قومی زبان

ترے اشارۂ ابرو کا احترام کریں

ترے اشارۂ ابرو کا احترام کریں وجود اپنا سنبھالیں کہ تیرا کام کریں جواب دے تو مزا بھی ملے سوالوں کا وہ آئنہ ہے تو پھر کس طرح کلام کریں تھکن سے آنکھ جھپکنے لگی ہے سونا ہے تجھے جنون سفر آخری سلام کریں بہت سے کام ہیں دنیا میں آدمی کے لئے کسی کے واسطے کیوں زندگی حرام کریں عبادتوں ...

مزید پڑھیے

جلنے کا ہنر صرف فتیلے کے لیے تھا

جلنے کا ہنر صرف فتیلے کے لیے تھا روغن تو چراغوں میں وسیلے کے لیے تھا صندل کا وہ گہوارہ جو نیلام ہوا ہے اک راج گھرانے کے ہٹیلے کے لیے تھا عیاش طبیعت کا ہے آئینہ اک اک اینٹ یہ رنگ محل ایک رنگیلے کے لیے تھا کل تک جو ہرا پیڑ تھا کیوں سوکھ گیا ہے جب دھوپ کا موسم کسی گیلے کے لیے ...

مزید پڑھیے

سلگتی ریت پہ چلنا پڑے خدا نہ کرے

سلگتی ریت پہ چلنا پڑے خدا نہ کرے مری طرح تجھے قسمت برہنہ پا نہ کرے پھر اس کے بعد مری زندگی وفا نہ کرے میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے اک ایک پل ہے اذیت نفس نفس ہے عذاب جو مجھ کو دیکھ لے جینے کا حوصلہ نہ کرے جسے مجال تکلم نہ ہو وہ چپ بیٹھے بڑوں کی بات سنے کوئی تبصرہ نہ ...

مزید پڑھیے

میں زمانے میں ہوں لیکن یہ زمانہ تیرا

میں زمانے میں ہوں لیکن یہ زمانہ تیرا ہاتھ میرا ہے لٹاتا ہے خزانہ تیرا تیر تیرا ہے کماں تیری نشانہ تیرا دام میرا ہے تہ دام ہے دانہ تیرا دائرے سب نے عقائد کے بنا رکھے ہیں ورنہ مخصوص نہیں کوئی ٹھکانہ تیرا جو بھی سنتا ہے وہ عنوان نیا دیتا ہے گشت کرتا ہے زمانے میں فسانہ تیرا تیز ...

مزید پڑھیے

کچھ اس ادا سے سفیران نو بہار چلے

کچھ اس ادا سے سفیران نو بہار چلے صلیب دوش پہ رکھ کر گناہ گار چلے نکل کے کوئے محبت سے سوئے دار چلے ہمارے ساتھ نہ کیوں موسم بہار چلے تمہاری یاد سہی قربت بدن نہ سہی کسی طرح تو محبت کا کاروبار چلے ہمارے دم سے غم زندگی کی عظمت ہے ہمارے ساتھ ستم ہائے روزگار چلے اسی کا نام بہاراں ہے ...

مزید پڑھیے

بھیک لے کر ہی اگر دان کیا جائے گا

بھیک لے کر ہی اگر دان کیا جائے گا اپنی ہی ذات کا نقصان کیا جائے گا آپ نے فکر کی بھرپور حمایت کی ہے آپ کو صاحب ایمان کیا جائے گا آپ کیوں سچ کے تحفظ میں کھڑے ہیں اب تک آپ کو روز پریشاں کیا جائے گا ہجر کے زخم تو رسوا ہی کریں گے مجھ کو اور پھر چاک گریبان کیا جائے گا اپنی آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

دل کے زخموں کو زمانے سے چھپانے کے لیے

دل کے زخموں کو زمانے سے چھپانے کے لیے ہنسنا پڑتا ہے یہاں سب کو دکھانے کے لیے کب سے بیٹھے ہیں مری آنکھ کی انگنائی میں خواب بچوں کی طرح شور مچانے کے لیے اپنے دیدار کا شربت تو پلا دے ہم کو ہم تو آئے ہیں ترے شہر سے جانے کے لیے میرے اشعار ہی دولت یہ خزانہ ہے میرا ڈھونڈھتا رہتا ہوں ...

مزید پڑھیے

جن کو اپنی راہوں میں دقتیں نہیں ملتی (ردیف .. ن)

جن کو اپنی راہوں میں دقتیں نہیں ملتی ان کو اپنی منزل کی صحبتیں نہیں ملتی خون میرے سینے کا آنکھ تک نہیں آیا اتنی جلد غزلوں کو شہرتیں نہیں ملتی دور رہ کے وہ مجھ سے تھا قریب تر کتنا پاس رہ کے کیوں اس کی قربتیں نہیں ملتیں اک پکار سنتے ہی جا رہا ہوں مقتل میں روز روز دشمن کی دعوتیں ...

مزید پڑھیے

رنگ اشکوں کا بدلنے بھی نہیں دیتا وہ

رنگ اشکوں کا بدلنے بھی نہیں دیتا وہ اور مجھے گھر سے نکلنے بھی نہیں دیتا وہ ڈستا رہتا ہے بہت میری انا کو پل پل اپنی قربت سے نکلنے بھی نہیں دیتا وہ ضبط چہرے کی تمازت سے عیاں ہے لیکن میری آنکھوں کو ابلنے بھی نہیں دیتا وہ کاغذ دل کو بھگوتا ہے نئے اشکوں سے پھر یہ کاغذ کبھی جلنے بھی ...

مزید پڑھیے

ستم سہتے ہوئے ہر دن نئی خواہش سے ڈرتا ہوں

ستم سہتے ہوئے ہر دن نئی خواہش سے ڈرتا ہوں مری آنکھوں میں غم ہے اور میں بارش سے ڈرتا ہوں مری پاکیزگی نے ہی بنایا ہے مجھے منصف سو میں انصاف کرتے وقت ہر لغزش سے ڈرتا ہوں دلوں کی وسعتوں کو بانٹ ہی سکتی نہیں دنیا میں قسطوں میں بنٹا ہوں اور پیمائش سے ڈرتا ہوں جلاتا ہوں محبت کے دئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1707 سے 6203