قومی زبان

موج نسیم صبح نہ جوش نمو سے تھا

موج نسیم صبح نہ جوش نمو سے تھا جو پھول سرخ رو تھا خزاں کے لہو سے تھا تیرے سکوت نے اسے ویران کر دیا دل باغ باغ تھا تو تری گفتگو سے تھا اب دل کے رہ گزار میں وہ چاندنی کہاں اپنا بھی ربط و ضبط کسی ماہ رو سے تھا مدت ہوئی کہ دل کا وہ گلشن اجڑ گیا شاداب جو ترے نفس مشکبو سے تھا خواب و ...

مزید پڑھیے

پرانا قصہ تمام کرنا پڑے گا اس کو

پرانا قصہ تمام کرنا پڑے گا اس کو نئے تقاضوں پہ کام کرنا پڑے گا اس کو وہ خلوتوں میں اگر کسی کو پکارتا ہے تو اپنا اونچا مقام کرنا پڑے گا اس کو اگر وہ ایوان عاشقی سے جڑا ہے تو پھر خود اپنا بھی احترام کرنا پڑے گا اس کو سب اپنی اپنی روایتوں کو بھلا رہے ہیں کچھ اور رسموں کو عام کرنا ...

مزید پڑھیے

بیان حال کو عرض طلب سمجھتے ہیں

بیان حال کو عرض طلب سمجھتے ہیں وہ لوگ جن کا ہے دعویٰ کہ سب سمجھتے ہیں صحیح ہو کے غلط ہوں یہی خطا میری کہ میں جو ہوں وہ مجھے لوگ کب سمجھتے ہیں میں جن کے وہم و گماں کو فروغ دیتا ہوں مجھے حقیر وہ خود کے سبب سمجھتے ہیں تمام عیب مجھی کو دکھائی دیتے ہیں سو میرے دوست مجھی کو عجب سمجھتے ...

مزید پڑھیے

گلے پہ اک خنجر آب دار کس کا ہے

گلے پہ اک خنجر آب دار کس کا ہے یہ روز روز مری جاں پہ وار کس کا ہے ہے کون سازش گرد و غبار کے پیچھے پس سموم جنوں ریگزار کس کا ہے دھمک زدہ ہیں خلاؤں میں بستیاں کس کی شکستہ سر پہ مکاں انتشار کس کا ہے چمکتے رنگ کھلے نقش آئینہ چہرے تو آج نقش نظر پر یہ بار کس کا ہے سراب و دشت زمان و مکان ...

مزید پڑھیے

میں ہی بولوں گا نہ تو بولے گا

میں ہی بولوں گا نہ تو بولے گا بے گناہوں کا لہو بولے گا موسم گل میں یہ اعجاز جنوں ایک اک تار رفو بولے گا مے کدہ بھی ہے کرامت کا مقام دست ساقی میں سبو بولے گا پاس پیمان محبت ہے مجھے چپ رہیں دوست عدو بولے گا میں بد اخلاق نہیں ہوں مجھ سے کیوں بت عربدہ جو بولے گا جرم حق گوئی میں سر ...

مزید پڑھیے

عجیب انتشار ہے زمیں سے آسمان تک

عجیب انتشار ہے زمیں سے آسمان تک غبار ہی غبار ہے زمیں سے آسمان تک وبائیں قحط زلزلے لپک رہے ہیں پے بہ پے یہ کس کا اقتدار ہے زمیں سے آسمان تک بساط خاک بھی تپاں خلا بھی ہے دھواں دھواں بس اک عذاب نار ہے زمیں سے آسمان تک گرفت پنجۂ فنا میں خستہ حال و خوں چکاں حیات مستعار ہے زمیں سے ...

مزید پڑھیے

حق بات ہی کہیں گے سر دار دیکھنا

حق بات ہی کہیں گے سر دار دیکھنا اہل قلم کی جرأت اظہار دیکھنا دیکھیں جنہیں ہیں دیر کے دیوار و در عزیز ہم کو تو صرف سوئے در یار دیکھنا کرتا رہا قلم یوں ہی شاخیں جو باغباں ناپید ہوگا سایۂ اشجار دیکھنا سرکار آپ پر جو چھڑکتے ہیں جان آج بچ کر چلیں گے کل یہ نمک خوار دیکھنا بنیاد جس ...

مزید پڑھیے

احساس ذمہ داری بیدار ہو رہا ہے

احساس ذمہ داری بیدار ہو رہا ہے ہر شخص اپنے قد کا مینار ہو رہا ہے آواز حق کہیں اب روپوش ہو نہ جائے حرف غلط برہنہ تلوار ہو رہا ہے کس نقش کی جلا ہے انفاس کہکشاں میں وہ کون سایہ سایہ دیوار ہو رہا ہے منت گہ سیاہی اعلان خیر خواہی کم ظرف ولولوں کا اظہار ہو رہا ہے حیرت زدہ ہے راہیؔ ...

مزید پڑھیے

وقت کے انتظار میں وہ ہے

وقت کے انتظار میں وہ ہے جستجوئے شکار میں وہ ہے سینۂ رازدار ہی میں نہیں دیدۂ آشکار میں وہ ہے آئینہ صاف ہو تو دیکھ اسے نقشۂ دل فگار میں وہ ہے اس کے قبضے میں کائنات سہی فقرا کی قطار میں وہ ہے سر پہ دستار فضل ہے لیکن جبۂ تار تار میں وہ ہے بے کراں ذہن و دل کی ہے وسعت جسم و جاں کے ...

مزید پڑھیے

نہ ستارہ نہ ہی ہم شمس و قمر چاہتے ہیں

نہ ستارہ نہ ہی ہم شمس و قمر چاہتے ہیں ہم درختوں سے فقط شاخ و ثمر چاہتے ہیں نہ زمیں چاہتے ہیں اور نہ زر چاہتے ہیں ہم فقیران خدا ایک ہی در چاہتے ہیں دشت و دریا کے امیں بھی تو ہیں آوارہ نصیب سائباں کوئی بھی ہو اپنا ہی گھر چاہتے ہیں منتقل اپنی ندامت نہ کرو غیروں تک تجربہ ہم بھی کہاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1760 سے 6203