قومی زبان

انا سے دیکھو کتنا بھر گئے ہیں

انا سے دیکھو کتنا بھر گئے ہیں تو کیا ہم زندگی سے ڈر گئے ہیں مرے اندر لیا کرتے ہیں سانسیں وہ سارے لوگ جو اب مر گئے ہیں ہم اب جائیں یہاں سے بھی تو کیسے ابھی آتے ہیں وہ کہہ کر گئے ہیں ابھی ممکن نہیں ملنا خدا سے ابھی تو شیخ صاحب گھر گئے ہیں تمہیں پرہیز ہے تو مت کرو عشق جنہیں کرنا ...

مزید پڑھیے

جیسے عکس فلک حباب میں ہو

جیسے عکس فلک حباب میں ہو ایک قطرہ کہیں سراب میں ہو اشک ساکت میں کیا جگا غم عشق چاند آغوش خواب آب میں ہو نہ ہنسے اپنی بے بسی پر بھی کیا پتا کون کس عذاب میں ہو آئی ہے پھر کسی کے حق میں سزا جرم کس کے مگر ثواب میں ہو دل خزاں گاہ دو جہاں ہی سہی رنگ خوں ایسا کس گلاب میں ہو جو میں ذرے ...

مزید پڑھیے

چلتے چلتے راہ میں ایسا بھی کر جاتے ہیں ہم

چلتے چلتے راہ میں ایسا بھی کر جاتے ہیں ہم منزل مقصود سے آگے گزر جاتے ہیں ہم یکجا کر پاتا ہے وہ ہم کو کئی گھنٹوں کے بعد لمس سے اس کے جو پل بھر میں بکھر جاتے ہیں ہم ایک جملہ ہی قضا کا اپنی باعث بن گیا لب پہ بس زیر و زبر آتے ہی مر جاتے ہیں ہم خوب صورت اس لیے لگتی ہے تصویر غزل مختلف ...

مزید پڑھیے

دل بھی کیا کیا خواہش کرتا رہتا ہے

دل بھی کیا کیا خواہش کرتا رہتا ہے جب دیکھو فرمائش کرتا رہتا ہے میرے اس کے بیچ میں کتنی دوری ہے وہ اس کی پیمائش کرتا رہتا ہے دل اس کا اندر سے ٹوٹا ہے لیکن چہرے کی زیبائش کرتا رہتا ہے واقف ہے حالات چمن سے تو پھر بھی خوشبو کی فرمائش کرتا رہتا ہے دل کو خوب پتا ہے وہ ہرجائی ہے پھر ...

مزید پڑھیے

دنیا پہ میرے فن کا اثر بعد میں ہوا

دنیا پہ میرے فن کا اثر بعد میں ہوا پہلے تو عیب تھا یہ ہنر بعد میں ہوا برسوں سراب بن کے مری آنکھ میں رہا اک شخص وہ جو دیدۂ تر بعد میں ہوا صحبت میں میری تھا تو کشادہ تھی اس کی فکر وہ تنگ ذہن تنگ نظر بعد میں ہوا اک شعر رات ذہن کے کاغذ پہ نیند میں ہونے سے رہ گیا تھا مگر بعد میں ...

مزید پڑھیے

کسی کے ساتھ بھی اس نے وفا نبھائی کیا

کسی کے ساتھ بھی اس نے وفا نبھائی کیا بس اس سوال پہ دیتا رہوں دہائی کیا جسے نہ ہوش ہے خود کا نہ فکر دنیا کی تو اس کو سوچیے پرواہ جگ ہنسائی کیا اب آسمان ملے یا ملے قفس ہم کو وہ ساتھ ہوں تو ہمیں قید کیا رہائی کیا انہوں نے خط نہیں بھیجا پہ یہ بتا قاصد انہیں ہماری کبھی یاد بھی نہ آئی ...

مزید پڑھیے

غیر ممکن ہے کہ توہین وفا ہو جاؤں

غیر ممکن ہے کہ توہین وفا ہو جاؤں میں تو مر جاؤں اگر اس سے جدا ہو جاؤں میں ترے عشق میں برباد ہوں مجروح بھی ہوں اور کیا تو ہی بتا اس کے سوا ہو جاؤں میری حسرت ہے کہ آغوش میں لے لوں تجھ کو یا ترے جسم سے لپٹے وہ ردا ہو جاؤں اپنی بربادی کا الزام لگاؤں کس پر کوئی اپنا تو رہے جس سے خفا ہو ...

مزید پڑھیے

ہو بزدلی کا بہانا تو صبر کیا ٹوٹے

ہو بزدلی کا بہانا تو صبر کیا ٹوٹے اگر ہے ضبط تو اب اس کی انتہا ٹوٹے نئے چراغ جلیں دھندھ کی ردا ٹوٹے یہ میرے خواب تھے لیکن یہ بارہا ٹوٹے میری طلب میں کمی ہے نہ حوصلوں میں مگر یہ حسرتوں کی تمنا ہے دل مرا ٹوٹے ہے بے رخی بھی تیری کچھ تو آندھیوں کی طرح چراغ دل کی مرے جس میں التجا ...

مزید پڑھیے

ہو دوا میرے مرض کی تو مجھے لا کر دے

ہو دوا میرے مرض کی تو مجھے لا کر دے یا مرے حق میں دعا ہی تو خدارا کر دے تو بھلے آ نہ مگر دل کی تسلی کے لیے بے رخی یوں نہ دکھا کوئی بہانہ کر دے اس سے پہلے کہ شکایت مری پہنچے تجھ تک تو مجھے بزم سے جانے کا اشارہ کر دے پتھروں کو ہے یہ ڈر دور مناسب میں کہیں ان کو چھو کر نہ کوئی رام اہلیہ ...

مزید پڑھیے

نوائے دل نے کرشمے دکھائے ہیں کیا کیا

نوائے دل نے کرشمے دکھائے ہیں کیا کیا مری اذاں نے نمازی جگائے ہیں کیا کیا جمال یار تری آب و تاب کیا کہئے نظر نظر پہ قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا ادائے ناز کو انداز دلبری سمجھے فریب اہل محبت نے کھائے ہیں کیا کیا زمیں زمیں نہ رہی اور فلک فلک نہ رہا مقام و وقت بھی گردش میں آئے ہیں کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1722 سے 6203