قومی زبان

بیٹھے ہیں تیری بزم میں اک اجنبی سے ہم

بیٹھے ہیں تیری بزم میں اک اجنبی سے ہم اے دوست باز آئے تری دوستی سے ہم رنج و ملال یاس و الم کرب و اضطراب کیا کیا نہ لے کے آئے ہیں تیری گلی سے ہم یہ اور بات ہے کہ محبت ہے ہم سے دور رکھتے نہیں ہیں دل میں کدورت کسی سے ہم بل پیچ پے بہ پے تو شکن موڑ موڑ پر گزرے ہیں موت ہی کی طرح زندگی سے ...

مزید پڑھیے

مجھ سے تو تار تار گریباں نہ ہو سکا

مجھ سے تو تار تار گریباں نہ ہو سکا اے عشق تجھ پہ کوئی بھی احساں نہ ہو سکا اک میں کہ تیری یاد نہ دل سے بھلا سکا اک تو کہ میرے حال کا پرساں نہ ہو سکا وہ آہ کیا جو قہر الٰہی نہ بن سکی وہ اشک کیا جو نوح کا طوفاں نہ ہو سکا کافر بھی میکدے میں مسلمان ہو گئے لیکن حرم میں شیخ مسلماں نہ ہو ...

مزید پڑھیے

غم و رنج و الم کے درمیاں رہنا ہی پڑتا ہے

غم و رنج و الم کے درمیاں رہنا ہی پڑتا ہے جہاں رکھے خدا اے دل وہاں رہنا ہی پڑتا ہے بہار جاں فزا ہو یا خزاں رہنا ہی پڑتا ہے بہ ہر صورت بہ زیر آسماں رہنا ہی پڑتا ہے پریشاں حالیوں میں شادماں تو رہ نہیں سکتے پریشاں حالیوں میں شادماں رہنا ہی پڑتا ہے طلوع زندگانی سے غروب زندگانی ...

مزید پڑھیے

بلواتا ہے عقب سے مرا قافلہ مجھے

بلواتا ہے عقب سے مرا قافلہ مجھے کیسا ملا ہے تند وری کا صلہ مجھے فرقت کے دن گزارنا یوں تو محال تھا اک تیری یاد نے ہی دیا حوصلہ مجھے یہ اور بات ہے کہ میرا ظرف تنگ تھا اپنی طرف سے تو نے تو سب کچھ دیا مجھے جب گردش فلک سے نہ کچھ بات بن سکی دنیائے رنگ و بو کا بنایا خدا مجھے گو فرش پر ...

مزید پڑھیے

قفس پہ برق گرے اور چمن کو آگ لگے

قفس پہ برق گرے اور چمن کو آگ لگے الٰہی گردش چرخ کہن کو آگ لگے سلگ رہی ہیں مرے دل کی حسرتیں ایسے بھری بہار میں جیسے چمن کو آگ لگے ہر ایک قطرۂ شبنم بنا ہے انگارہ عجب نہیں جو گل یاسمن کو آگ لگے نہ پونچھ اشک مرے دیکھ اپنے دامن سے خدا کرے نہ ترے پیرہن کو آگ لگے قسم ہے ہم کو تری چشم ...

مزید پڑھیے

یہ زخم زخم بدن اور نم فضاؤں میں

یہ زخم زخم بدن اور نم فضاؤں میں بھٹک رہا ہوں لیے اضطراب پاؤں میں یہ بے لحاظ نگاہیں یہ اجنبی چہرے پنپ رہا ہے کوئی شہر جیسے گاؤں میں بچا کے موت سے انسان خود کو رکھ لیتا جو گھنگھرو ہوتے کہیں حادثوں کے پاؤں میں یہ ایک روز ہمارا وجود ڈس لے گا اگل رہے ہیں جو یہ زہر ہم ہواؤں میں ہر ...

مزید پڑھیے

سفر کا رخ بدل کر دیکھتا ہوں

سفر کا رخ بدل کر دیکھتا ہوں کچھ اپنی سمت چل کر دیکھتا ہوں مقدر پھول ہیں یا ٹھوکریں پھر کسی پتھر میں ڈھل کر دیکھتا ہوں مجھے دیتی ہے کیا کیا نام دنیا ترے کوچے میں چل کر دیکھتا ہوں تپش بیباکیوں کی کم ہو شاید لہو سورج پہ مل کر دیکھتا ہوں بھروسہ تو نہیں وعدے پہ تیرے مگر پھر بھی بہل ...

مزید پڑھیے

حیات و مرگ کا عقدہ کشا ہونے نہیں دیتا

حیات و مرگ کا عقدہ کشا ہونے نہیں دیتا وہ جانے کیوں مجھے راز آشنا ہونے نہیں دیتا اسے کس درجہ اپنے حسن یکتائی کی چاہت ہے وہ اپنا سا کوئی بھی دوسرا ہونے نہیں دیتا خرد بھٹکائے ہے اکثر دلائل سے عقیدت کو مگر گمراہ تیرا نقش پا ہونے نہیں دیتا جو چھو لوں آسماں پاؤں کی دھرتی کھینچ لیتا ...

مزید پڑھیے

ارم کے نور سے تیرہ مکاں جلائے گئے

ارم کے نور سے تیرہ مکاں جلائے گئے چراغ ہم تھے کہاں کے کہاں جلائے گئے ہمیں کو اس نے پیمبر کیا مشیعت کا ہمیں سے راز مشیعت مگر چھپائے گئے کبھی تو ہم پہ کھلیں گے خوشی کے دروازے اسی امید پہ ہم تیرے غم اٹھائے گئے جو کل تلک رہے آسی خطاب محفل میں وہ لوگ آج ترے نام سے بلائے گئے اگل رہے ...

مزید پڑھیے

وہ چپ رہنے کو کہتے ہیں جو ہم فریاد کرتے ہیں

الٰہی خیر وہ ہر دم نئی بیداد کرتے ہیں ہمیں تہمت لگاتے ہیں جو ہم فریاد کرتے ہیں کبھی آزاد کرتے ہیں کبھی بیداد کرتے ہیں مگر اس پر بھی ہم سو جی سے ان کو یاد کرتے ہیں اسیران قفس سے کاش یہ صیاد کہہ دیتا رہو آزاد ہو کر ہم تمہیں آزاد کرتے ہیں رہا کرتا ہے اہل غم کو کیا کیا انتظار اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1698 سے 6203