اگر ناچوں نہیں تو پاؤں میرے روٹھ جاتے ہیں

اگر ناچوں نہیں تو پاؤں میرے روٹھ جاتے ہیں
اگر ناچوں ذرا کھل کے تو گھنگھرو ٹوٹ جاتے ہیں


زمانے کی ادائیں دیکھ کر یہ سوچتا ہوں میں
وہاں سچ کیوں نہیں جاتے جہاں تک چھوٹ جاتے ہیں


جو مجھ کو ساتھ رکھنا ہے ذرا دھیرے سے تم چلنا
چلوں میں تیز تو پاؤں کے چھالے پھوٹ جاتے ہیں


کہاں رکنا کہاں چلنا ضروری ہے سمجھ ورنہ
جنہیں پانے کو ہم دوڑیں وہ پیچھے چھوٹ جاتے ہیں


وہ میرے دل کی سب باتیں مجھی سے جان لیتے ہیں
ہے ان کے دل میں کیا جب پوچھتا ہوں روٹھ جاتے ہیں


بھلے ہی خواب کچھ دیکھو مگر یہ دھیان بھی رکھنا
حقیقت سے اگر ہوں دور سپنے ٹوٹ جاتے ہیں