قومی زبان

کام کچھ تو مرا لہو آیا

کام کچھ تو مرا لہو آیا باغ میں موسم نمو آیا ہجر میں تیرے مجھ پہ کیا گزری آج تک پوچھنے نہ تو آیا جس طرح میں نے تجھ کو یاد کیا یاد یوں کب کسی کو تو آیا تیرا کوچہ ہے یا کوئی مقتل جو بھی آیا لہو لہو آیا میں اسی کی طرح ملا اس سے آئنہ بن کے روبرو آیا ختم دور خیال و خواب ہوا لمحۂ ترک ...

مزید پڑھیے

مرحلے تو زیست کے طے کر لیے

مرحلے تو زیست کے طے کر لیے پاؤں لیکن آبلوں سے بھر لیے گھر سے باہر روشنی تھی منتظر کیسے کیسے خوش نما منظر لیے اور کیا دیکھیں کہ وحشت کے سبب پھول دیکھے ہاتھ میں پتھر لیے دشت سے گھر لوٹ کے پچھتائے ہم گھر بھی نکلا دشت کا منظر لیے سیکھ دنیا سے تکلم کا ہنر ایک فقرہ سیکڑوں نشتر ...

مزید پڑھیے

تیغ ستم کبھی ہے تو سنگ جفا کبھی

تیغ ستم کبھی ہے تو سنگ جفا کبھی یعنی نصیب عشق وہی ہے جو تھا کبھی سایا نہ تھا کہ ساتھ مرا چھوڑتا کبھی اب بھی وہ ساتھ ہے جو مرے ساتھ تھا کبھی اکثر تو خشک ہی مری آنکھیں رہیں مگر یوں بھی ہوا دئے سے دیا جل اٹھا کبھی کچھ کچھ تو ابتدائے اسیری میں تھا کرم پھر حال پوچھنے بھی نہ آئی صبا ...

مزید پڑھیے

خوشی ہے اپنی نہ کوئی ملال ہے اپنا

خوشی ہے اپنی نہ کوئی ملال ہے اپنا وہ بے دلی ہے کہ جینا محال ہے اپنا نہ وہ وصال کے قصے نہ ہجر کا رونا بڑا عجیب سا کچھ دن سے حال ہے اپنا نگاہ شوق کی اس کو ابھی کہاں پروا ابھی وہ شخص اسیر جمال ہے اپنا مری طرح بھی کوئی ضبط غم سے کام نہ لے کہ اپنے آپ سے پوشیدہ حال ہے اپنا ہم ایسے صاحب ...

مزید پڑھیے

ہر منزل میں ہر رستے میں سچ اپنے کام آیا ہے

ہر منزل میں ہر رستے میں سچ اپنے کام آیا ہے ہم نے جھوٹے لوگوں کو اکثر گھر تک پہنچایا ہے وعدہ شکن وہ لاکھ سہی پر مجھ کو حیراں کرنے کو کبھی کبھی تو مجھ سے ملنے وعدہ پر بھی آیا ہے چشم تماشا بھی شرمندہ حیرت میں آئینے بھی وقت کی دھوپ نے کیسا کیسا چہروں کو جھلسایا ہے وہ جو دیا روشن ہی ...

مزید پڑھیے

ادب نواز تو ہو کوئی فن شناس تو ہو

ادب نواز تو ہو کوئی فن شناس تو ہو ہمیں بھی شہر میں جینے کی کوئی آس تو ہو یہ کیا کہ میں ہی سہے جاؤں رنج تنہائی مری طرح کبھی اس کا جی اداس تو ہو چلے تو کیسے چلے سلسلہ محبت کا وہ بے رخی ہی سہی کچھ نہ کچھ اساس تو ہو یہ آرزو ہے کبھی میں بھی کھڑکیاں کھولوں مگر گلی کی ہوا میرے گھر کو راس ...

مزید پڑھیے

بجھا بھی ہو تو اجالا مری نظر میں رہے

بجھا بھی ہو تو اجالا مری نظر میں رہے کوئی چراغ تو ایسا بھی میرے گھر میں رہے بنا بنا کے بگاڑا گیا ہمیں اکثر مثال کوزہ کسی دست کوزہ گر میں رہے حصار عشق سے باہر نکل سکے نہ کبھی کہ ہم بچھڑ کے بھی تجھ سے ترے اثر میں رہے رہ سفر میں سر شام ہم ٹھہر تو گئے مگر کچھ ایسے کہ جیسے کوئی سفر میں ...

مزید پڑھیے

زخم تو بہت آئے پھر بھی حوصلہ رکھا

زخم تو بہت آئے پھر بھی حوصلہ رکھا عمر بھر محبت میں ہم نے دل بڑا رکھا جس نے ایک لمحہ بھی تجھ سے واسطہ رکھا اپنے آپ کو خود سے عمر بھر جدا رکھا برگ خشک کی صورت لوگ ہو کے آوارہ سوچتے ہیں سرسر کا نام کیوں صبا رکھا جب اسے نہ آنا تھا پھر یہ کس توقع پر ہم نے گھر کا دروازہ رات بھر کھلا ...

مزید پڑھیے

اپنے پہلو میں چھپائے ہوئے پتھر نکلا

اپنے پہلو میں چھپائے ہوئے پتھر نکلا یہ ترا شہر بھی تجھ سا ہی ستم گر نکلا تھی جو محفوظ مرے ساتھ مری خاک بدن لے اڑی تیز ہوا گھر سے جو باہر نکلا سب کی گویائی پہ حاوی تھی مری خاموشی کون مجھ سا تری محفل میں سخنور نکلا شہر میں پھیلا ہوا خوف شناسائی تھا گھر سے ہر شخص نیا روپ بدل کر ...

مزید پڑھیے

وہ انجمن ہو کہ مقتل لہو لہو ہی رہے

وہ انجمن ہو کہ مقتل لہو لہو ہی رہے جہاں کہیں بھی رہے ہم تو سرخ رو ہی رہے وہ دور ہے کہ غم وصل و ہجر ایک طرف میں سوچتا ہوں محبت کی آبرو ہی رہے نہ پوچھ ہم سے زمانے نے کیا سلوک کیا بہت ہے دل میں اگر تیری آرزو ہی رہے یہ مے کدہ ہے یہاں خون دل کی بات نہ کر یہاں تو تذکرۂ بادہ و سبو ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1779 سے 6203