ملن موسموں کی سزا چاہتا ہوں
ملن موسموں کی سزا چاہتا ہوں ترے ہجر کی انتہا چاہتا ہوں صداؤں سے محروم اپنی گلی میں بس اک تیری آواز پا چاہتا ہوں کسی ایک ہلچل میں وہ ساتھ ہوتا میں آوارۂ شب بجھا چاہتا ہوں گلابوں کے ہونٹوں پہ لب رکھ رہا ہوں اسے دیر تک سوچنا چاہتا ہوں تری قربتیں راکھ ہونے لگی ہیں میں اب دوریوں ...