قومی زبان

محبت تو محبت ہی نہیں تھی

محبت تو محبت ہی نہیں تھی حقیقت میں حقیقت ہی نہیں تھی میں اس کی چائے کی پیالی تھی لیکن اسے پینے کی جرأت ہی نہیں تھی بچھڑنے کا بھی اک اپنا مزہ تھا مگر مجھ میں یہ ہمت ہی نہیں تھی برا مت ماننا پر سچ یہی ہے تجھے میری ضرورت ہی نہیں تھی کسے میں ڈھونڈھتی اپنی خوشی میں تمہارے غم سے فرصت ...

مزید پڑھیے

چلو تم بھی مقدر آزما لو

چلو تم بھی مقدر آزما لو ہمارے نام کا سکہ اچھالو میں اپنے آپ میں دھنسنے لگی ہوں مجھے میری ہی دلدل سے نکالو گہر کم ہیں خذف ریزے زیادہ ابھی کچھ اور دریا کو کھنگالو چلو کرتے ہیں تجدید تعلق پرانی رنجشوں پر خاک ڈالو مرا ماضی مرے در پر کھڑا ہے مجھے تم اپنے دامن میں چھپا لو بہت مشکل ...

مزید پڑھیے

کہا گیا نہ کبھی اور کبھی سنا نہ گیا

کہا گیا نہ کبھی اور کبھی سنا نہ گیا میں ایسا حرف ہوں جو آج تک لکھا نہ گیا دبا کے ہونٹوں میں لائی تھی مدعا کیا کیا مگر وہ سامنے آیا تو کچھ کہا نہ گیا بچھڑ کے تم سے ابھی تک بھٹک رہی ہوں میں تمہارے گھر کی طرف کوئی راستہ نہ گیا ابھی بھی یاد ہے تم کو ہمارے ہاتھ کی چائے خدا کا شکر ابھی ...

مزید پڑھیے

آنکھ نے پھر عذاب دیکھا ہے

آنکھ نے پھر عذاب دیکھا ہے ایک تازہ گلاب دیکھا ہے نیند راتوں کو اب نہیں آتی خواب ایسا خراب دیکھا ہے سانس لینا بھی ہو گیا مشکل جب سے آنکھوں نے خواب دیکھا ہے جانے کیسے نشے میں ہے دل بھی آج اس نے شراب دیکھا ہے زخم بھی پھول جیسے ہیں رخشاںؔ زخم تو بے حساب دیکھا ہے

مزید پڑھیے

خود کو جس کے لیے بھلاتی ہوں

خود کو جس کے لیے بھلاتی ہوں کیا اسے بھی میں یاد آتی ہوں اس کا چہرہ کتاب جیسا ہے روز پڑھتی ہوں مسکراتی ہوں ویسے آنکھیں اداس رہتی ہیں دیکھ کر اس کو جگمگاتی ہوں جانتی ہوں ہوا مٹا دے گی میں گھروندے مگر بناتی ہوں گھر کی دیوار ہے سکھی میری میں اسی سے گپیں لڑاتی ہوں آپ اخبار دیکھیے ...

مزید پڑھیے

تمہیں اب یاد آئی ہے مری کیا

تمہیں اب یاد آئی ہے مری کیا ٹھکانے لگ گئی آوارگی کیا چراغوں کو بجھاتے پھر رہے ہو تمہارا مسئلہ ہے روشنی کیا تمہی شامل نہیں جب زندگی میں بھلا ہم کیا ہماری زندگی کیا تمہارا تجربہ کیا کہہ رہا ہے کروگے پھر کسی سے دوستی کیا اسی دنیا میں تم ہو اور میں بھی تو اب ممکن نہیں ہے واپسی ...

مزید پڑھیے

مری داستاں مجھے ہی مرا دل سنا کے روئے

مری داستاں مجھے ہی مرا دل سنا کے روئے کبھی رو کے مسکرائے کبھی مسکرا کے روئے ملے غم سے اپنے فرصت تو میں حال پوچھوں ان کا شب غم سے کوئی کہہ دے کہیں اور جا کے روئے ہمیں واسطہ تڑپ سے ہمیں کام آنسوؤں سے تجھے یاد کر کے روئے یا تجھے بھلا کے روئے وہ جو آزما رہے تھے مری بے قراریوں کو مرے ...

مزید پڑھیے

کل چمن تھا آج اک صحرا ہوا

کل چمن تھا آج اک صحرا ہوا دیکھتے ہی دیکھتے یہ کیا ہوا مجھ کو بربادی کا کوئی غم نہیں غم ہے بربادی کا کیوں چرچا ہوا اک چھوٹا سا تھا میرا آشیاں آج تنکے سے الگ تنکا ہوا سوچتا ہوں اپنے گھر کو دیکھ کر ہو نہ ہو یہ ہے میرا دیکھا ہوا دیکھنے والوں نے دیکھا ہے دھواں کس نے دیکھا دل مرا ...

مزید پڑھیے

جب جب تمہیں بھلایا تم اور یاد آئے

جب جب تمہیں بھلایا تم اور یاد آئے جاتے نہیں ہیں دل سے اب تک تمہارے سائے تم سے بچھڑ کے ہم نے دل کو بہت سنبھالا گلشن میں یہ نہ بہلا صحرا میں بھی ستائے مرنے کی آرزو میں ہم جی رہے ہیں ایسے جیسے کہ لاش اپنی خود ہی کوئی اٹھائے

مزید پڑھیے

کسے معلوم تھا اک دن محبت بے زباں ہوگی

کسے معلوم تھا اک دن محبت بے زباں ہوگی وہ ظالم آسماں جانے مری دنیا کہاں ہوگی کبھی اک خواب دیکھا تھا مرے پہلو میں تم ہوگی کہانی پیار کی آنکھوں ہی آنکھوں میں بیاں ہوگی لہو دل کا مری آنکھوں کا پانی بن کے کہتا ہے نہ ہم ہوں گے نہ تم ہوگے ہماری داستاں ہوگی

مزید پڑھیے
صفحہ 1710 سے 6203