قومی زبان

خواب میں یا خیال میں مجھے مل

خواب میں یا خیال میں مجھے مل تو کبھی خد و خال میں مجھے مل میرے دل کی دھمال میں مجھے دیکھ میرے سر میری تال میں مجھے مل میری مٹی کو آنکھ دی ہے تو پھر کسی موج وصال میں مجھے مل مجھے کیوں عرصۂ حیات دیا اب انہیں ماہ و سال میں مجھے مل کسی صبح فراق میں مجھے چھوڑ کسی شام ملال میں مجھے ...

مزید پڑھیے

ایک مجذوب اداسی میرے اندر گم ہے

ایک مجذوب اداسی میرے اندر گم ہے اس سمندر میں کوئی اور سمندر گم ہے بے بسی کیسا پرندہ ہے تمہیں کیا معلوم اسے معلوم ہے جو میرے برابر گم ہے چرخ سو رنگ کو فرصت ہو تو ڈھونڈے اس کو نیلگوں سوچ میں جو مست قلندر گم ہے دھوپ چھاؤں کا کوئی کھیل ہے بینائی بھی آنکھ کو ڈھونڈ کے لایا ہوں تو منظر ...

مزید پڑھیے

کہانی

سنو تم لکھ کے دے دو نا کہانی میں کہاں سچ ہے کہاں پہ رک کے تم نے غالباً کچھ جھوٹ لکھنا ہے کہاں ایسا کوئی اک موڑ آنا ہے جہاں چالان ممکن ہے کہاں وہ بیش قیمت سا سنہری چھوٹا سا ڈبہ جو اپنی دھڑکنوں سے اپنے ہونے کی گواہی دے رہا ہے ٹوٹ جانا ہے کہاں قاری کو سمجھانا ہے دکھ کے اس الاؤ میں ...

مزید پڑھیے

بابا

تمہاری جانب دعا کے موتی روانہ کرتے دکھا یہ سکتے کہ لاڈلی کی سنہری آنکھیں بھری ہوئی تھیں وہ ایک چٹھی کہ جس میں خود کو دلاسہ دیتے بلک رہی تھی وہ بکھرے صفحات ڈائری کے کہ جن میں تم پر لکھی تھیں نظمیں بھرے تھے اشعار کیسے بھیجیں کہ تم تو مٹی کے گھر میں جا کے بسے ہوئے ہو زمین والوں کو آ ...

مزید پڑھیے

زیست کیا ہے حماقتوں کے سوا

زیست کیا ہے حماقتوں کے سوا چند ظالم صداقتوں کے سوا ہم نے دانشوروں سے کیا سیکھا الجھی الجھی عبارتوں کے سوا فن کو ورثے میں کیا دیا ہم نے خوب صورت علامتوں کے سوا ہم نے اس زندگی سے کیا پایا چند ذہنی رفاقتوں کے سوا ان بڑی طاقتوں کے پاس ہے کیا چھوٹی چھوٹی رقابتوں کے سوا آستینوں ...

مزید پڑھیے

اب دھوپ چڑھی دیواروں پر

اب وقت سفر آ پہنچا ہے آ مل بیٹھیں دو چار گھڑی جب پہلے پہل تم آئے تھے آغاز سحر کا میلہ تھا کچھ کرنیں مدھم مدھم تھیں کچھ اجلا اجلا دھندلکا تھا کچھ ایسی امنگیں تھیں دل میں جو سرکش بھی معصوم بھی تھیں کچھ ہستی بولتی نظریں تھیں جو شوخ بھی بے مفہوم بھی تھیں سورج کی ابھرتی کرنیں بھی یوں ...

مزید پڑھیے

اس کے منہ کا کڑوا بول بھی کیسا تھا

اس کے منہ کا کڑوا بول بھی کیسا تھا دودھ میں جیسے شہد ملا ہو لگتا تھا کھلی ہوا میں اڑتے اڑتے مر جانا قفس میں رہ کر جینے سے تو اچھا تھا شادی ہو جانے پر بیٹا بھول گیا بیوہ ماں نے کیسے اس کو پالا تھا آج میں اس کا ہاتھ پکڑ کر چلتا ہوں کل جو میری انگلی تھامے چلتا تھا اب تو اس میں یادوں ...

مزید پڑھیے

پھول اخلاص کے ہونٹوں پہ سجانے والا

پھول اخلاص کے ہونٹوں پہ سجانے والا میں ہوں دشمن کو بھی سینے سے لگانے والا جا کے پردیس مرے گھر کا پتا بھول گیا اپنا بچپن مرے آنگن میں بتانے والا اس کی یادوں کو کلیجے سے لگائے رکھیے اب نہ آئے گا کبھی لوٹ کے جانے والا میرے دشمن تجھے معلوم نہیں ہے شاید مارنے والے سے بڑھ کر ہے بچانے ...

مزید پڑھیے

کوئی دیکھے تو ذرا کیسی سزا دیتا ہے

کوئی دیکھے تو ذرا کیسی سزا دیتا ہے میرا دشمن مجھے جینے کی دعا دیتا ہے حاکم وقت بھی حالات سے عاجز آ کر وقت کے سامنے سر اپنا جھکا دیتا ہے کیا ہوا تو نے جو غربت میں چھڑایا دامن ایسے حالات میں ہر کوئی دغا دیتا ہے لطف آتا نہیں ہو کر بھی شکم سیر تمہیں ہم غریبوں کو تو فاقہ بھی مزہ دیتا ...

مزید پڑھیے

محبت رائیگانی ہے سنبھل جا

محبت رائیگانی ہے سنبھل جا اذیت کی کہانی ہے سنبھل جا تجھے میراث میں ہجرت ملی ہے تبھی تو لا مکانی ہے سنبھل جا محبت جان کو آئی ہوئی ہے بلائے ناگہانی ہے سنبھل جا یہ برقی رابطے سے کٹ نہ جائے یہ رشتہ آسمانی ہے سنبھل جا اسے دریا سمجھ کر پار مت کر مری آنکھوں کا پانی ہے سنبھل جا یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1804 سے 6203