قومی زبان

جھانک کر پردے سے یہ کیا کر دیا

جھانک کر پردے سے یہ کیا کر دیا دل میں میرے حشر برپا کر دیا دیدۂ تر میں تھا پنہاں راز عشق اشک کے قطروں نے افشا کر دیا نغمۂ شیریں نے میرے دل میں آج درد میٹھا میٹھا پیدا کر دیا پیتے تھے چھپ چھپ کے جام سرخ ہم آنکھ کی سرخی نے رسوا کر دیا بات تھی اتنی سی لیکن چرخ نے اس کو اک شیطاں کا ...

مزید پڑھیے

یہ زرد چہرہ یہ درد پیہم کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

یہ زرد چہرہ یہ درد پیہم کوئی سنے گا تو کیا کہے گا ذرا سے دل میں ہزار ہا غم کوئی سنے گا تو کیا کہے گا نہ قہقہوں کے ہی سلسلے ہیں نہ دوستوں میں وہ رتجگے ہیں ہر اک سے ملنا کیا ہے کم کم کوئی سنے گا تو کیا کہے گا بچھڑنے والوں کا غم نہ کیجے خود اپنے اوپر ستم نہ کیجئے اداس چہرہ ہے آنکھ پر ...

مزید پڑھیے

ہنسی ہنسی میں ہر اک غم چھپانے آتے ہیں

ہنسی ہنسی میں ہر اک غم چھپانے آتے ہیں حسین شعر ہمیں بھی سنانے آتے ہیں ہمارے دم سے ہی آباد ہیں گلی کوچے چھتوں پہ ہم ہی کبوتر اڑانے آتے ہیں دریچہ کھول دیا تھا ترے خیالوں کا ہوا کے جھونکے ابھی تک سہانے آتے ہیں وصال ہجر وفا فکر درد مجبوری ذرا سی عمر میں کتنے زمانے آتے ہیں حسین ...

مزید پڑھیے

سبھی اندھیرے سمیٹے ہوئے پڑے رہنا

سبھی اندھیرے سمیٹے ہوئے پڑے رہنا چراغ راہ گذر اس طرح بنے رہنا یہ خواہشوں کا سمندر سراب جیسا ہے سبھی کا اپنے تعاقب میں بھاگتے رہنا نئی بہار کی خوشیاں نصیب ہوں لیکن نشانیاں گئے موسم کی بھی رکھے رہنا اداس چہرے کوئی بھی نہیں پڑھا کرتا نمائشوں کی طرح آپ بھی سجے رہنا میں اتنی ...

مزید پڑھیے

شامل تو مرے جسم میں سانسوں کی طرح ہے

شامل تو مرے جسم میں سانسوں کی طرح ہے یہ یاد بھی سوکھے ہوئے پھولوں کی طرح ہے دل جس کا نہیں حرف محبت سے شناسا وہ زندگی ویران مزاروں کی طرح ہے فطرت میں ہے دولت کے کھلونوں سے بہلنا اک دوست مرا شہر میں بچوں کی طرح ہے ہر رات چراغاں سا رہا کرتا ہے گھر میں اک زخم مرے دل میں ستاروں کی طرح ...

مزید پڑھیے

ہر اک منظر بدلتا جا رہا ہے

ہر اک منظر بدلتا جا رہا ہے یہ لمحہ بھی گزرتا جا رہا ہے ترا احساس اک مدت سے میری رگ و پے میں اترتا جا رہا ہے شکایت زندگی سے کرتے کرتے وہ اک اک لمحہ مرتا جا رہا ہے پڑا ہے جب سے تیرا عکس اس میں یہ آئینہ سنورتا جا رہا ہے ورق یادوں کے کس نے کھول ڈالے مرا کمرہ مہکتا جا رہا ہے یہ دنیا ...

مزید پڑھیے

کسی کا جسم ہوا جان و دل کسی کے ہوئے

کسی کا جسم ہوا جان و دل کسی کے ہوئے ہزار ٹکڑے مری ایک زندگی کے ہوئے بدل سکا نہ کوئی اپنی قسمتوں کا نظام جو تو نے چاہا وہی حال زندگی کے ہوئے جو سارے شہر کے پتھر لیے تھا دامن میں تمام شیشے طرفدار بس اسی کے ہوئے بدلتے وقت نے تقسیم کر دیا مجھ کو تھے میرے خواب جو تیرے وہی کسی کے ...

مزید پڑھیے

اور کچھ تیز چلیں اب کے ہوائیں شاید

اور کچھ تیز چلیں اب کے ہوائیں شاید گھر بنانے کی ملیں ہم کو سزائیں شاید بھر گئے زخم مسیحائی کے مرہم کے بغیر ماں نے کی ہیں مرے جینے کی دعائیں شاید میں نے کل خواب میں خود اپنا لہو دیکھا ہے ٹل گئیں سر سے مرے ساری بلائیں شاید میں نے کل جن کو اندھیروں سے دلائی تھی نجات اب وہی لوگ مرے ...

مزید پڑھیے

بس اک خطا کی مسلسل سزا ابھی تک ہے

بس اک خطا کی مسلسل سزا ابھی تک ہے مرے خلاف مرا آئینہ ابھی تک ہے سبھی چراغ اندھیروں سے مل گئے لیکن حریف موج ہوا اک دیا ابھی تک ہے مٹا سکے نہ اسے حادثوں کے دریا بھی وہ ایک نام جو دل پر لکھا ابھی تک ہے گری ہے میری جو دستار غم ہوا لیکن یہ شکر کرتا ہوں بند قبا ابھی تک ہے نظر اٹھا کے ...

مزید پڑھیے

گھنگھرو کا گیت

سن مرے ساتھی سن گھنگھرو کے ہیں جتنے دانے ایک ہے سب کی دھن چھن چھن چھن ملنا جلنا کام سنوارے مل جل کر ہی چمکیں تارے ملے جلے ہیں گھنگھرو سارے دیکھو ان کے گن بجلی ہو تو لہراتی ہے ریت میں موج نہیں آتی ہے جھوٹی آب اتر جاتی ہے سچے موتی چن سوچا سمجھا دیکھا بھالا پیار کا رشتہ سب سے اچھا سب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1770 سے 6203