قومی زبان

دروازے کے اندر اک دروازہ اور

دروازے کے اندر اک دروازہ اور چھپا ہوا ہے مجھ میں جانے کیا کیا اور کوئی انت نہیں من کے سونے پن کا سناٹے کے پار ہے اک سناٹا اور کبھی تو لگتا ہے جتنا ہے کافی ہے اور کبھی لگتا ہے اور ذرا سا اور سچ کہنے پر خوش ہونا تو دور رہا کیا زمانے نے مجھ کو شرمندہ اور عجب مسافر ہوں میں میرا سفر ...

مزید پڑھیے

رنگ موسم کا ہرا تھا پہلے

رنگ موسم کا ہرا تھا پہلے پیڑ یہ کتنا گھنا تھا پہلے میں نے تو بعد میں توڑا تھا اسے آئینہ مجھ پہ ہنسا تھا پہلے جو نیا ہے وہ پرانا ہوگا جو پرانا ہے نیا تھا پہلے بعد میں میں نے بلندی کو چھوا اپنی نظروں سے گرا تھا پہلے

مزید پڑھیے

اجازت کم تھی جینے کی مگر مہلت زیادہ تھی

اجازت کم تھی جینے کی مگر مہلت زیادہ تھی ہمارے پاس مرنے کے لیے فرصت زیادہ تھی تعجب میں تو پڑتا ہی رہا ہے آئنہ اکثر مگر اس بار اس کی آنکھوں میں حیرت زیادہ تھی بلندی کے لیے بس اپنی ہی نظروں سے گرنا تھا ہماری کم نصیبی ہم میں کچھ غیرت زیادہ تھی جواں ہونے سے پہلے ہی بڑھاپا آ گیا ہم ...

مزید پڑھیے

ہے کوئی بیر سا اس کو مری تدبیر کے ساتھ

ہے کوئی بیر سا اس کو مری تدبیر کے ساتھ اب کہاں تک کوئی جھگڑا کرے تقدیر کے ساتھ مرے ہونے میں نہ ہونے کا تھا ساماں موجود ٹوٹنا میرا لکھا تھا مری تعمیر کے ساتھ چھوڑ جاتے ہیں حقیقت کے جہاں میں ہمیں پھر خواب آتے ہی کہاں ہمیں کبھی تعبیر کے ساتھ آدمی ہی کے بنائے ہوئے زنداں ہیں یہ ...

مزید پڑھیے

جانے کتنی اڑان باقی ہے

جانے کتنی اڑان باقی ہے اس پرندے میں جان باقی ہے جتنی بٹنی تھی بٹ چکی یہ زمیں اب تو بس آسمان باقی ہے اب وہ دنیا عجیب لگتی ہے جس میں امن و امان باقی ہے امتحاں سے گزر کے کیا دیکھا اک نیا امتحان باقی ہے سر قلم ہوں گے کل یہاں ان کے جن کے منہ میں زبان باقی ہے

مزید پڑھیے

سنا ہے یہ جہاں اچھا تھا پہلے

سنا ہے یہ جہاں اچھا تھا پہلے یہ جو اب دشت ہے دریا تھا پہلے جو ہوتا کون آتا اس جہاں میں کسے دنیا کا اندازہ تھا پہلے بڑی تصویر لٹکا دی ہے اپنی جہاں چھوٹا سا آئینہ تھا پہلے سمجھ میں کچھ نہیں آتا اب اس کی وہ جو اوروں کو سمجھاتا تھا پہلے کیا ایجاد جس نے بھی خدا کو وہ خود کو کیسے ...

مزید پڑھیے

کسی دن زندگانی میں کرشمہ کیوں نہیں ہوتا

کسی دن زندگانی میں کرشمہ کیوں نہیں ہوتا میں ہر دن جاگ تو جاتا ہوں زندہ کیوں نہیں ہوتا مری اک زندگی کے کتنے حصے دار ہیں لیکن کسی کی زندگی میں میرا حصہ کیوں نہیں ہوتا جہاں میں یوں تو ہونے کو بہت کچھ ہوتا رہتا ہے میں جیسا سوچتا ہوں کچھ بھی ویسا کیوں نہیں ہوتا ہمیشہ طنز کرتے ہیں ...

مزید پڑھیے

گھر سے نکلے تھے حوصلہ کر کے

گھر سے نکلے تھے حوصلہ کر کے لوٹ آئے خدا خدا کر کے درد دل پاؤ گے وفا کر کے ہم نے دیکھا ہے تجربہ کر کے لوگ سنتے رہے دماغ کی بات ہم چلے دل کو رہنما کر کے کس نے پایا سکون دنیا میں زندگانی کا سامنا کر کے زندگی تو کبھی نہیں آئی موت آئی ذرا ذرا کر کے

مزید پڑھیے

بن سنور کر جب کبھی وہ گلستاں میں آ گئے

بن سنور کر جب کبھی وہ گلستاں میں آ گئے اور نسریں لالہ و سرو و سمن شرما گئے کوئی آگے ہے کہ پیچھے اس سے کچھ مطلب نہیں غور اس پر کیجیے کہ ہم کہاں تک آ گئے گل کے انساں اور تھے اور آج کے کچھ اور ہیں آج کے انساں کو دیکھو مہر و مہ پر چھا گئے جب بھی آئی کوئی مشکل ہم ہوئے سینہ سپر اور ہوں ...

مزید پڑھیے

یہاں ہر شخص ہر پل حادثہ ہونے سے ڈرتا ہے

یہاں ہر شخص ہر پل حادثہ ہونے سے ڈرتا ہے کھلونا ہے جو مٹی کا فنا ہونے سے ڈرتا ہے مرے دل کے کسی کونے میں اک معصوم سا بچہ بڑوں کی دیکھ کر دنیا بڑا ہونے سے ڈرتا ہے نہ بس میں زندگی اس کے نہ قابو موت پر اس کا مگر انسان پھر بھی کب خدا ہونے سے ڈرتا ہے عجب یہ زندگی کی قید ہے دنیا کا ہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1696 سے 6203