قومی زبان

ملن موسموں کی سزا چاہتا ہوں

ملن موسموں کی سزا چاہتا ہوں ترے ہجر کی انتہا چاہتا ہوں صداؤں سے محروم اپنی گلی میں بس اک تیری آواز پا چاہتا ہوں کسی ایک ہلچل میں وہ ساتھ ہوتا میں آوارۂ شب بجھا چاہتا ہوں گلابوں کے ہونٹوں پہ لب رکھ رہا ہوں اسے دیر تک سوچنا چاہتا ہوں تری قربتیں راکھ ہونے لگی ہیں میں اب دوریوں ...

مزید پڑھیے

وہ باد گرم تھا باد صبا کے ہوتے ہوئے

وہ باد گرم تھا باد صبا کے ہوتے ہوئے میں زخم زخم تھا برگ حنا کے ہوتے ہوئے بس ایک منظر خالی تھا میری آنکھوں میں نگار خانۂ رنگ حنا کے ہوتے ہوئے وہ طاق دل ہو کہ محراب منبر و مقتل چراغ سب نے جلائے ہوا کے ہوتے ہوئے عجیب لوگ تھے خاموش رہ کے جیتے تھے دلوں میں حرمت سنگ صدا کے ہوتے ...

مزید پڑھیے

علی بن متقی رویا

پرانی بات ہے لیکن یہ انہونی سی لگتی ہے علی بن متقی مسجد کے منبر پر کھڑا کچھ آیتوں کا ورد کرتا تھا جمعہ کا دن تھا مسجد کا صحن اللہ کے بندوں سے خالی تھا یہ پہلا دن تھا مسجد میں کوئی عابد نہیں آیا علی بن متقی رویا مقدس آیتوں کو مخملیں جز دان میں رکھا امام دل گرفتہ نیچے منبر سے اتر ...

مزید پڑھیے

عاقبت اندیش بیٹے

پرانی بات ہے لیکن یہ انہونی سی لگتی ہے ہمیشہ ان کے ہونٹوں پر مقدس آیتوں کا ورد رہتا تھا ہمیشہ ان کی پیشانی ریاضت اور عبادت کی نشانی کو لیے روشن رہا کرتی وہ پانچوں وقت مسجد کے میناروں سے اذاں دیتے وہ میلوں پا پیادہ تیز دھوپوں میں سفر کرتے خدا کی برتری اس کی عبادت کے لیے لوگوں میں ...

مزید پڑھیے

نظم

تم کس سوچ میں ڈوب گئے ہو ہاتھ کا پتھر پانی کے سینے پر مارو چوٹ تو پانی کو آئے گی پانی چوٹ کی تاب نہ لا کر موجوں کی صورت میں بہتا ساحل ساحل سر پٹکے گا پھر خود ہی اصلی حالت پر آ جائے گا تم کس سوچ میں ڈوب گئی ہو ہاتھ کا پتھر پانی کے سینے پر مارو میں پانی ہوں

مزید پڑھیے

میں نے کب برق تپاں موج بلا مانگی تھی

میں نے کب برق تپاں موج بلا مانگی تھی گنگناتی ہوئی ساون کی گھٹا مانگی تھی دشت و صحرا سے گزرتی ہوئی تنہائی نے راستے بھر کے لئے اس کی صدا مانگی تھی وہ تھا دشمن مرا ہارا تو بہت زخمی تھا میں نے ہی اس کے لئے شاخ حنا مانگی تھی سائباں دھوپ کا کیوں سر پہ مرے تان دیا اے خدا میں نے تو بادل ...

مزید پڑھیے

ہوا کی اندھی پناہوں میں مت اچھال مجھے

ہوا کی اندھی پناہوں میں مت اچھال مجھے زمیں حصار کشش سے نہ تو نکال مجھے سوائے رنج ندامت نہ کچھ ملا تم کو میں کہہ رہا تھا بناؤ نہ تم مثال مجھے شکست دل نے عجب غم کو صورتیں دی ہیں رفاقتوں کی گھڑی ہے ذرا سنبھال مجھے میں خواب خواب جزیروں کی سیر کو نکلوں اٹھا کے پردۂ شب حیرتوں میں ڈال ...

مزید پڑھیے

خورشید کی بیٹی کہ جو دھوپوں میں پلی ہے

خورشید کی بیٹی کہ جو دھوپوں میں پلی ہے تہذیب کی دیوار کے سائے میں کھڑی ہے دھندلا گئے رنجش میں اس آواز کے شیشے برسوں جو سماعت سے ہم آغوش رہی ہے اب تک ہے وہی سلسلۂ خانہ خرابی اے عشق ستم پیشہ تری عمر بڑی ہے ہم آئیں تو غیروں کی طرح بزم میں بیٹھیں اے صاحب خانہ تری یہ شرط کڑی ...

مزید پڑھیے

کہاں میں جاؤں غم عشق رائیگاں لے کر

کہاں میں جاؤں غم عشق رائیگاں لے کر یہ اپنے رنج یہ اپنی اداسیاں لے کر جلا ہے دل یا کوئی گھر یہ دیکھنا لوگو ہوائیں پھرتی ہیں چاروں طرف دھواں لے کر بس اک ہمارا لہو صرف قتل گاہ ہوا کھڑے ہوئے تھے بہت اپنے جسم و جاں لے کر نئے گھروں میں نہ روزن تھے اور نہ محرابیں پرندے لوٹ گئے اپنے ...

مزید پڑھیے

پھر دل کو روز و شب کی وہی عید چاہئے

پھر دل کو روز و شب کی وہی عید چاہئے ٹوٹے تعلقات کی تجدید چاہئے خالی نہیں ہے ایک بھی بستر مکان میں اک خواب دیکھنے کے لیے نیند چاہئے ہم مانگتے رہے ترے رخسار و لب کی خیر اے صاحب جمال تری دید چاہئے ہم کو تو اک رفاقت آشفتہ سر بہت ان کو ہجوم راہ کی تائید چاہئے ہر آستیں کے خون نے قاتل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 177 سے 6203