بکھرا کے ہم غبار سا وہم و خیال پر
بکھرا کے ہم غبار سا وہم و خیال پر پتوں کی طرح ڈولتے پھرتے ہیں مال پر اپنے ہی پاؤں بس میں نہیں اور یار لوگ تنقید کر رہے ہیں ستاروں کی چال پر یہ مال آنچلوں کا سبک سار آبشار صد موج رنگ و نور ہے لمحوں کی فال پر بہتے ہجوم شام کے لمحوں کا سیل ہم رقصاں ہیں ذہن جھومتے قدموں کے تال ...