قومی زبان

ترے بن کس طرح بسر ہوگی

ترے بن کس طرح بسر ہوگی اس شب غم کی کیا سحر ہوگی اتنا مایوس ہوں جدائی سے وہ بھی مایوس کس قدر ہوگی زندگی ہو کہ رات ہو یارو اک نہ اک روز تو سحر ہوگی یوں ہی دن بھر پھریں گے آوارہ یہی تدبیر رات بھر ہوگی رشکؔ دنیا کو دیکھنے والی تیری شاید نئی نظر ہوگی

مزید پڑھیے

موت کا امتیاز کرتا رہا

موت کا امتیاز کرتا رہا عمر اپنی تمام کرتا رہا پہلے لکھوں غزل محبت کو اور پھر اس کو عام کرتا رہا ایک تنہائی بس گئی دل میں اور میں اس میں قیام کرتا رہا میں نے جو کچھ کمایا الفت میں وہ بس اک ترے نام کرتا رہا

مزید پڑھیے

خواب آنکھوں کو ہماری جو دکھائے آئنہ

خواب آنکھوں کو ہماری جو دکھائے آئنہ خون کے آنسو وہی ہم کو رلائے آئنہ آدمی کی فطرتیں جیسے سمجھتا ہو سبھی آدمی کے ساتھ ایسے مسکرائے آئنہ بانٹنا تو چاہتا ہے دکھ بزرگوں کے مگر جھریوں کو کس طرح ان کی چھپائے آئنہ آئنے کے سامنے سے کوئی تو ہٹتا نہیں اور کسی کو خواب تک یہ ڈرائے ...

مزید پڑھیے

وہ سوالات مجھ پر اچھالے گئے

وہ سوالات مجھ پر اچھالے گئے چاہ کر بھی نہ جو مجھ سے ٹالے گئے تھا یہ روشن جہاں روشنی ان سے تھی وہ گئے ساتھ ان کے اجالے گئے خط تو یوں سیکڑوں میں نے ان کو لکھے جو بھی دل سے لکھے وہ سنبھالے گئے جب زباں بند تھی روٹی ملتی رہی کھول دی پھر تو منہ کے نوالے گئے خار راہوں میں غیروں نے ڈالے ...

مزید پڑھیے

ہزاروں الجھنیں ہے اس دل خوددار کے آگے

ہزاروں الجھنیں ہے اس دل خوددار کے آگے مگر یہ ہار جاتا ہے ترے اصرار کے آگے تری زلفوں کے آگے یہ گھٹائیں ہاتھ ملتی ہیں گلوں کے رنگ پھیکے ہیں ترے رخسار کے آگے محبت کا کروں اظہار لیکن سوچ لوں پہلے کہوں گا کیا اچانک میں ترے انکار کے آگے ہوائیں ہیں مخالف پر رکھی ہے تھام کر ہم نے ہماری ...

مزید پڑھیے

در حقیقت ہے یہ سازش حادثہ کہنے کو ہے

در حقیقت ہے یہ سازش حادثہ کہنے کو ہے اب ہمارے پاس کیا اس کے سوا کہنے کو ہے کیا جنوں ہے راہ منزل میں چبھے ہر خار کو پاؤں کا ہر آبلہ بھی مرحبا کہنے کو ہے ہم کو ہے تسلیم تیری بات لیکن جان لے یہ سراسر ضد ہے تیری التجا کہنے کو ہے یہ ترے تیر نظر اس پر تری ظلمی ادا دل کا ہر اک زخم تیرا ...

مزید پڑھیے

سیاست

باندھ کے گھنگھرو سیاست ہی نچاتی ہے ہمیں اور ہم ناچتے رہتے ہیں طوائف کی طرح اور حکومت کے اشاروں پہ ہمارے ٹھمکے یہ بتاتے ہیں کہ ہم بھی ہیں رضامند یہاں کون ہیں کنس یا راون کے طرف دار کہو کون ہم میں سے ہے ظالم کا طرف دار کہو وقت بے وقت ملے زخم کے ناسور تو ہیں ہم بھی عیسیٰ پہ ہوئے ظلم سے ...

مزید پڑھیے

پہلے یہ جسم جلایا جائے

پہلے یہ جسم جلایا جائے بعد میں شوک منایا جائے اس کی نظروں میں اگر آنا ہے اس کی باتوں میں نہ آیا جائے اب تو گردن پہ ہی بن آئی ہے اب تو نظروں کو اٹھایا جائے کس کو ہر شے سے محبت ہے بھلا کس کو آئینہ بنایا جائے وہ جو آئے نہ بلایا جائے وہ نہ آئے جو بلایا جائے ایسی باتیں جو سکھانے کی ...

مزید پڑھیے

درد سارے شب خاموش میں گر جاتے ہیں

درد سارے شب خاموش میں گر جاتے ہیں اشک جاہل ہیں مرے ہوش میں گر جاتے ہیں بندگی ہم نے طبیعت میں وہ پائی ہے کہ بس سر خداؤں کے کئی دوش میں گر جاتے ہیں جانے لغزش کو ہماری سکوں آئے گا کہاں در سے اٹھتے ہیں تو آغوش میں گر جاتے ہیں تیرے کوچے سے گزرتے ہوئے خوشیوں کے قدم تیز چلتے ہیں مگر جوش ...

مزید پڑھیے

ہر اک چھوٹی سے چھوٹی بات پر ناداں نکلتی ہے

ہر اک چھوٹی سے چھوٹی بات پر ناداں نکلتی ہے کہیں تم کھو نہ جاؤ سوچ کر ہی جاں نکلتی ہے نہ جانے کیسے کیسے درد سینے میں سلگتے ہیں نہ جانے کیسی کیسی سانس کچھ حیراں نکلتی ہے کتابت سے نہ جو سیکھا وہ دنیا نے سکھایا ہے خوشی کتنی بجا ہو درد سے پنہاں نکلتی ہے عجب ہے زندگی مشکل ہوئی آسان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1721 سے 6203