قومی زبان

اور کتنا ابھی پرہیز کیا جائے گا

اور کتنا ابھی پرہیز کیا جائے گا ان چراغوں کو کبھی تیز کیا جائے گا ہم ترے رنگ میں رنگ جائیں گے یا پھر ہم کو آپ ہی کی طرح رنگ ریز کیا جائے گا ہم کھڑے ہو گئے ہیں حق کے تحفظ کے لئے ہم سے اب جان کے پرہیز کیا جائے گا ظلم سہہ کے بھی بغاوت نہیں کی ہے ہم نے ظالموں کو ابھی چنگیز کیا جائے ...

مزید پڑھیے

صدف کے کرب کو وہ مانتا ہے

صدف کے کرب کو وہ مانتا ہے اک اک موتی کی قیمت جانتا ہے نفاست سے بناتا ہے کھلونے پسینے سے جو مٹی سانتا ہے کہیں جاؤں وہ مجھ کو ڈھونڈ لے گا مجھے میرا عمل پہچانتا ہے میسر ہے ہوائے دشت اس کو ردائے گرد سے جو چھانتا ہے جو رہتا ہے ازل کی جستجو میں وہ دنیا میں کسے گردانتا ہے مرے قدموں ...

مزید پڑھیے

دل کی دھڑکن الجھ رہی ہے یہ کیسی سوغات غزل کی

دل کی دھڑکن الجھ رہی ہے یہ کیسی سوغات غزل کی تار نفس پر انگلی رکھ دی چھیڑ کے تم نے بات غزل کی اس کا چہرہ اس کی آنکھیں ایک قیامت ہائے محبت تصویریں خود بتلاتی ہیں ساری تفصیلات غزل کی وہی کہانی دہرائیں گے وہی نشانی پھر ڈھونڈیں گے آدم اور حوا سے جڑی ہے اصل میں تلمیحات غزل کی صفحۂ ...

مزید پڑھیے

جا نہیں سکتی جدھر جانے کو جی چاہتا ہے

جا نہیں سکتی جدھر جانے کو جی چاہتا ہے ان دنوں یوں ہے کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے گھر میں رہتی ہوں تو باہر کی ہوا کھینچتی ہے گھر سے جب نکلوں تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے میں نے کب باندھ کے رکھا ہے تمہیں پلو سے تم چلے جاؤ اگر جانے کو جی چاہتا ہے عہد تو تھا کہ نہ توڑوں گی میں حد فاصل آج ...

مزید پڑھیے

ہر قدم پر نئی دیوار اٹھانے والے

ہر قدم پر نئی دیوار اٹھانے والے بڑے آئے مجھے تہذیب سکھانے والے تو ہی ہر رند کا قبلہ ہو ضروری تو نہیں شہر میں کم نہیں آنکھوں سے پلانے والے کوئی اس خواب کی تعبیر بتا سکتا ہے روز آتے ہیں مجھے خواب ڈرانے والے جس کو دیکھو ہے وہی پیکر آلام یہاں کھو گئے جانے کہاں ہنسنے ہنسانے ...

مزید پڑھیے

یہ زندگی تو مسلسل سوال کرتی ہے

یہ زندگی تو مسلسل سوال کرتی ہے مگر جواب وہی خامشی ٹھہرتی ہے ترے خیال کے ساحل سے دیکھتی ہوں میں تری ہی شکل ہر اک موج سے ابھرتی ہے کسی رقیب سے ملتی ہے جب خبر تیری تجھے پتہ ہے مرے دل پہ کیا گزرتی ہے گلی گلی میں ملیں گے غزل کے دیوانے مگر یہ شوخ بہت کم کسی پہ مرتی ہے میں سحر میں تری ...

مزید پڑھیے

اے باد صبا

اے باد صبا محبوب سے ملنے جانا ہے پیغام مرا پہنچانا ہے پر حد ادب لازم رکھنا وہ شوخ جواں گر خواب میں ہو دھیرے سے زلفیں سہلانا بیدار اگر وہ ہو جائے تو کہنا سلام شوق مرا پھر کہنا کہ دیوانی میں پلکوں کو بچھائے بیٹھی ہوں ملنے کو بہت بیتاب ہوں میں اور نیند اگر کچھ گہری ہو پلکوں کو ہولے ...

مزید پڑھیے

بے قراری قرار ہے مجھ کو

بے قراری قرار ہے مجھ کو دل کے زخموں سے پیار ہے مجھ کو ان دنوں حالت جنون میں ہوں مجھ پہ اب اختیار ہے مجھ کو دیکھ وارفتگیٔ حالت حال اپنی وحشت سے پیار ہے مجھ کو اب تری یاد بھی نہیں آتی کیوں ترا انتظار ہے مجھ کو اے مری جان تو نے سوچا ہے تجھ پہ کیوں اعتبار ہے مجھ کو میں نے وہ بات جو ...

مزید پڑھیے

حقیقتوں کو تصور سے کھینچ لاتے ہیں

حقیقتوں کو تصور سے کھینچ لاتے ہیں ہم ایسے لوگ کہانی نہیں بناتے ہیں عجیب لوگ ہیں بستی میں روشنی کے لئے دیا جلاتے نہیں ہیں دھواں اڑاتے ہیں علاج مانگ رہے ہیں یہ ناقدین عہد جو آفتاب کو دیپک یہاں دکھاتے ہیں تمہاری فکر کی بیساکھیاں نہیں لیتے ہم اپنی فکر سے اپنا جہاں بناتے ...

مزید پڑھیے

جو خشک جھیل کی مٹی سے آب مانگتے ہیں

جو خشک جھیل کی مٹی سے آب مانگتے ہیں وہ اندھ کار سے رنگوں کے خواب مانگتے ہیں لہو پلاتے ہیں جو لوگ ہم کو جیون بھر وہ شام ہوتے ہی کیوں کر شراب مانگتے ہیں انہیں خبر ہی نہیں ہے خود اپنے ہونے کی جو ہر سوال سے پہلے جواب مانگتے ہیں وہ قتل کرنے کی آتے ہیں خواہشیں لے کر جو مانگتے ہیں تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1708 سے 6203