قومی زبان

رد عمل

مجھے یہ یقیں تھا کہ جب میں سناؤں گا اس شہر کو شب کے پہلو میں کس طرح پایا ہے میں نے تو سب لوگ میرے قریب آ کے حیرت سے مجھ کو تکیں گے بھری پیالیاں چائے کی ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑیں گی نگاہوں میں گہری اداسی کے بادل امڈنے لگیں گے نئے معاشرے کی بد اعمالیوں اور بد چلنیوں پر بڑے سخت لہجے میں ...

مزید پڑھیے

کتوں کا نوحہ

پرانی بات ہے لیکن یہ انہونی سی لگتی ہے بنی قدوس کے بیٹوں کا یہ دستور تھا وہ اپنی شمشیریں نیاموں میں نہ رکھتے تھے مسلح ہو کے سوتے تھے اور ان کے خوبرو گبرو کسے تیروں کی صورت رات بھر مشعل بکف خیموں کے باہر جاگتے رہتے بنی قدوس کے بیٹے بلاؤں اور عذابوں کو ہمیشہ لغزش پا کا صلہ ...

مزید پڑھیے

امیر شہر کی نیکی

پرانی بات ہے لیکن یہ انہونی سی لگتی ہے امیر شہر راتوں کو بدل کر بھیس گلیوں میں پھرا کرتا وہ دیواروں پہ لکھی ہر نئی تحریر کو پڑھتا سرائے میں ہر اک نو وارد شب سے سفر کا ماجرا سنتا گھروں کی چمنیوں کو دیکھ کر اندازۂ نان جویں کرتا پریشاں حالیوں سے با خبر رہتا مزاروں مقبروں کی چوکھٹوں ...

مزید پڑھیے

شریف زادہ

سنو کل تمہیں ہم نے مدراس کیفے میں اوباش لوگوں کے ہم راہ دیکھا وہ سب لڑکیاں بد چلن تھیں جنہیں تم سلیقے سے کافی کے کپ دے رہے تھے بہت فحش اور مبتذل ناچ تھا وہ کہ جس کے ریکارڈوں کی گھٹیا دھنوں پر تھرکتی مچلتی ہوئی لڑکیوں نے تمہیں اپنی باہوں کی جنت میں رکھا بہت دکھ ہوا تم نے ہوٹل میں ...

مزید پڑھیے

بے کراں

سحر ہوتے کیا ہے جب بھی آغاز سفر میں نے تو ہر اک موڑ پر ہر راہ پر ہر ایک بستی میں یہی پوچھا ہے مجھ سے کون ہوں کیا نام ہے میرا مری منزل کہاں ہے کون سا شہر تمنا ہے کہ جس کی دید کا ارماں ہے جس کا سر میں سودا ہے سوالوں کو مرے شوق سفر کی آگہی دینے نظر اٹھتی خلا کی وسعتوں میں ڈوب کر کہتی افق ...

مزید پڑھیے

اصحاب گریہ

پرانی بات ہے لیکن یہ انہونی سی لگتی ہے حسین آباد سارا تعزیہ داروں کی بستی تھی محرم کے دنوں میں شام ہوتے ہی حسین آباد کے مرد و زن کالے لباسوں میں عزا خانوں کے دالانوں میں شب بھر مرثیہ پڑھتے صف ماتم بچھاتے اور اپنی چھاتیوں کو لال کر لیتے نویں کی شب وہ سب اپنے گھروں سے آگ لاتے اور ...

مزید پڑھیے

منکوحہ

ابھی وہ اٹھے گی سونے والوں پہ اک اچٹتی نگاہ ڈالے گی بکھرے بالوں کو کس کے جوڑے میں باندھ لے گی لباس کی سلوٹوں کو جھٹکے گی جانے پہچانے آسنوں سے بدن کو بیدار کر کے گھر کے دراز قد آئنہ میں اپنا سراپا دیکھے گی مسکرائے گی بالکنی سے صبح دیکھے گی سر دوپٹے سے ڈھک کے پھر وہ اذاں سنے گی نہائے ...

مزید پڑھیے

ایسا کیوں ہوتا ہے

میں اکثر سوچتا ہوں ایسا کیوں ہوتا ہے اولادوں کو اپنے باپ مائیں یاد آتی ہیں تو آنکھوں میں فقط ماں باپ کے بوڑھے سراپے ہی ابھرتے ڈوبتے اور جھلملاتے ہیں میں اکثر سوچتا ہوں ایسا کیوں ہوتا ہے ممتا سے بھرائی ماں باپ کی آنکھوں میں اولادیں کبھی بوڑھی نہیں ہوتیں

مزید پڑھیے

پرندے لوٹ آئے

پرانی بات ہے لیکن یہ انہونی سی لگتی ہے ہوا اک بار یوں بستی کے باغوں میں کسی بھی پیڑ کی ٹہنی پہ کوئی پھل نہیں آیا ہرے پتوں کا موسم لوٹ کر واپس نہیں آیا پرندے رو دیئے اور دور کے باغوں میں ہجرت کر گئے سارے بہت آزردہ ہو کر باغبانوں نے دعائیں کیں مناجاتیں پڑھیں اپنے گناہوں کی خدائے لم ...

مزید پڑھیے

صفا اور صدق کے بیٹے

پرانی بات ہے لیکن یہ انہونی سی لگتی ہے سواد شرق کا اک شہر تاریکی میں ڈوبا تھا اچانک شور سا اٹھا زمیں جیسے تڑخ جائے ندی میں باڑھ آ جائے کوئی کوہ گراں جیسے جگہ سے اپنی ہٹ جائے بڑا کہرام تھا خلقت متاع و مال سے محروم ننگے سر گھروں سے چیخ کر نکلی مگر آل صفا و صدق کے خیمے نہیں اکھڑے وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 176 سے 6203