قومی زبان

دعا نے کام کیا ہے یقیں نہیں آتا

دعا نے کام کیا ہے یقیں نہیں آتا وہ میرے پاس کھڑا ہے یقیں نہیں آتا میں جس مقام پر آ کر رکا ہوں شام ڈھلے وہیں پہ وہ بھی رکا ہے یقیں نہیں آتا وہ جس کی آنکھ میں دونوں جہاں دکھائی پڑیں وہ مجھ کو دیکھ رہا ہے یقیں نہیں آتا جسے صنم کبھی سمجھا کبھی خدا جانا وہ ایسا ہوش ربا ہے یقیں نہیں ...

مزید پڑھیے

حصار ذات سے نکلوں تو تجھ سے بات کروں

حصار ذات سے نکلوں تو تجھ سے بات کروں تری صفات کو سمجھوں تو تجھ سے بات کروں تو کوہسار میں وادی میں دشت و صحرا میں میں تجھ کو ڈھونڈ نکالوں تو تجھ سے بات کروں تو شاخ شاخ پہ بیٹھا ہے پھول کی صورت میں خار خار سے الجھوں تو تجھ سے بات کروں ترے اشاروں سے بڑھ کر ترا بیاں مبہم میں تیری بات ...

مزید پڑھیے

مدتوں بعد جو ہم شہر میں کل آئے ہیں

مدتوں بعد جو ہم شہر میں کل آئے ہیں خیر مقدم سے بھرے رد عمل آئے ہیں کیا گنہ گاروں کی فہرست ہے آنے والی کس لیے آپ کی پیشانی پے بل آئے ہیں وصل ہی وصل ہے اب ہجر جہاں لکھا تھا قصۂ عشق کا عنوان بدل آئے ہیں سب کو یہ منظر شب تاب دکھایا کس نے آج کل سب کے دماغوں میں خلل آئے ہیں پیچھا کرتے ...

مزید پڑھیے

سورج کو احساس دلایا جا سکتا ہے

سورج کو احساس دلایا جا سکتا ہے جگنو سے بھی کام چلایا جا سکتا ہے تم بس اک دن ان کا تبسم چکھ کر دیکھو ان ہونٹوں سے شہد بنایا جا سکتا ہے دوست سبھی اپنے جو مخالف ہو جائیں تو دشمن سے بھی ہاتھ ملایا جا سکتا ہے اس کا بدن خوشبو کا تھا تو نام پے اس کے صندل کا اک پیڑ لگایا جا سکتا ہے دل ...

مزید پڑھیے

دل رنجور سے لکھا اس نے

دل رنجور سے لکھا اس نے عشق کافور سے لکھا اس نے ریل گاڑی میں اپنی مجبوری دست معذور سے لکھا اس نے کل اچانک ہی اپنی کھڑکی پر ہجر سیندور سے لکھا اس نے ہم تو قاری ہیں اس اجالے کے نور جو نور سے لکھا اس نے وقت پر ہو نہیں سکا ارسال خط بہت دور سے لکھا اس نے خاکساری مری سماعت پر لفظ ...

مزید پڑھیے

بدن پہ اپنے سراپا عذاب پہنے ہوئے

بدن پہ اپنے سراپا عذاب پہنے ہوئے پھر آج نکلا ہے صحرا سراب پہنے ہوئے ہر ایک شخص کی نظروں کو کر گیا عریاں یہ کون گزرا یہاں سے نقاب پہنے ہوئے ہمارے جسم کی دیوار گر نہ جائے کہیں تمہارے ہجر کا موسم ہے آب پہنے ہوئے چمن سے خوشبو نکل کر ہوا سے پوچھتی ہے کسی کو دیکھا ہے تم نے گلاب پہنے ...

مزید پڑھیے

بچھڑ کے ان سے ملے تو کئی سوال ہوئے

بچھڑ کے ان سے ملے تو کئی سوال ہوئے بہت دنوں سے معطل تھے کب بحال ہوئے وہ ایک چہرہ جو کل سے نظر نہیں آیا ہمیں لگا کے اسے دیکھے کتنے سال ہوئے بدن کو دشت بنایا ہے اس لئے ہم نے جو دل میں آئے تھے معشوق سب غزال ہوئے ہمارے پاس جسے ڈھونڈھتے ہو تم آ کر زمانہ بیت گئے اس کا انتقال ...

مزید پڑھیے

تشبیب

تجھ کو چاند نہیں کہہ سکتا کیونکہ یہ چاند تو اس دھرتی کے چار طرف ناچا کرتا ہے میں البتہ دیوانہ ہوں تیرے گرد پھرا کرتا ہوں جیسے زمیں کے گرد یہ چاند اور سورج کے گرد اپنی زمیں ناچا کرتی ہے لیکن میں بھی چاند نہیں ہوں میں بادل کا اک ٹکڑا ہوں جس کو تیری قربت کی کرنوں نے اٹھا کر زلفوں جیسی ...

مزید پڑھیے

میں اور وہ دوسرا آدمی

جاؤ جاؤ مجھے نیند آئی ہے سونے دو مجھے دن گزر جاتا ہے لفظوں کا تعاقب کرتے اور جب رات کو تھک ہار کے گر پڑتا ہوں تم چلے آتے ہو اخبار لئے تم کو اب یاد نہیں کل کے اخبار میں بھی تھیں یہی ساری خبریں بلکہ پرسوں سے یہی خبریں دھڑا دھڑ ہر اک اخبار میں چھپتی ہیں پڑھی جاتی ہیں کل کی خبریں بھی ...

مزید پڑھیے

امید

جب تیری زلفوں سی چنچل رات نہ مانی جب تیرے گل نار لبوں سی بات نہ مانی تیری قربت کی خوش بو سا وقت نہ ٹھہرا تنہائی کے اس صحرا میں کیا رکھا ہے یہ بھی اک دن کٹ جائے گا تیری قربت کے موسم میں کانٹوں کی مانند کبھی یہ میرے ہونٹوں یا سینے میں چبھ جائے گا

مزید پڑھیے
صفحہ 1723 سے 6203