آپ ہی گم ہو گئے ہم راستہ پانے کے بعد میں ہوں وہ شعلہ بھڑکتا ہے جو بجھ جانے کے بعد میں ہوں ایسا پھول کھلتا ہے جو مرجھانے کے بعد مل گئے ہم خاک میں پردے کے اٹھ جانے کے بعد کچھ نظر آنے سے پہلے کچھ نظر آنے کے بعد کس طرح جلوے کو دیکھا دیکھ کر ...

مزید پڑھیے

آدمی آدمی سے ملتے ہیں

آدمی آدمی سے ملتے ہیں آپ بھی کیا کسی سے ملتے ہیں یہ حسیں جس کسی سے ملتے ہیں جانتا ہے مجھی سے ملتے ہیں ہم سے فرقت نصیب کیا جانیں جو مزے زندگی سے ملتے ہیں کیا بتائیں جنوں میں کیا کیا لطف ہم کو ان کی ہنسی سے ملتے ہیں کیا کہیں جب وہ ملتے ہیں تنہا ان سے ہم کس خوشی سے ملتے ہیں اس کی ...

مزید پڑھیے

نہیں ہے امن کا دنیا میں اب مقام کوئی

نہیں ہے امن کا دنیا میں اب مقام کوئی خدا خدا کہے کوئی کہ رام رام کوئی مرے بنائے تو بنتا نہیں ہے کام کوئی وہ کارساز کرے اس کا انتظام کوئی نہ ہوگا بزم کا باتوں سے انتظام کوئی خود اپنی بات پہ تجھ کو نہیں قیام کوئی تمہارے ہو کے جو ہم ذلتیں اٹھاتے ہیں ذلیل ہوگا کسی کا نہ یوں غلام ...

مزید پڑھیے

جب کبھی قافلۂ ابر رواں ہوتا ہے

جب کبھی قافلۂ ابر رواں ہوتا ہے شاخ در شاخ اک احساس جواں ہوتا ہے بوئے گل موج صبا سے یہ کہے ہے دیکھو کون اب ہم سفر عمر رواں ہوتا ہے یہ تصور جو سہارا ہے مرے جینے کا یہ تصور بھی کسی وقت گراں ہوتا ہے دن رہے چاہے پگھلنے لگے سورج سے بدن رات پر تو کسی قاتل کا گماں ہوتا ہے کتنے لمحے ہیں ...

مزید پڑھیے

دھوپ رخصت ہوئی شام آئی ستارا چمکا

دھوپ رخصت ہوئی شام آئی ستارا چمکا گرد جب بیٹھ گئی نام تمہارا چمکا ہر طرف پانی ہی پانی نظر آتا تھا مجھے تم نے جب مجھ کو پکارا تو کنارا چمکا مسکراتی ہوئی آنکھوں سے ملا اذن سفر شہر سے دور نہ جانے کا اشارا چمکا ایک تحریر کہ جو صاف پڑھی بھی نہ گئی مگر اک رنگ مرے رخ پہ دوبارا چمکا آج ...

مزید پڑھیے

آوارہ بوئے گل کی طرح ہیں چمن سے دور

آوارہ بوئے گل کی طرح ہیں چمن سے دور لغزیدہ پا نہیں ہیں مگر ہم وطن سے دور تاریک راستوں میں بچھاتے ہیں روشنی ایسے بھی کچھ چراغ جلے انجمن سے دور جس نے نسیم صبح کو بخشی ہے تازگی خوشبو وہ کس قدر ہے پریشاں چمن سے دور وہ لوگ جن کا خون ہے رنگ بہار میں رکھا گیا ہے ان کو ہی صحن چمن سے ...

مزید پڑھیے

اب تو جو منظر شاداب نظر آتا ہے

اب تو جو منظر شاداب نظر آتا ہے ایسا لگتا ہے کوئی خواب نظر آتا ہے اس حسیں شہر میں ہر سمت ہے لوگوں کا ہجوم اور انساں ہے کہ نایاب نظر آتا ہے کب تلک جنس وفا شہر میں ارزاں ہوگی اب یہ دریا بھی تو پایاب نظر آتا ہے گردش وقت نے ایسے بھی تراشے ہیں سراب دشت بے آب میں گرداب نظر آتا ہے ہونے ...

مزید پڑھیے

جبہ کسی کا اور نہ دستار دیکھنا

جبہ کسی کا اور نہ دستار دیکھنا ہے کون مفلسوں کا طرف دار دیکھنا طرز سخن نہ شوخئ گفتار دیکھنا انسانیت کا کون ہے غم خوار دیکھنا یہ عرصۂ حیات بھی سورج کی زد پہ ہے لمحوں کے بعد سایۂ دیوار دیکھنا ہر زاد یہ حیات کا میری نظر میں ہے میرا سفر ہے صورت پرکار دیکھنا دیوار و در پہ کیسی مسلط ...

مزید پڑھیے

کس کو معلوم تھا اک روز کہ یوں ہونا تھا

کس کو معلوم تھا اک روز کہ یوں ہونا تھا مستقل ضبط کا انجام جنوں ہونا تھا عمر بھر زیست کے کاغذ پہ مشقت لکھنا یعنی اک شخص کا اس طرح بھی خوں ہونا تھا بے حسی ملتی مجھے شہر میں جینے کے لیے یا مرا دست ہنر دست فسوں ہونا تھا فاصلہ قرب کی ساعت میں سمٹ سکتا تھا سر جھکا تھا تو ترا دل بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1815 سے 6203