قومی زبان

کہ جس میں محبت ضروری نہیں ہے

کہ جس میں محبت ضروری نہیں ہے مجھے وہ عبادت ضروری نہیں ہے میں بے انتہا چاہتا ہوں اسی کو کرے وہ محبت ضروری نہیں ہے مجھے تو ہی تو یاد آتا رہے بس زیادہ عنایت ضروری نہیں ہے اسے دیکھ کر ہی میرا کام چلتا مجھے اب عبادت ضروری نہیں ہے محبت سے ہی جان لیتا ہے اکثر کسی سے عداوت ضروری نہیں ...

مزید پڑھیے

اگر ناچوں نہیں تو پاؤں میرے روٹھ جاتے ہیں

اگر ناچوں نہیں تو پاؤں میرے روٹھ جاتے ہیں اگر ناچوں ذرا کھل کے تو گھنگھرو ٹوٹ جاتے ہیں زمانے کی ادائیں دیکھ کر یہ سوچتا ہوں میں وہاں سچ کیوں نہیں جاتے جہاں تک چھوٹ جاتے ہیں جو مجھ کو ساتھ رکھنا ہے ذرا دھیرے سے تم چلنا چلوں میں تیز تو پاؤں کے چھالے پھوٹ جاتے ہیں کہاں رکنا کہاں ...

مزید پڑھیے

میں پہلے برف سا تھوڑا پگھل کے دیکھوں گا

میں پہلے برف سا تھوڑا پگھل کے دیکھوں گا اگر وہ آگ ہے تو اس میں جل کے دیکھوں گا پتہ مجھے بھی ہے منزل نہیں ملے گی اب پر ایک بار تو رستہ بدل کے دیکھوں گا ابھی تو ہوش ہے گرنا ہے کیا سنبھلنا کیا قدم بہکنے لگیں پھر سنبھل کے دیکھوں گا کہے ہیں لوگ اسے انتظار ہے میرا گلی سے اس کی کسی دن ...

مزید پڑھیے

دنیا میں جو سمجھتے تھے بار گراں مجھے

دنیا میں جو سمجھتے تھے بار گراں مجھے وہ ہی سنا رہے ہیں مری داستاں مجھے مڑ مڑ کے دیکھتا تھا ترے نقش پا کو میں تنہا سمجھ کے چل دیا جب کارواں مجھے دو گام میرے ساتھ چلے راہ عشق میں ملتا نہیں ہے ایسا کوئی راز داں مجھے خاموشیوں سے رابطہ قائم جو کر لیا دنیا سمجھ رہی ہے ابھی بے زباں ...

مزید پڑھیے

ترے سلوک کا غم صبح و شام کیا کرتے

ترے سلوک کا غم صبح و شام کیا کرتے ذرا سی بات پہ جینا حرام کیا کرتے کہ بے ادب کا بھلا احترام کیا کرتے جو ناستک تھا اسے رام رام کیا کرتے وہ کوئی میرؔ ہوں غالبؔ ہوں یا انیسؔ و دبیرؔ سخن وری سے بڑا کوئی کام کیا کرتے نہ نیند آنکھوں میں باقی نہ انتظار رہا یہ حال تھا تو کوئی نیک کام کیا ...

مزید پڑھیے

جگر سے جان سے پیارے کہاں ہے کچھ تو بتا

جگر سے جان سے پیارے کہاں ہے کچھ تو بتا ہر ایک دل کے سہارے کہاں ہے کچھ تو بتا تری تلاش میں کھوئی ہوئی ہے چشم فلک زمیں کے راج دلارے کہاں ہے کچھ تو بتا مسرتوں سے تھا لبریز دل کا پیمانہ مری خوشی کے سہارے کہاں ہے کچھ تو بتا جو تو نہیں ہے تو پھیلی ہوئی ہے تاریکی مرے چمکتے ستارے کہاں ہے ...

مزید پڑھیے

کوئی خالی گیا نہ جس در سے ایسے داتا کا میں بھکاری ہوں

کوئی خالی گیا نہ جس در سے ایسے داتا کا میں بھکاری ہوں جس کا ہر ایک دل میں مندر ہے ایسی مورت کا میں پجاری ہوں ہو گیا خود شکار کا میں شکار ایسا انجان میں شکاری ہوں مجھ سے عالم کو کیا شکایت ہو آپ میں اپنی جاں پہ بھاری ہوں کہتی ہے دل کا کرکے کام تمام میں نہیں ہوں نظر کٹاری ہوں ایک ذرہ ...

مزید پڑھیے

پی کر شراب مست نہ ہو ہوشیار ہو

پی کر شراب مست نہ ہو ہوشیار ہو پینے کا جب مزا ہے نشے پر سوار ہو ساغر چھلک رہا ہو ہر اک راگنی کے ساتھ پہلو میں تو ہو اور چمن میں بہار ہو وہ آئیں گر تو دیکھ نہ پائے کوئی انہیں ایسے کسی مقام پہ میرا مزار ہو واعظ نصیحتوں کا سماں اب گزر گیا وہ چاہیے بشر جو مرا غم گسار ہو جس کو چھپا ...

مزید پڑھیے

خط کو بس تیر بنا دے کوئی

خط کو بس تیر بنا دے کوئی ایسی تحریر بنا دے کوئی ساری دنیا کی میں دولت دے دوں اس کی تصویر بنا دے کوئی دے کے اس بے خبر کو ایک پیام میری تقدیر بنا دے کوئی درد دل ہی رہے اور دل نہ رہے ایسی اکسیر بنا دے کوئی سن کے آ جائیں وہ فریاد کرنؔ ایسی تاثیر بنا دے کوئی

مزید پڑھیے

نہ پوچھو یہ مجھ سے کہ کیا دیکھتا ہوں

نہ پوچھو یہ مجھ سے کہ کیا دیکھتا ہوں میں ہر شے میں شان خدا دیکھتا ہوں ہیں دنیا میں یوں تو ہزاروں مناظر میں منظر ہی کوئی نیا دیکھتا ہوں گریباں میں منہ ڈال کر جب بھی دیکھا خطا میں تو اپنی سدا دیکھتا ہوں مصیبت کوئی ہند پر آ رہی ہے میں مشرق میں کالی گھٹا دیکھتا ہوں نمک پاشیاں ان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1769 سے 6203