قومی زبان

ہے باغ تمنا کی بہار اپنی جگہ خوب

ہے باغ تمنا کی بہار اپنی جگہ خوب گل اپنی جگہ خوب ہیں خار اپنی جگہ خوب یہ خیمہ زنی راہ میں اپنی جگہ اچھی اٹھتا ہوا منزل پہ غبار اپنی جگہ خوب ہم جتنے طلب گار وہ اتنا ہی گریزاں ہم اپنی جگہ خوب ہیں یار اپنی جگہ خوب کم اپنی جگہ دشت مسافت میں نہیں ہے مانا کہ ہیں یہ شہر و دیار اپنی جگہ ...

مزید پڑھیے

کوچہ کوچہ تازہ ہواؤں کا کال ہے

کوچہ کوچہ تازہ ہواؤں کا کال ہے اس شہر میں تو سانس بھی لینا محال ہے اٹھتا ہے جو بھی ابر برستا ہے دشت پر موسم کو میرے شہر کا کتنا خیال ہے یہ موج تہ نشیں تو بڑا کام کر گئی سمجھے ہوئے تھے ہم کہ ابھرنا محال ہے رکھے ہیں خواہشات نے جب سے یہاں قدم دل سبزۂ چمن کی طرح پائمال ہے ملنے کے آج ...

مزید پڑھیے

ترے بغیر عجب بام و در کا عالم ہے

ترے بغیر عجب بام و در کا عالم ہے کہاں وہ دشت کا ہوگا جو گھر کا عالم ہے پڑے گھروں پہ یہ افتاد کیا کہ لوگوں کے قیام سے بھی نمایاں سفر کا عالم ہے جو دیکھتے ہیں وہ تحریر کر نہیں سکتے یہ میرے شہر کے اہل ہنر کا عالم ہے ذرا جو چھاؤں میں بیٹھو تو جسم جل جائے یہ سایہ دار ہے یہ اس شجر کا ...

مزید پڑھیے

ملے ہیں حرف بس اتنے مجھے بیاں کے لیے

ملے ہیں حرف بس اتنے مجھے بیاں کے لیے گلی کی روشنی جیسے کسی مکاں کے لیے چلو کہ چل کے کسی دشت کو کریں آباد فضائے شہر تو قاتل ہے جسم و جاں کے لیے ہمارے در کی سبھی دستکیں رہیں محفوظ تمام عمر کسی دست مہرباں کے لیے سبھی کو میری طرح عشق کا نہیں ادراک سمندروں کا سفر ہے جہاز راں کے ...

مزید پڑھیے

جب نظر جا نہ سکے حد نظر سے آگے

جب نظر جا نہ سکے حد نظر سے آگے کون سوچے کہ ہے کچھ اور بھی گھر سے آگے منزل عشق میں ہم کو کوئی ایسا نہ ملا جس کی منزل ہو تری راہ گزر سے آگے جب تلک سائے میں بیٹھے ہو غنیمت جانو دور تک دھوپ کا صحرا ہے شجر سے آگے جو ترے در سے اٹھے ہیں انہیں معلوم کہاں کوچۂ در بدری ہے ترے در سے ...

مزید پڑھیے

سونا سونا آنگن ہے اور بام و در خاموش

سونا سونا آنگن ہے اور بام و در خاموش کس سے گفتگو کیجے ہو جو گھر کا گھر خاموش شمع کی طرح کوئی غم گسار کیا ہوگا ساتھ ساتھ چلتی ہے رات رات بھر خاموش کچھ تو مصلحت ہوگی جو زباں نہیں کھلتی ورنہ تیری محفل میں ہم اور اس قدر خاموش ہے سکوت کا عالم کائنات پر طاری جب سے ہم ادھر چپ ہیں اور وہ ...

مزید پڑھیے

خیال میں ہے جو چہرہ نظر بھی آئے گا

خیال میں ہے جو چہرہ نظر بھی آئے گا وہ اپنے گھر سے کبھی میرے گھر بھی آئے گا بچھڑتے وقت کا منظر بھی دھیان میں رکھنا سفر میں کام یہ رخت سفر بھی آئے گا نکل تو آئے ہیں زندان تیرگی سے مگر یہ سوچتے ہیں ہمیں کچھ نظر بھی آئے گا سبھی نہ گھر کے دریچوں سے بچ کے گزریں گے ہوا کا کوئی تو جھونکا ...

مزید پڑھیے

ہم پہ وہ مہرباں زیادہ ہے

ہم پہ وہ مہرباں زیادہ ہے اس یقیں میں گماں زیادہ ہے کچھ کمی ہے تو کارواں میں یہی رہبر کارواں زیادہ ہے ہے تو واعظ خدا پرست مگر لب پہ ذکر بتاں زیادہ ہے پیشتر بھی یہی قفس تھا مگر اب کے شور فغاں زیادہ ہے ظلم کی خیر ہو کہ عزم جواں اور بھی اب جواں زیادہ ہے اللہ اللہ بزم نو کے ...

مزید پڑھیے

زمین و آسماں سب ایک سے ہیں

زمین و آسماں سب ایک سے ہیں ہمارے مہرباں سب ایک سے ہیں کسے اپنا کہیں کس کو پرایا جہاں ہم ہیں وہاں سب ایک سے ہیں جہاں والوں کے ظاہر پر نہ جاؤ یہ باطن میں میاں سب ایک سے ہیں نہیں کچھ فرق تجھ میں اور مجھ میں کہ ہم اہل جہاں سب ایک سے ہیں نہ کیوں ثابت ہو جرم بے گناہی گواہوں کے بیاں سب ...

مزید پڑھیے

شب گزر کر بھی اندھیرا کم نہیں

شب گزر کر بھی اندھیرا کم نہیں اس کی زلفیں تو کہیں برہم نہیں غیر بن کر جب گئے اس بزم میں ہم نے دیکھا ہم سے وہ برہم نہیں ہیں نظر میں الجھنیں بھی زیست کی ورنہ ان زلفوں میں اتنے خم نہیں پاسبان گلستاں بنتے ہیں اور امتیاز شعلہ و شبنم نہیں آج بھی پیاسے رہے تو دیکھنا بزم میں ساقی نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1778 سے 6203