تمام شہر تھا جنگل سا اینٹ پتھر کا
تمام شہر تھا جنگل سا اینٹ پتھر کا غضب وہ دیکھ کے آیا ہوں باد صرصر کا صدائیں چشمے ابلنے کی آ رہی ہیں مجھے کسی نے توڑ دیا کیا سکوت پتھر کا ملا ہے خاک نشینی سے یہ مقام مجھے زمیں ہے تخت فلک تاج ہے مرے سر کا مجھے تو کوئی بھی موسم اڑا نہیں سکتا کہ میں تو رنگ ہوں اس کے ادھورے منظر ...