قومی زبان

میری گردن پر نہ جانے کس کا چہرہ رہ گیا

میری گردن پر نہ جانے کس کا چہرہ رہ گیا آئنے کو میں مجھے آئینہ تکتا رہ گیا سارا دن بکھرے ہوئے خوابوں کو یکجا کیجئے زندگی کے نام پر بس اک تماشہ رہ گیا بھر رہی ہے سسکیاں کس کے لئے نہر فرات اے زمین کربلا یہ کون پیاسا رہ گیا اپنے گھر کو پھونک دیں اور روشنی پیدا کریں اب ہمارے سامنے بس ...

مزید پڑھیے

دئے جلا کے ہواؤں کے منہ پہ مار آیا

دئے جلا کے ہواؤں کے منہ پہ مار آیا کوئی تو ہے جو اندھیروں کا قرض اتار آیا خدا سے جب بھی کڑی دھوپ کی شکایت کی تو میری راہ میں ایک پیڑ سایہ دار آیا کہاں ہوئی کبھی اس سے ہماری دید و شنید ہوا کے رتھ پہ ہمیشہ ہی وہ سوار آیا سکون بانٹتی پھرتی ہوں میں زمانے میں نہ جانے کیوں مرے حصے میں ...

مزید پڑھیے

جس طرف بھی دیکھتی ہوں ایک ہی تصویر ہے

جس طرف بھی دیکھتی ہوں ایک ہی تصویر ہے اے خدا کیا وہ مری قسمت میں بھی تحریر ہے اس ہتھیلی پہ محبت کی لکیریں ہیں بہت ہاں مگر زنجیر میں الجھا خط تقدیر ہے میرے رستے میں کھڑی ہے چین کی دیوار سی اس طرف ہیں خواب میرے اس طرف تعبیر ہے جانے کیوں منہدی رچا رکھی ہے میرے ویر نے جانے کیوں ہم ...

مزید پڑھیے

ہے وہی منظر خوں رنگ جہاں تک دیکھوں

ہے وہی منظر خوں رنگ جہاں تک دیکھوں میں فقط ایک ہی تصویر کہاں تک دیکھوں نیند ٹوٹی ہے مرے خواب کہاں ٹوٹے ہیں عکس تیرا ہی حقیقت سے گماں تک دیکھوں اتنی وسعت سے مری قلب و نظر کو مولیٰ آنکھ صحرا پہ دھروں آب رواں تک دیکھوں رت کوئی آئے کبھی پھول کھلانے والی کب تلک آگ ہر اک صحن و مکاں تک ...

مزید پڑھیے

وہ جو ہوتی تھی فضائے داستانی لے گیا

وہ جو ہوتی تھی فضائے داستانی لے گیا عہد نو گھر گھر سے پریوں کی کہانی لے گیا اور لے جاتا بھی کیا ٹوٹے ہوئے رشتے کا دکھ کاسۂ دل سے لہو آنکھوں سے پانی لے گیا اس کو جانا تھا چلا جاتا مگر جاتے ہوئے چھین کر مجھ سے وہ اپنی ہر نشانی لے گیا کیوں نہیں کھلتے اب آنکھوں میں رواداری کے ...

مزید پڑھیے

وفا کرنا ستم سہنا نہیں ہے

وفا کرنا ستم سہنا نہیں ہے مجھے اب اور کچھ کہنا نہیں ہے بھلا میں کیوں تمہارے خواب دیکھوں تمہارے ساتھ جب رہنا نہیں ہے مری آنکھیں حقیقت آشنا ہیں خیالی موج میں بہنا نہیں ہے شکایت کیوں تجھے ہے دوسروں سے شرافت جب ترا گہنا نہیں ہے نہیں ہو جس میں رخشاں اوس کی خوشبو کبھی وہ پیرہن ...

مزید پڑھیے

سینے میں لیے جینے کے ارمان ہزاروں

سینے میں لیے جینے کے ارمان ہزاروں مر جاتے ہیں ہر دن یہاں انسان ہزاروں سب حسن کو معصوم سمجھتے ہیں جہاں میں اور عشق کے ماتھے پہ ہیں بہتان ہزاروں ہر زخم نے بخشی ہے جلا میرے جنوں کو قاتل تری شمشیر کے احسان ہزاروں لا حاصلی آخر کو ہے ہر چیز کا حاصل ہر نفع کے پہلو میں ہیں نقصان ...

مزید پڑھیے

دل میں جو آئے اچھا برا کہہ لیا کرو

دل میں جو آئے اچھا برا کہہ لیا کرو تم بھی کسی سے اپنی خطا کہہ لیا کرو دو آنکھیں اب بھی دیکھتی ہیں راستہ ترا جا کر کبھی سلام دعا کہہ لیا کرو بدلا ہوا ہے عشق کا دستور میری جاں ہر سنگ دل کو جان وفا کہہ لیا کرو دلبر سے دل کی بات چھپانا گناہ ہے جس دن ہو خوش گوار فضا کہہ لیا کرو کیوں ...

مزید پڑھیے

تمہارے آنے سے منظر کا یوں بدل جانا

تمہارے آنے سے منظر کا یوں بدل جانا نئے قرینے میں ہر شے کا خود ہی ڈھل جانا تکلفات سب اپنی جگہ مگر پھر بھی جو دل کو توڑ کے جانا ہی ہے تو کل جانا جو بات میں کسی صورت بھی کہہ نہ سکتا تھا لبوں سے میرے اسی بات کا پھسل جانا چمکتے دن میں ٹھہرنا نہ دل کسی شے پر اندھیری رات میں جگنو سے جی ...

مزید پڑھیے

دیکھو آقا کی گلی اور وہ روضہ دیکھو

دیکھو آقا کی گلی اور وہ روضہ دیکھو اپنی نظروں کو سکوں بخش دو کعبہ دیکھو میں دل و جان سے روضے پہ جھکی جاتی ہوں دل پکارے ہی چلا جاتا ہے جلوہ دیکھو مشکلوں میں بھی وہی عشق تجھے تھا مے کا غم سلامت رہے خوشیوں کا فرشتہ دیکھو سارے عالم میں کوئی روشنی سی پھوٹی ہے ساری دنیا میں کوئی نور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1709 سے 6203