بیٹھے ہیں تیری بزم میں اک اجنبی سے ہم
بیٹھے ہیں تیری بزم میں اک اجنبی سے ہم اے دوست باز آئے تری دوستی سے ہم رنج و ملال یاس و الم کرب و اضطراب کیا کیا نہ لے کے آئے ہیں تیری گلی سے ہم یہ اور بات ہے کہ محبت ہے ہم سے دور رکھتے نہیں ہیں دل میں کدورت کسی سے ہم بل پیچ پے بہ پے تو شکن موڑ موڑ پر گزرے ہیں موت ہی کی طرح زندگی سے ...