قومی زبان

شکر رب ہے کہ بس امان میں ہوں

شکر رب ہے کہ بس امان میں ہوں کن دعاؤں کے سائبان میں ہوں پر ہیں بھیگے ہوئے اڑان میں ہوں وقت کے سخت امتحان میں ہوں آج بھی اجنبی ہے ہر اپنا جب کہ برسوں سے خاندان میں ہوں پتھروں نے سکون چھین لیا جب سے میں کانچ کے مکان میں ہوں کیا جدائی کا اور ہو امکاں تیرے دل میں ہوں تیری جان میں ...

مزید پڑھیے

زخم نادیدہ بہر طور دکھانے تھے بہت

زخم نادیدہ بہر طور دکھانے تھے بہت موسم ہجر کے قصے بھی سنانے تھے بہت اس کے ہنگاموں کے سب لوگ دوانے تھے بہت میری خاموش مزاجی کے فسانے تھے بہت ایک میں جی نہ سکی دے کے زمانے کو فریب یوں تو اس شہر میں جینے کے بہانے تھے بہت وہ کبھی دل کی حسیں شاخ پہ بیٹھا ہی نہ تھا میرے اندر کے پرندے ...

مزید پڑھیے

کل جو جھونکے خزاں کے چلے آئے تھے رنگ سارا چمن کا اڑا لے گئے

کل جو جھونکے خزاں کے چلے آئے تھے رنگ سارا چمن کا اڑا لے گئے شاخ سے ہر کلی کو جدا کر گئے گل کے لب سے ہنسی کو چرا لے گئے ہم مصیبت کے مارے غریب الوطن جب وطن سے خود اپنے نکالے گئے ساتھ ٹوٹا ہوا ایک دل لے گئے اور آنکھوں میں آنسو بٹھا لے گئے یاد اتنا ہے کہ پاس آئے تھے وہ پھر ہوا یوں حواس ...

مزید پڑھیے

جس طرف دیکھو تیرگی سی ہے

جس طرف دیکھو تیرگی سی ہے صبح صادق بھی شام کی سی ہے کیوں سر شام سو گئیں سڑکیں شہر میں جیسے سنسنی سی ہے مجھ کو آواز دے رہا ہے کون یہ صدا بھی تو اجنبی سی ہے اتنا مسرور ہو گیا ہے وہ اس کی آنکھوں میں جو نمی سی ہے وہ مرے آس پاس ہے شاید یہ جو آہٹ دبی دبی سی ہے اس کھنڈر میں کوئی تو ہے ...

مزید پڑھیے

بات ایسی بھی کیا ہوئی مجھ سے

بات ایسی بھی کیا ہوئی مجھ سے دل نے جو لی خبر مری مجھ سے ایک مدت سے بات کر نہ سکی وہ ملا بھی تو سرسری مجھ سے ہر گھڑی نام اس کا لیتی ہوں بس یہ عادت نہیں گئی مجھ سے راہ حق جس کو میں نے دکھلائی اس کی دنیا سنور گئی مجھ سے یہ دعا ہے کبھی خفا نہ ہوں میرا رب اور مرے نبی مجھ سے فکر عقبیٰ ...

مزید پڑھیے

تنہائی

آج اپنے کمرے میں کس قدر اکیلا ہوں شام کا دھندھلکا ہے سوچتا ہوں گن ڈالوں دوستوں کے ناخن سے کتنے زخم کھائے ہیں ان کی سمت سے دل پر کتنے تیر آئے ہیں چونک چونک اٹھتا ہوں کھانسیوں کی آہٹ سے کاش کچھ ہوا چلتی کھڑکیوں کے پٹ ہلتے تک رہا ہے آئینہ شیشیوں کی صف چپ ہے تو ہی بول تنہائی وقت ہر ...

مزید پڑھیے

تعارف

تو نے تو مجھ کو دیکھا ہے رات کے صحرا کا ویراگی چھپ کے املتاسوں کے پیلے پیراہن میں میں نے تیرے کمرہ کی پچھلی کھڑکی سے تجھ کو گہری نیند میں ہنستے کروٹ لیتے روٹھتے منتے دیکھ دیکھ کر اکثر اپنی رات گزاری تو نے تو مجھ کو دیکھا ہے میں وہ گونگا چاند ہوں جس سے تو نے ہمیشہ اپنے دل کی بات کہی ...

مزید پڑھیے

درد تنہائی کا

نیم کے پیڑ میں اٹکا ہوا چاند نیم کے پیڑ سے چھن چھن کے برستا ہوا درد درد یادوں بھری تنہائی کا درد ان یادوں کی رعنائی کا درد شبنم کے بیاباں میں مری پیاس کی زیبائی کا درد ہر لمحے کی جلتی ہوئی پنہائی کا عشق و احساس شکیبائی کا درد وقت کے چہرے پہ ہے گزری ہوئی شام کی گرد رات کے ہاتھ ہیں ...

مزید پڑھیے

ایک منظر

بانس کے جھنڈ میں چاندنی جب دبے پاؤں داخل ہوئی پتیوں کے لحافوں میں دبکی ہوئی سو رہی تھی ہوا جاگ اٹھی اک ذرا ہٹ کے تالاب کی گود میں گھس کے سوئی ہوئی ننھی لہروں نے آنکھیں ملیں کلبلانے لگیں اور کہن سال ٹیلوں پہ بیٹھے ہوئے کچھ کہن سال پیڑوں کی پرچھائیاں سر ہلانے لگیں دور اندھیرے کے ...

مزید پڑھیے

گریباں کا فاصلہ

کٹ گئی رات مگر ہجر کے جاگتے پیراہن سے رات کی ملگجی افسردہ مہک آتی ہے حلقۂ باد صبا گردن میں وقت سڑکوں پہ کھنچا پھرتا ہے راہ جاتی ہی نہیں کوئی بیاباں کی طرف ہاتھ بڑھتے ہی نہیں اپنے گریباں کی طرف

مزید پڑھیے
صفحہ 1724 سے 6203