قومی زبان

سیاہ شال پہ جو اشک کاڑھتا ہوگا

سیاہ شال پہ جو اشک کاڑھتا ہوگا کسے خبر تھی اسے مجھ سے مسئلہ ہوگا جو میرے ہوتے بچھڑنے کی بات کرتا تھا مری جدائی میں اک بار رو دیا ہوگا زمیں پہ پھیلے یہ کاغذ گواہی دیتے ہیں وہ کچھ نہ کچھ تو مرے نام لکھ رہا ہوگا فضا اداس ہے مہتاب ہے ملول کہ اب وہ زرد چہرے کو ہاتھوں میں بھر رہا ...

مزید پڑھیے

خوشی تقسیم کرتی ہوں دل آزاری نہیں آتی

خوشی تقسیم کرتی ہوں دل آزاری نہیں آتی مرا مقصد ہے غم خواری اداکاری نہیں آتی یہاں وہ آگے آتا ہے کہ جو فن کار ہوتا ہے مجھے درویشی کے چولے میں عیاری نہیں آتی ابھی سب کچھ میسر ہے کمی کوئی نہیں باقی نہ جانے پھر بھی پہلے جیسی سرشاری نہیں آتی مرے کچھ فیصلے میرے نہیں سو درگزر ...

مزید پڑھیے

تم جو دامن ذرا بھگو لیتے

تم جو دامن ذرا بھگو لیتے ہم بھی کچھ دیر کھل کے رو لیتے اک تری یاد جو ہماری تھی اک ترا درد جو بچھو لیتے عالم مستی و طرب میں رہے خاک کی تیرگی میں سو لیتے حرف خوشبو کے رنگ میں لکھتی پھول گجروں میں جو پرو لیتے نارسائی تو خیر قسمت تھی اور کیا بچ گیا جو کھو لیتے کونج کر لا رہی تھی ...

مزید پڑھیے

ہوا کو تھام لیں خوشبو کا اہتمام کریں

ہوا کو تھام لیں خوشبو کا اہتمام کریں سنور لیا ہو تو ہم چاند سے کلام کریں ہم اپنے سوگ بھلا کے انہیں سلامی دیں چلو کہ ہجر کے ماروں کا احترام کریں گلاب رت میں کسی چھت پہ رنگ لے کے چلیں جنوں میں بھیگنے والوں کا انتظام کریں پرانے بیلیوں سے ملتے آئیں گاؤں میں گلی میں بیٹھے فقیروں کو ...

مزید پڑھیے

خدا خفا ہے

زمیں تھک گئی تھی ہمارے گناہوں کے سب بوجھ ڈھوتے ہوئے سو ابلنے لگی اور ہم بس یہی سوچتے رہ گئے کہ خدا ہم سے ناراض ہے

مزید پڑھیے

بس یہی کہہ سکے

ہم تیرے سامنے بے بسی کی حدوں سے نکلتے ہوئے بس یہی کہہ سکے اپنے پیاروں سے ایسا رویہ مناسب نہیں

مزید پڑھیے

خواب

دل کو سانسوں نے خستہ کیا دھندلے ہو گئے آنکھ کے آئنے اس لیے یہ زمیں مسکراتے ہوئے ہانپتی کانپتی دکھ رہی ہے شب کے پچھلے پہر چھوٹنے والی اس ریل کی آخری سیٹیاں یاد کی گٹھڑیاں اور دل جیسے روشن علاقے میں گہرا اندھیرا سماعت پہ تاریکیوں کا بنا ایک جالا گماں ہو رہا ہے کہ تصویریں گیلی پڑی ...

مزید پڑھیے

رات کے سانس کی مہکار سے سرشار ہوا

رات کے سانس کی مہکار سے سرشار ہوا جاگتے شہر سلا دیتی ہے بیدار ہوا ہو کے سیراب خم شب سے سر دامن گل صورت ابر برس جاتی ہے مے خوار ہوا جانے کس طرح خلاؤں میں دھنک بنتی ہے چاند کی رنگ بھری جھیل کے اس پار ہوا طالب موج سحر جاتی ہے لہروں پہ سوار ساحل شب سے اٹھاتی ہے جو پتوار ہوا کتنی ...

مزید پڑھیے

ہوا لوٹے تو پوچھیں

روز و شب کا وقفہ کرب و مسرت شام کہتے ہیں جسے کیوں کر گزاریں قرض سانسوں کا اتاریں یا رخ ہستی نکھاریں کون ہے دل کے سوا اس کرب راز پیکراں میں اپنے ساتھ اب کسے آواز دیں کس کو پکاریں شام بھر کی فرصت غم یوں گزاریں دھول میں اٹے ہوئے اک راستے پر ایک گوشے کے خلا میں کائنات آباد ہے اک چائے ...

مزید پڑھیے

کتنا روکا مگر رکا ہی نہیں

کتنا روکا مگر رکا ہی نہیں اور مڑ کر تو دیکھتا ہی نہیں تیری چوکھٹ کا بھاری دروازہ دستکیں دے کے بھی کھلا ہی نہیں مجھ میں اتنا بکھر گیا ہے وہ لاکھ چاہوں سمٹ رہا ہی نہیں صاحبا دوست مان رکھا تھا اور تو دکھ میں بولتا ہی نہیں ہجر نے خود بھی یہ گواہی دی واپسی کا تو راستہ ہی نہیں کنج ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1805 سے 6203