قومی زبان

تمام شہر تھا جنگل سا اینٹ پتھر کا

تمام شہر تھا جنگل سا اینٹ پتھر کا غضب وہ دیکھ کے آیا ہوں باد صرصر کا صدائیں چشمے ابلنے کی آ رہی ہیں مجھے کسی نے توڑ دیا کیا سکوت پتھر کا ملا ہے خاک نشینی سے یہ مقام مجھے زمیں ہے تخت فلک تاج ہے مرے سر کا مجھے تو کوئی بھی موسم اڑا نہیں سکتا کہ میں تو رنگ ہوں اس کے ادھورے منظر ...

مزید پڑھیے

ابر ہوں اور برسنے کو بھی تیار ہوں میں

ابر ہوں اور برسنے کو بھی تیار ہوں میں تجھ کو سیراب کروں گا کہ دھواں دھار ہوں میں اب تو کچھ اور ہی خطرات سے دو چار ہوں میں اپنے ہی سر پہ لٹکتی ہوئی تلوار ہوں میں تب میں اک آنکھ تھا جب تو کوئی منظر بھی نہ تھا آج تصویر ہے تو نقش بہ دیوار ہوں میں ہجر کے بعد کے منظر کا کنایہ ہوں ...

مزید پڑھیے

چھیڑا ہے نیا نغمہ حیات ابدی نے

چھیڑا ہے نیا نغمہ حیات ابدی نے اس بار تبسم نہ کیا سن کے کلی نے لفظوں میں اترنے کا ہنر سیکھ رہا ہوں خطرے میں ہیں الفاظ کے سینوں میں دفینے وہ ہیں کہ بھٹکتے ہیں ابھی پیاس کے مارے ہم ہیں کہ ڈبو آئے سرابوں میں سفینے سنتا ہوں تڑپتے ہوئے پانی کا فقط شور حساس بنایا ہے مجھے تشنہ لبی ...

مزید پڑھیے

ہماری طرح حروف جنوں کے جال میں آ

ہماری طرح حروف جنوں کے جال میں آ کبھی تو جلوہ گہہ نون جیم دال میں آ ابھی تو گرد زمانے کی اڑ رہی ہے یہاں ابھی نہ مثل صبا کوچۂ خیال میں آ گزر نہ جائے کہیں خامشی میں یہ شب بھی مراقبہ تو ہوا اب ذرا جلال میں آ تجھے بھی آج کوئی روپ بخشتا ہی چلوں تو سنگ ہے تو مرے دست با کمال میں آ یہاں ...

مزید پڑھیے

اسے بھلا کے بھی یادوں کے سلسلے نہ گئے

اسے بھلا کے بھی یادوں کے سلسلے نہ گئے دل تباہ ترے اس سے رابطے نہ گئے کتاب زیست کے عنواں بدل گئے لیکن نصاب جاں سے کبھی اس کے تذکرے نہ گئے مجھے تو اپنی ہی سادہ دلی نے لوٹا ہے کہ میرے دل سے مروت کے حوصلے نہ گئے میں چاند اور ستاروں کے گیت گاتا رہا مرے ہی گھر سے اندھیروں کے قافلے نہ ...

مزید پڑھیے

خود آگہی کا عجب روگ لگ گیا ہے مجھے

خود آگہی کا عجب روگ لگ گیا ہے مجھے کہ اپنی ذات پہ دھوکہ ترا ہوا ہے مجھے پکارتی ہے ہواؤں کی نغمگی تجھ کو سکوت جھیل کا آواز دے رہا ہے مجھے عجیب ذوق محبت عطا کیا تو نے وجود سنگ بھی تہذیب آئینہ ہے مجھے میں اپنے نام سے ناآشنا سہی لیکن تمہارے نام سے ہر شخص جانتا ہے مجھے میں اپنے گھر ...

مزید پڑھیے

اک لمحۂ وصال تھا واپس نہ آ سکا

اک لمحۂ وصال تھا واپس نہ آ سکا وہ وقت کی مثال تھا واپس نہ آ سکا ہر اک کو اپنا حال سنانے سے فائدہ میرا جو ہم خیال تھا واپس نہ آ سکا شاید مرے فراق میں گھر سے چلا تھا وہ زخموں سے پائمال تھا واپس نہ آ سکا شاید ہجوم صدمۂ فرقت کے گھاؤ سے وہ اس قدر نڈھال تھا واپس نہ آ سکا شاید میں اس کو ...

مزید پڑھیے

تیرے پیکر سی کوئی مورت بنا لی جائے گی

تیرے پیکر سی کوئی مورت بنا لی جائے گی دل کے بہلانے کی یہ صورت نکالی جائے گی کون کہہ سکتا تھا یہ قوس قزح کو دیکھ کر ایک ہی آنچل میں یہ رنگت سما لی جائے گی کاغذی پھولوں سے جب مانوس ہوں گی تتلیاں عاشقی کی رسم دنیا سے اٹھا لی جائے گی آئنے میں بال پڑ جائے تو جا سکتا نہیں ریت کی دیوار ...

مزید پڑھیے

جو دیکھو تو وہ چہرہ اجنبی ہے

جو دیکھو تو وہ چہرہ اجنبی ہے اگر سوچو تو وجہ زندگی ہے مجھے ہے اعتراف جرم الفت مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے مری آنکھیں لٹاتی ہیں جو گوہر مزاج عشق میں دریا دلی ہے مسیحائی نہ تم سے ہو سکے گی ہمارا درد الفت دائمی ہے ترا پیکر خیالوں میں بسا ہے ہر اک سو روشنی ہی روشنی ہے ہمیں راس آ گئی ...

مزید پڑھیے

میں ایک کانچ کا پیکر وہ شخص پتھر تھا

میں ایک کانچ کا پیکر وہ شخص پتھر تھا سو پاش پاش تو ہونا مرا مقدر تھا تمام رات سحر کی دعائیں مانگی تھیں کھلی جو آنکھ تو سورج ہمارے سر پر تھا چراغ راہ محبت ہی بن گئے ہوتے تمام عمر کا جلنا اگر مقدر تھا فصیل شہر پہ کتنے چراغ تھے روشن سیاہ رات کا پہرا دلوں کے اندر تھا اگرچہ خانہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1814 سے 6203