قومی زبان

روز اک خواب مسلسل اور میں

روز اک خواب مسلسل اور میں رات بھر یادوں کا جنگل اور میں ہاتھ کوئی بھی سہارے کو نہیں پاؤں کے نیچے ہے دلدل اور میں سوچتا ہوں شب گزاروں اب کہاں گھر کا دروازہ مقفل اور میں ہر قدم تاریکیاں ہیں ہم رکاب اب کوئی جگنو نہ مشعل اور میں ہے ہر اک پل خوف رقصاں موت کا چار سو ہے شور مقتل اور ...

مزید پڑھیے

نا مناسب ہے خفا نالوں کو سن کر ہونا

نا مناسب ہے خفا نالوں کو سن کر ہونا ابھی آیا ہی نہیں تم کو ستم گر ہونا ہے ستم کا یہ کرم آہ نہیں کرتے ہم ورنہ آسان نہ تھا صبر کا خوگر ہونا نہیں رہتی کوئی روک اہل جنوں کے آگے کوئی دیوار ہو شق ہو کے اسے در ہونا رو پڑا میں بھی پسیجا جو وہ بت نالوں پر قابل رحم ہے انسان کا پتھر ہونا آ ...

مزید پڑھیے

دل ہے اپنا رنج فرقت میں شریک

دل ہے اپنا رنج فرقت میں شریک خود اذیت خود اذیت میں شریک ہے غم عشق اپنی قسمت میں شریک ہے یہی ہر ایک حالت میں شریک یاد ہے تیری ہر آفت میں شریک کون ہوتا ہے مصیبت میں شریک اب تو دل کے ساتھ میری جان بھی ہو گئی تیری محبت میں شریک حسن کامل کا کمال عشق دیکھ کس کو وہ کرتا محبت میں ...

مزید پڑھیے

ازل کی یاد میں میں گرم آہ سرد ہوا

ازل کی یاد میں میں گرم آہ سرد ہوا لگی تھی چوٹ کبھی اور آج درد ہوا گزر گیا یہ نگاہوں سے تیرا مرکب حسن تمام عالم دل اک قدم میں گرد ہوا غلط کہ قابل‌ دار و رسن ہوں اہل ہوس بندھائی عشق نے ہمت جسے وہ مرد ہوا پرے وہ عقل سے ہیں اس یقیں نے روک لیا کبھی جو وہم کے پیچھے میں رہ نورد ہوا تمام ...

مزید پڑھیے

واہ کیا عالم عجب ہے انتظار یار کا

واہ کیا عالم عجب ہے انتظار یار کا نام ہے دیدار حسرت حسرت دیدار کا سیر ہے جنت کی سیروں سے ترے عاشق کا دل لے کے جنت کیا کرے بھوکا ترے دیدار کا ذرۂ دل میں اتر آئے ہزاروں آفتاب کیا کرشمہ ہے خیال جلوہ گاہ یار کا بڑھ چلا تھا تیری غفلت سے بھی بار بیکسی موت نے پوچھا مزاج آ کر ترے بیمار ...

مزید پڑھیے

ان سے دل ملتے ہی فرقت کی بلا بھی آئی

ان سے دل ملتے ہی فرقت کی بلا بھی آئی جان آنے بھی نہ پائی کہ قضا بھی آئی اب تو تم گور غریباں کو چلو بے پردہ اس کی شمعوں کو ہوا جا کے بجھا بھی آئی ہجر میں عرش سے ناکام دعا ہی نہ پھری نارسا ہو کے مری آہ رسا بھی آئی بات پوری نہ سنی ہم نے کبھی ناصح کی ٹوک اٹھے اپنی سمجھ میں جو ذرا بھی ...

مزید پڑھیے

جاؤں کیا منہ لے کے میں وہ بد گماں ہو جائے گا

جاؤں کیا منہ لے کے میں وہ بد گماں ہو جائے گا رنگ کے اڑنے سے عشق اس پر عیاں ہو جائے گا عیش بزم بے خودی جوش فغاں ہو جائے گا ہم کہاں ہوں گے جو راز غم عیاں ہو جائے گا دوسرا عالم بنے تو ہو سکے تسکین حسن اب ہے جتنا یہ تو صرف امتحاں ہو جائے گا تا اجل پہنچائے گی یہ ناتوانی ہجر میں ضعف ...

مزید پڑھیے

خواہش وصل نے عشاق کو رسوا رکھا

خواہش وصل نے عشاق کو رسوا رکھا حسن نے دل کش و خوش رنگ سراپا رکھا اپنے کردار کے داغوں کو چھپانے کے لیے میرے اعمال پہ تنقید کو برپا رکھا میرے ناکردہ گناہوں کی نمائش کے لیے مجھ کو زنداں میں لگا کر بڑا تالا رکھا صاف انکار نہ کرنے کے بدل ظالم نے میری دل بستگی کو وعدۂ فردا رکھا کون ...

مزید پڑھیے

بجز متاع دل لخت لخت کچھ بھی نہیں

بجز متاع دل لخت لخت کچھ بھی نہیں مری نگاہ میں تدبیر و بخت کچھ بھی نہیں گزرتے وقت کی صورت حریف بھی نہ رہے بری نگاہ نہ لہجے کرخت کچھ بھی نہیں مسافتوں کی گھنی دھوپ میں ہیں تنہا ہم ہماری راہ میں سائے درخت کچھ بھی نہیں میں نقش و رنگ کی دنیا لٹا کے آیا ہوں مری نگاہ میں اب تاج و تخت کچھ ...

مزید پڑھیے

سفر یہ میرا عجب امتحان چاہتا ہے

سفر یہ میرا عجب امتحان چاہتا ہے بلا کے حبس میں بھی بادبان چاہتا ہے وہ میرا دل نہیں میری زبان چاہتا ہے مرا عدو ہے مجھی سے امان چاہتا ہے ہزار اس کو وہی راستے بلاتے ہیں قدم قدم وہ نیا آسمان چاہتا ہے عجیب بات ہے مجھ سے مرا ہی آئینہ مری شناخت کا کوئی نشان چاہتا ہے میں خوش ہوں آج کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1816 سے 6203