قومی زبان

نہ جسم ساتھ ہمارے نہ جاں ہماری طرف

نہ جسم ساتھ ہمارے نہ جاں ہماری طرف ہے کچھ بھی ہم میں ہمارا کہاں ہماری طرف کھڑے ہیں پیاسے انا کے اسی بھروسے پر کہ چل کے آئے گا اک دن کنواں ہماری طرف بچھڑتے وقت وہ تقسیم کر گیا موسم بہار اس کی طرف ہے خزاں ہماری طرف اسی امید پہ کردار ہم نبھاتے رہے کہ رخ کرے گی کبھی داستاں ہماری ...

مزید پڑھیے

اب کیا بتائیں ٹوٹے ہیں کتنے کہاں سے ہم

اب کیا بتائیں ٹوٹے ہیں کتنے کہاں سے ہم خود کو سمیٹتے ہیں یہاں سے وہاں سے ہم کیا جانے کس جہاں میں ملے گا ہمیں سکون ناراض ہیں زمیں سے خفا آسماں سے ہم اب تو سراب ہی سے بجھانے لگے ہیں پیاس لینے لگے ہیں کام یقیں کا گماں سے ہم لیکن ہماری آنکھوں نے کچھ اور کہہ دیا کچھ اور کہتے رہ گئے ...

مزید پڑھیے

جو کہیں تھا ہی نہیں اس کو کہیں ڈھونڈھنا تھا

جو کہیں تھا ہی نہیں اس کو کہیں ڈھونڈھنا تھا ہم کو اک وہم کے جنگل میں یقیں ڈھونڈھنا تھا پہلے تعمیر ہمیں کرنا تھا اچھا سا مکاں پھر مکاں کے لئے اچھا سا مکیں ڈھونڈھنا تھا سب کے سب ڈھونڈتے پھرتے تھے اسے بن کے ہجوم جس کو اپنے میں کہیں اپنے تئیں ڈھونڈھنا تھا جستجو کا اک عجب سلسلہ تا ...

مزید پڑھیے

یہ کب چاہا کہ میں مشہور ہو جاؤں

یہ کب چاہا کہ میں مشہور ہو جاؤں بس اپنے آپ کو منظور ہو جاؤں نصیحت کر رہی ہے عقل کب سے کہ میں دیوانگی سے دور ہو جاؤں نہ بولوں سچ تو کیسا آئینہ میں جو بولوں سچ تو چکنا چور ہو جاؤں ہے میرے ہاتھ میں جب ہاتھ تیرا عجب کیا ہے جو میں مغرور ہو جاؤں بہانہ کوئی تو اے زندگی دے کہ جینے کے لئے ...

مزید پڑھیے

یوں دیکھیے تو آندھی میں بس اک شجر گیا

یوں دیکھیے تو آندھی میں بس اک شجر گیا لیکن نہ جانے کتنے پرندوں کا گھر گیا جیسے غلط پتے پہ چلا آئے کوئی شخص سکھ ایسے میرے در پہ رکا اور گزر گیا میں ہی سبب تھا اب کے بھی اپنی شکست کا الزام اب کی بار بھی قسمت کے سر گیا

مزید پڑھیے

زندگی تو نے لہو لے کے دیا کچھ بھی نہیں

زندگی تو نے لہو لے کے دیا کچھ بھی نہیں تیرے دامن میں مرے واسطے کیا کچھ بھی نہیں آپ ان ہاتھوں کی چاہیں تو تلاشی لے لیں میرے ہاتھوں میں لکیروں کے سوا کچھ بھی نہیں ہم نے دیکھا ہے کئی ایسے خداؤں کو یہاں سامنے جن کے وہ سچ مچ کا خدا کچھ بھی نہیں یا خدا اب کے یہ کس رنگ میں آئی ہے ...

مزید پڑھیے

اشک آنکھوں میں ڈبڈبائے ہیں

اشک آنکھوں میں ڈبڈبائے ہیں بھولے افسانے یاد آئے ہیں ہم نے دامن کو تار تار کیا موسم گل نے گل کھلائے ہیں اکثر اوقات روغنی کے لئے ہم نے دل کے دئے جلائے ہیں رنج بخشے ہیں ایسے اپنوں نے ہم کو بیگانے یاد آئے ہیں چند روزہ حیات کی خاطر زندگی بھر فریب کھائے ہیں مے کشو ایک جام ...

مزید پڑھیے

جو بہر وطن مرنے کو تیار نہیں ہے

جو بہر وطن مرنے کو تیار نہیں ہے جینے کا کسی طور وہ حق دار نہیں ہے کیا فائدہ اس شکوہ و فریاد و فغاں سے سننے کو جسے کوئی بھی تیار نہیں ہے واعظ سے کہو جا کے کرے وعظ کہیں اور کوئی بھی تو اس بزم میں ہشیار نہیں ہے کرنی ہے بپا پھر مجھے اک شورش دوراں اے دوستو نالہ مرا بیکار نہیں ہے جس جا ...

مزید پڑھیے

پوچھ لیتے جو مدعا ہم سے

پوچھ لیتے جو مدعا ہم سے پھر نہ کرتے کوئی گلہ ہم سے تھا زمانہ تو بد گماں لیکن آپ بھی ہو گئے خفا ہم سے ہے خدا حافظ اب تو کشتی کا دور ہو دور نا خدا ہم سے ہم کو تو زندگی نے مار لیا کیا کہے گی بھلا قضا ہم سے آپ کا ہم سے واسطہ تو یہ واسطہ اور آپ کا ہم سے دیکھ کر ان کو آنکھ بھر آئی اس سے ...

مزید پڑھیے

گیسوئے دوراں کو کم کم جتنا سلجھاتا ہوں میں

گیسوئے دوراں کو کم کم جتنا سلجھاتا ہوں میں کیا قیامت ہے کہ اتنا ہی الجھ جاتا ہوں میں نبض کی رفتار خود کہہ دے گی احوال مریض اے طبیب وقت کچھ کہنے سے گھبراتا ہوں میں فیصلہ کن بات ہو جاتی ہے اکثر اس گھڑی زندگی کے روبرو جب موت کو پاتا ہوں میں ان کے آنے کا تصور ان کے جانے کا خیال ہر دو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1697 سے 6203