قومی زبان

غم ترا آنکھ کے پانی سے نکل آیا تھا

غم ترا آنکھ کے پانی سے نکل آیا تھا درد پھر اپنی فشانی سے نکل آیا تھا اس نے ہنستے ہوئے پوچھا تھا ستم گر کا پتا اور ترا نام روانی سے نکل آیا تھا اپنی آنکھوں میں جہاں بھر کی اداسی لے کر ایک کردار کہانی سے نکل آیا تھا عشق تو چارہ گری مانگتا ہے اس لیے زخم روح کی ریشہ داوانی سے نکل آیا ...

مزید پڑھیے

کان لگا کے سنتی کیا ہے

کان لگا کے سنتی کیا ہے کیا دیوار میں در رکھا ہے بیتے کل نے دستک دی ہے یادوں کا اک شہر ملا ہے کمرے کی دیوار کا گریہ ہاں ہاں میں نے آپ سنا ہے میری اک کروٹ پر جاگے نیند کا وہ کتنا کچا ہے روٹی مانگتے بچے کو تو کیسے دھکے مار رہا ہے سنتے ہیں اک شہزادی نے اک درویش کا ساتھ چنا ہے کوئی ...

مزید پڑھیے

کاسنی رنگ کے خوابوں سے نکل آئی ہوں

کاسنی رنگ کے خوابوں سے نکل آئی ہوں میٹھے پانی کے سرابوں سے نکل آئی ہوں تو نے جاتے ہوئے اک بار بھی دیکھا نہ اسے وہ جو کہتی تھی عذابوں سے نکل آئی ہوں برگزیدہ تھی تہجد بھی نہ چھوڑا کرتی اور اب سارے حسابوں سے نکل آئی ہوں آس تھی دید کی جو کاسہ لئے پھرتی تھی میں جوانی کے عذابوں سے نکل ...

مزید پڑھیے

نہ جانے کون سا منظر صدائیں دیتا ہے

نہ جانے کون سا منظر صدائیں دیتا ہے میں پیلی دھوپ وہ نیلی ہوائیں دیتا ہے کسی کے چہرے پہ گرد ملال دیکھتی ہوں خدا کبھی نہ کبھی تو سزائیں دیتا ہے خیال یار نے آنکھیں ہماری نم رکھیں جمال یار پلٹ کے جفائیں دیتا ہے ترے مزار سے ویرے! مہک سی آتی ہے تو مجھ سے دور بھی رہ کر دعائیں دیتا ...

مزید پڑھیے

رات ہے کالی گھٹا ہے اور میں

رات ہے کالی گھٹا ہے اور میں پر خطر یہ راستہ ہے اور میں پار اترنے کی کوئی صورت نہیں کشتیٔ بے نا خدا ہے اور میں کس ڈگر پر آ دبوچے کیا پتہ پیچھے پیچھے حادثہ ہے اور میں آندھیوں کا زور کم ہوتا نہیں پھوس کا یہ جھونپڑا ہے اور میں اپنے اندر کی دہکتی آگ سے ہر کوئی شعلہ نوا ہے اور ...

مزید پڑھیے

پھر تیز ہوا چلتے ہی بے کل ہوئیں شاخیں

پھر تیز ہوا چلتے ہی بے کل ہوئیں شاخیں کس درد کے احساس سے بوجھل ہوئیں شاخیں کیا سوچ کے رقصاں ہیں سر شام کھلے سر کس کاہش بے نام سے پاگل ہوئیں شاخیں گرتے ہوئے پتوں کی تڑپتی ہوئی لاشیں صد طنطنۂ زیست کا مقتل ہوئیں شاخیں ترسی ہوئی باہیں ہیں ہمکتے ہوئے آغوش دیوانگئ شوق کا سمبل ...

مزید پڑھیے

رات بیزار سا گھر سے جو میں تنہا نکلا

رات بیزار سا گھر سے جو میں تنہا نکلا چاند بھی جیسے میرے غم کا شناسا نکلا سر بسر ڈوب گیا رات کے سناٹے میں چاندنی جس کو میں سمجھا تھا وہ دریا نکلا دور سے آئی گلی میں کہیں قدموں کی صدا اپنا گھر چھوڑ کے مجھ سا کوئی تنہا نکلا سوئی تھی چاندنی پتوں سے ڈھکی سڑکوں پر ایک جھونکا سر شب خاک ...

مزید پڑھیے

خلا کی منزل پایاب کا پتا بھی میں

خلا کی منزل پایاب کا پتا بھی میں اور اپنے آپ میں اک بے کراں خلا بھی میں فضا کے سینے میں بیتاب شورشیں مجھ سے دل وجود کی اک آہ نارسا بھی میں میں اپنی شاخ خمیدہ کا برگ شوریدہ شجر کا جسم بھی میں جسم سے جدا بھی میں ترے وجود کے ادراک تک پہنچتی ہوئی یقیں کی گونج بھی میں وہم کی ہوا بھی ...

مزید پڑھیے

مدت ہوئی خموشیٔ اظہار حال کو

مدت ہوئی خموشیٔ اظہار حال کو آب صدا ہی دیجئے دشت خیال کو پھر ایک شاخ زرد گری خاک ہو گئی پھر برگ‌ نو ملے شجر ماہ و سال کو جھونکا یہ کس کے لمس گریزاں کی طرح تھا اب حل ہی کرتے رہئے ہوا کے سوال کو ہم‌ رنگ ماہتاب تھا وہ اس میں کھو گیا اب کتنی دور پھینکیے نظروں کے جال کو شب بھر ہوا کے ...

مزید پڑھیے

درد و غم زمانے کے اور ایک جی تنہا

درد و غم زمانے کے اور ایک جی تنہا آندھیوں میں جلتی ہے شمع زندگی تنہا اپنی اپنی راہیں ہیں اپنی اپنی منزل ہے کارگاہ ہستی میں رہتے ہیں سبھی تنہا شب سے داغ ہجراں کا واسطہ عجب شے ہے تیری دل کشی تنہا میری بیکلی تنہا ہائے اس زمانے میں اہل فن کی بے قدری موسم زمستاں میں جیسے چاندنی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1806 سے 6203