قومی زبان

اگرچہ وقت مناجات کرنے والا تھا

اگرچہ وقت مناجات کرنے والا تھا مرا مزاج سوالات کرنے والا تھا مجھے سلیقہ نہ تھا روشنی سے ملنے کا میں ہجر میں گزر اوقات کرنے والا تھا میں سامنے سے اٹھا اور لو لرزنے لگی چراغ جیسے کوئی بات کرنے والا تھا کھلی ہوئی تھیں بدن پر رواں رواں آنکھیں نہ جانے کون ملاقات کرنے والا تھا وہ ...

مزید پڑھیے

وحشت میں نکل آیا ہوں ادراک سے آگے

وحشت میں نکل آیا ہوں ادراک سے آگے اب ڈھونڈ مجھے مجمع عشاق سے آگے اک سرخ سمندر میں ترا ذکر بہت ہے اے شخص گزر دیدۂ نمناک سے آگے اس پار سے آتا کوئی دیکھوں تو یہ پوچھوں افلاک سے پیچھے ہوں کہ افلاک سے آگے دم توڑ نہ دے اب کہیں خواہش کی ہوا بھی یہ خاک تو اڑتی نہیں خاشاک سے آگے جو نقش ...

مزید پڑھیے

کبھی جو خاک کی تقریب رو نمائی ہوئی

کبھی جو خاک کی تقریب رو نمائی ہوئی بہت اڑے گی وہاں بھی مری اڑائی ہوئی خدا کا شکر سخن مجھ پہ مہربان ہوا بہت دنوں سے تھی لکنت زباں میں آئی ہوئی یہی ہے غض بصر یہ ہے دیکھنا میرا رہے گی آنکھ تحیر میں ڈبڈبائی ہوئی تمھارا میرا تعلق ہے جو رہے سو رہے تمھارے ہجر نے کیوں ٹانگ ہے اڑائی ...

مزید پڑھیے

پیڑ سوکھا حرف کا اور فاختائیں مر گئیں

پیڑ سوکھا حرف کا اور فاختائیں مر گئیں لب نہ کھولے تو گھٹن سے سب دعائیں مر گئیں ایک دن اپنا صحیفہ مجھ پہ نازل ہو گیا اس کو پڑھتے ہی مری ساری خطائیں مر گئیں یاد کی گدڑی کو میں نے ایک دن پہنا نہیں ایک دن کے ہجر میں ساری بلائیں مر گئیں میں نے مستقبل میں جا کر ایک لمبی سانس لی پھر مرے ...

مزید پڑھیے

مجھ کو شہرت نہ شان دے اللہ

مجھ کو شہرت نہ شان دے اللہ فن کی دولت دے گیان دے اللہ سن کے پتھر بھی موم ہو جائیں میرے شعروں میں جان دے اللہ وقت کے ہاتھ میں ہے تیر کماں مجھ کو اونچی اڑان دے اللہ ظلم کی تیز دھوپ ہے ہر سو صبر کا سائبان دے اللہ اب زمیں پر نہیں جگہ خالی آسماں پر مکان دے اللہ اپنے الزام کی کروں ...

مزید پڑھیے

غم کہ تھا حریف جاں اب حریف جاناں ہے

غم کہ تھا حریف جاں اب حریف جاناں ہے اب وہ زلف برہم ہے اب وہ چشم گریاں ہے وسعتوں میں دامن کی ان دنوں گریباں ہے ہم نفس کہیں شاید موسم بہاراں ہے رنگ و بو کے پردے میں کون یہ خراماں ہے ہر نفس معطر ہے ہر نظر غزل خواں ہے بندگی یہ کیا جانے دیر کیا حرم کیا ہے ہم جہاں پہ ہیں واعظ کفر ہے نہ ...

مزید پڑھیے

بھری بہار میں دامن دریدہ ہیں ہم لوگ

بھری بہار میں دامن دریدہ ہیں ہم لوگ ہمیں تھا زعم بہار آفریدہ ہیں ہم لوگ یہ اور بات کہ دامن دریدہ ہیں ہم لوگ بہ فیض عشق مگر سر کشیدہ ہیں ہم لوگ ہم آئینہ ہیں مگر عکس ذات سے محروم تری صدا ہیں مگر ناشنیدہ ہیں ہم لوگ جہاں جہاں بھی گئے ہیں مہک اٹھی ہے فضا ترے فراق کی بوئے رسیدہ ہیں ہم ...

مزید پڑھیے

چمن میں آتش گل بھی نہیں دھواں بھی نہیں

چمن میں آتش گل بھی نہیں دھواں بھی نہیں بہار تو یہ نہیں ہے مگر خزاں بھی نہیں بچھڑ گئے ہیں کہاں ہم سفر خدا جانے نقوش پا بھی نہیں گرد کارواں بھی نہیں طواف کعبہ کیا بت کدہ بھی دیکھ آئے سکون قلب یہاں بھی نہیں وہاں بھی نہیں قفس ہے گوشۂ راحت قفس ہے دار اماں غم چمن بھی نہیں فکر آشیاں ...

مزید پڑھیے

آنکھ سہمی ہوئی ڈرتی ہوئی دیکھی گئی ہے

آنکھ سہمی ہوئی ڈرتی ہوئی دیکھی گئی ہے امن کی فاختہ مرتی ہوئی دیکھی گئی ہے کیا بچا کتنا بچا تاب کسے ہے دیکھے موج خوں سر سے گزرتی ہوئی دیکھی گئی ہے ایسے لگتا ہے یہاں سے نہیں جانے والی جو سیہ رات ٹھہرتی ہوئی دیکھی گئی ہے دوسری بار ہوا ہے کہ یہی دوست ہوا پر پرندوں کے کترتی ہوئی ...

مزید پڑھیے

آنا جانا ہے تو قامت سے تم آؤ جاؤ

آنا جانا ہے تو قامت سے تم آؤ جاؤ در اظہار مروت سے تم آؤ جاؤ وہ تحیر جو تمہیں لے کے یہاں آیا تھا اس تحیر کی وساطت سے تم آؤ جاؤ ہم کسی سمت بگولوں کو نہیں روکتے ہیں گرمی ذوق شرارت سے تم آؤ جاؤ کف اڑانے پہ بھی پابندی نہیں ہے کوئی ہاں مگر تھوڑی نفاست سے تم آؤ جاؤ ہمیں امید بلاغت تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1803 سے 6203