قومی زبان

راہ کی دھوپ سے مفر ہی نہیں

راہ کی دھوپ سے مفر ہی نہیں ہم جہاں ہیں وہاں شجر ہی نہیں یا تو مجھ میں کوئی ہنر ہی نہیں یا کوئی صاحب نظر ہی نہیں ہوں یہ کس تیرگی کے زنداں میں روشنی کا جہاں گزر ہی نہیں کوئی ڈوبے کوئی صدا ابھرے شور دریا پہ کچھ اثر ہی نہیں خشک پتے اڑا رہی ہے ہوا اب کوئی پھول شاخ پر ہی نہیں گفتگو ...

مزید پڑھیے

یہ کیا کہ بیٹھ گئے گرد رہ گزر کی طرح

یہ کیا کہ بیٹھ گئے گرد رہ گزر کی طرح سفر تمام کرو دوستو سفر کی طرح رکے جو راہ میں ان پر نہ جانے کیا گزری ہمیں تو دھوپ ہے اب سایۂ شجر کی طرح فضا فضا جو پریشاں ہیں ابر کی صورت صدف صدف وہ ملیں گے کبھی گہر کی طرح غم جہاں کی تپش سے سلگ رہے ہیں بدن حیات بھی ہے کسی دشت کے سفر کی طرح کبھی ...

مزید پڑھیے

ادھر بھی آئیں کبھی دھوپ کے ستائے ہوئے

ادھر بھی آئیں کبھی دھوپ کے ستائے ہوئے شجر کھڑے ہیں سر راہ سر جھکائے ہوئے کچھ اور بات کرو گردش جہاں کے سوا نہ واقعات سناؤ سنے سنائے ہوئے زمیں پہ ڈھیر کئے دوپہر کے سورج نے تمام پھول شب ماہ کے کھلائے ہوئے دھواں دھواں ہیں وہ چہرے بھی اب نہ جانے کیوں مرے لیے تھے کبھی جن پہ رنگ آئے ...

مزید پڑھیے

نہ ہو گر دھیان میں چہرہ کسی کا

نہ ہو گر دھیان میں چہرہ کسی کا بہت مشکل سفر ہے زندگی کا گلی کوچے بہت روشن ہیں لیکن گھروں میں مسئلہ ہے روشنی کا چنوں پلکوں سے کب تک سنگریزے خداوندا کوئی آنسو خوشی کا زمیں صدیوں پرانی ہو چکی ہے سہے گی بوجھ کب تک آدمی کا نہ جانے اور کتنا فاصلہ ہے ہماری زندگی سے زندگی کا کوئی خود ...

مزید پڑھیے

کیا یہ دیکھیں کہ کوئی اور تماشا کیا ہے

کیا یہ دیکھیں کہ کوئی اور تماشا کیا ہے ہم کو خود اپنے علاوہ نظر آتا کیا ہے بعض دریاؤں کے منظر بھی عجب ہوتے ہیں آدمی سوچتا رہ جائے کہ صحرا کیا ہے وہ تو اچھا ہے کہ ہم ہی خس و خاشاک نہیں ورنہ ان تیز ہواؤں کا بھروسہ کیا ہے بجھ گئے ہیں جو دیے پھر سے جلائیں کہ نہیں کوئی بتلاؤ ہمیں رنگ ...

مزید پڑھیے

بچھا ہوا کوئی تنہائیوں کا جال نہ تھا

بچھا ہوا کوئی تنہائیوں کا جال نہ تھا ترے فراق سے پہلے یہ گھر کا حال نہ تھا تھکے تو یوں کہ ہمیں آرزو تھی سائے کی صعوبتوں سے سفر کی بدن نڈھال نہ تھا کچھ ایسے موڑ پہ بچھڑے تھے ہم محبت میں مجھے بھی رنج اسے بھی کوئی ملال نہ تھا نگاہ تو نے کسی اور ہی پہ کی ہوتی جو ہم شکستہ دلوں کا تجھے ...

مزید پڑھیے

وہ کم یقیں جو سواد گماں بھی رہتا ہے

وہ کم یقیں جو سواد گماں بھی رہتا ہے تمام عمر کسی امتحاں میں رہتا ہے یہ روح و جسم کا رشتہ بھی خوب رشتہ ہے کہ جیسے کوئی پرائے مکاں میں رہتا ہے جو تو نہیں مرے ہم راہ تیری یاد سہی کوئی تو ساتھ مرے دشت جاں میں رہتا ہے کھلا یہ چاندنی شب میں کہ ایک سایہ سا ندی کے پار شکستہ مکاں میں رہتا ...

مزید پڑھیے

محال تھا کہ یہ طوفان رنگ و بو آئے

محال تھا کہ یہ طوفان رنگ و بو آئے اگر بہار ترا پیرہن نہ چھو آئے بیان درد اور اس انجمن میں دیوانو کہاں ڈبو کے محبت کی آبرو آئے یہ انگلیاں کہ اب اک جام کو ترستی ہیں کبھی انہیں سے ستاروں کی نبض چھو آئے نہ اس قدر بھی تکلف سے کام لو کہ شراب جو آئے بھی تو نظر خون آرزو آئے ہمارا پی کے ...

مزید پڑھیے

نظر میں اپنی کبھی اس قدر برا تو نہ تھا

نظر میں اپنی کبھی اس قدر برا تو نہ تھا میں اپنے آپ سے پہلے گریز پا تو نہ تھا یہ کیا کیا اسے تقدیر سونپ دی اپنی مری طرح وہ اک انسان تھا خدا تو نہ تھا گزر گیا جو برابر سے منہ چھپائے ہوئے یہ سوچتا ہوں کہیں کوئی آشنا تو نہ تھا کسے قبول تھا زندان آب و گل لیکن اب اور اس کے سوا کوئی ...

مزید پڑھیے

میں جب پہلے پہل اس شہر نا پرساں میں آیا تھا

میں جب پہلے پہل اس شہر نا پرساں میں آیا تھا سبھی اپنے نظر آتے تھے لیکن کون اپنا تھا حسیں تھے دور ہی سے ساحل و دریا کے نظارہ مگر جب ڈوب کر دیکھا تو ساحل تھا نہ دریا تھا اسے ان فاصلوں کا کچھ نہ کچھ احساس تو ہوگا کبھی جس شخص کے سینے میں میرا دل دھڑکتا تھا سمٹ آیا ہو جیسے درد میرا اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1780 سے 6203